ڈاکٹر محمد احسن اقبال
قوموں کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ایک حقیقت روزِ روشن کی طرح سامنے آتی ہے کہ کسی بھی معاشرے کی حقیقی طاقت اس کے وسائل، عمارتوں، معیشت یا ٹیکنالوجی میں نہیں بلکہ اس کی نسلِ نو کے کردار، فکر، علم اور اخلاق میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ نوجوان کسی قوم کا صرف مستقبل نہیں ہوتے، بلکہ وہ اس قوم کے حال کی تشکیل بھی کرتے ہیں۔ اگر نسلِ نو کو صحیح فکر، مضبوط کردار، اعلیٰ اخلاق اور مقصدِ زندگی کی واضح سمت میسر ہو تو قومیں عروج کی طرف بڑھتی ہیں، اور اگر یہی نسل فکری انتشار، اخلاقی کمزوری، مایوسی، بے مقصدیت اور منفی رجحانات کا شکار ہوجائے تو ترقی کے تمام ظاہری مظاہر اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔
آج کا نوجوان ایک ایسے دور میں زندگی بسر کر رہا ہے جہاں معلومات کی فراوانی ہے مگر دانائی کی کمی، رابطوں کی کثرت ہے مگر حقیقی تعلقات میں کمزوری، اظہار کی آزادی ہے مگر ذمہ داری کا احساس کم ہوتا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل کلچر، صارفیت، بے ہنگم مسابقت اور بدلتی ہوئی معاشرتی اقدار نے نوجوانوں کے سامنے نئے مواقع بھی پیدا کیے ہیں اور نئے خطرات بھی۔ ایسے ماحول میں سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ ہم اپنی نسلِ نو کو صرف جدید تعلیم کیسے دیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اسے علم کے ساتھ کردار، آزادی کے ساتھ ذمہ داری، ترقی کے ساتھ انسانیت اور ٹیکنالوجی کے ساتھ اخلاق کیسے عطا کریں؟
اس سوال کا سب سے جامع اور زندہ جواب ہمیں سیرتِ رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ میں ملتا ہے۔قرآنِ کریم نے رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس کو اہلِ ایمان کے لیے بہترین نمونہ قرار دیتے ہوئے فرمایا:
یعنی بے شک تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے )الاحزاب: 21(
یہ آیت صرف عبادات یا مذہبی معاملات تک محدود نہیں، بلکہ انسانی زندگی کے ہر شعبے کے لیے ایک جامع رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ نسلِ نو کی تعمیر بھی اسی نبوی منہج سے وابستہ ہے۔
نوجوانوں کی حفاظت: خوف نہیں، اعتماد
رسول اللہ ﷺ نے نوجوانوں کی تربیت محض پابندیوں اور ممانعتوں کے ذریعے نہیں کی، بلکہ انہیں اعتماد، محبت، ذمہ داری اور مقصد عطا کیا۔ آپ ﷺ نے نوجوانوں کو معاشرے کا فعال حصہ بنایا اور ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کیا۔حضرت اسامہ بن زیدؓ کو کم عمری میں لشکر کا سپہ سالار مقرر کرنا اس بات کی روشن مثال ہے کہ اسلام نوجوان کو محض مستقبل کا شہری نہیں سمجھتا بلکہ اسے موجودہ معاشرے کی تعمیر کا ذمہ دار بھی بناتا ہے۔
اسی طرح حضرت علیؓ، حضرت مصعب بن عمیرؓ، حضرت معاذ بن جبلؓ، حضرت زید بن ثابتؓ اور دیگر نوجوان صحابہؓ کی زندگیاں اس امر کی گواہ ہیں کہ نبوی تربیت نے نوجوانوں کو اعتماد، علم، شجاعت، بصیرت اور ذمہ داری سے آراستہ کیا۔
یہاں ہمارے لیے ایک بنیادی سبق ہے:نوجوانوں کو صرف نصیحت کی ضرورت نہیں؛ انہیں اعتماد، مواقع اور ذمہ داری کی ضرورت ہے۔
جس نوجوان کو خاندان، تعلیمی ادارہ اور ریاست اعتماد نہیں دیتے، وہ اکثر اپنی شناخت کہیں اور تلاش کرتا ہے۔ اس لیے نسلِ نو کے تحفظ کا پہلا مرحلہ اسے محبت اور اعتماد کے ساتھ معاشرے سے جوڑنا ہے۔
کردار سازی: تعلیم سے آگے کا سفر
آج تعلیم کو اکثر ڈگری، ملازمت اور معاشی کامیابی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ بلاشبہ تعلیم معاشی ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے، لیکن سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں بتاتی ہے کہ علم اگر کردار سے جدا ہوجائے تو وہ انسان کو کامل نہیں بناتا۔رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے مقاصد میں تزکیۂ نفس اور تعلیم دونوں نمایاں ہیں۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
یعنی رسول ﷺ لوگوں کا تزکیہ کرتے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں) الجمعۃ: 2(
اس ترتیب میں ہمارے لیے ایک گہرا پیغام ہے کہ علم اور کردار ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے۔ہماری نسلِ نو کو انجینئر، ڈاکٹر، استاد، سائنس دان، منتظم، کاروباری شخصیت اور ٹیکنالوجی کے ماہر بنانا ضروری ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ وہ سچا انسان، ذمہ دار شہری، دیانت دار پیشہ ور، بااخلاق فرد اور دوسروں کے حقوق کا پاسبان بھی بنے۔اگر ذہانت موجود ہو مگر دیانت نہ ہو، اختیار ہو مگر انصاف نہ ہو، دولت ہو مگر احساس نہ ہو، اور علم ہو مگر اخلاق نہ ہوں تو معاشرہ ترقی یافتہ ہونے کے باوجود مہذب نہیں کہلا سکتا۔
گھر: نسلِ نو کی پہلی درسگاہ
نسلِ نو کی تعمیر کا آغاز کسی یونیورسٹی یا نصاب سے نہیں بلکہ گھر سے ہوتا ہے۔ والدین بچے کی پہلی درسگاہ اور ان کا کردار پہلی کتاب ہوتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے بچوں کے ساتھ شفقت، محبت اور احترام کا ایسا مثالی رویہ اختیار کیا جس سے تربیت کا ایک عظیم اصول سامنے آتا ہے: جس بچے کو عزت دی جاتی ہے، وہ عزت کرنا سیکھتا ہے؛ جسے محبت ملتی ہے، وہ محبت بانٹنا سیکھتا ہے؛ اور جسے ذمہ داری دی جاتی ہے، وہ ذمہ دار بنتا ہے۔ آج ہمارے گھروں میں ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ والدین بچوں کے لیے وقت کم اور سہولیات زیادہ فراہم کررہے ہیں۔ موبائل، انٹرنیٹ، مہنگے اسکول اور جدید آلات بچے کی ضرورت پوری کرسکتے ہیں، مگر والدین کی توجہ، مکالمہ اور محبت کا متبادل نہیں بن سکتے۔
نسلِ نو کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ گھر میں صرف یہ نہ پوچھا جائے کہ “تم نے کتنے نمبر لیے؟” بلکہ یہ بھی پوچھا جائے کہ “تم نے آج کیا سیکھا؟ کس کی مدد کی؟ کس مشکل کا سامنا کیا؟ اور تمہیں کس چیز نے پریشان کیا؟”
یہ مکالمہ نوجوان کے اندر اعتماد پیدا کرتا ہے اور اسے غلط سمت میں جانے سے پہلے اپنے گھر سے مدد لینے کا حوصلہ دیتا ہے۔
سیرتِ نبوی ﷺ اور نوجوانوں کی فکری تربیت
موجودہ دور کا ایک بڑا بحران فکری انتشار ہے۔ نوجوان مختلف نظریات، معلومات، ثقافتوں اور سوشل میڈیا کے بیانیوں کے درمیان گھرا ہوا ہے۔ ہر شخص اپنے آپ کو درست ثابت کرنے کے لیے ہزاروں دلائل پیش کرسکتا ہے۔ایسے ماحول میں محض معلومات فراہم کرنا کافی نہیں؛ نوجوان کو تنقیدی سوچ، اخلاقی شعور، تحقیق، دلیل اور سچ کی تلاش کا طریقہ سکھانا ہوگا۔
رسول اللہ ﷺ نے صحابہؓ کی تربیت میں سوال، مکالمہ، مشاہدہ، غوروفکر اور عملی تجربے کو اہمیت دی۔ آپ ﷺ نے لوگوں کے سوالات کو نظرانداز نہیں کیا بلکہ ان کے ذہنی اور نفسیاتی حالات کو سمجھتے ہوئے جواب دیا۔یہی وجہ ہے کہ ہمیں نسلِ نو کے ساتھ خطاب کم اور مکالمہ زیادہ کرنا ہوگا۔اگر نوجوان سوال کرتا ہے تو اسے خاموش کرانے کے بجائے سمجھایا جائے۔ اگر وہ کسی مسئلے پر اختلاف کرتا ہے تو اسے دشمن تصور کرنے کے بجائے دلیل سے قائل کیا جائے۔ اگر اسے کسی بات پر شک ہے تو اسے تحقیق کا راستہ دکھایا جائے۔کیونکہ سوال کو دبانے سے ذہن ختم نہیں ہوتا، صرف مکالمہ ختم ہوتا ہے۔
ڈیجیٹل دنیا اور اخلاقی ذمہ داری
آج نوجوان کی دنیا صرف گھر، مدرسہ، اسکول اور یونیورسٹی تک محدود نہیں۔ اس کی ایک بڑی دنیا اسمارٹ فون کی اسکرین پر آباد ہے۔ چند سیکنڈ میں دنیا بھر کا مواد اس کے سامنے موجود ہوتا ہے۔یہ ٹیکنالوجی بذاتِ خود نہ خیر ہے نہ شر؛ اصل سوال اس کے استعمال کا ہے۔ سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں زبان، نظر، وقت، امانت اور دوسروں کے حقوق کی حفاظت کا درس دیتی ہے۔ یہی اصول آج ڈیجیٹل دنیا پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔جھوٹی خبر پھیلانا، کسی کی کردار کشی کرنا، بغیر تحقیق الزام لگانا، نجی معلومات افشا کرنا، نفرت انگیز مواد پھیلانا یا دوسروں کی تضحیک کرنا صرف “آن لائن سرگرمی” نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری کا مسئلہ ہے۔
قرآنِ کریم واضح طور پر تحقیق کی ہدایت دیتا ہے ۔یعنی تحقیق کرلیا کرو(الحجرات: 6)
یہ مختصر قرآنی اصول آج کے ڈیجیٹل دور میں Responsible Digital Citizenship کا بنیادی ضابطہ بن سکتا ہے۔ہمیں اپنے نوجوانوں کو ٹیکنالوجی سے دور نہیں کرنا؛ بلکہ انہیں ٹیکنالوجی کا ذمہ دار، بااخلاق اور تخلیقی صارف بنانا ہے۔
مصنوعی ذہانت کا دور اور سیرت کا اخلاقی سبق
ہم مصنوعی ذہانت کے ایسے دور میں داخل ہوچکے ہیں جہاں مشینیں لکھ سکتی ہیں، تصاویر بنا سکتی ہیں، آوازیں تخلیق کرسکتی ہیں، معلومات کا تجزیہ کرسکتی ہیں اور فیصلہ سازی میں معاونت کرسکتی ہیں۔ مگر ایک سوال اب بھی انسان کے سامنے ہے: مصنوعی ذہانت کیا کر سکتی ہے؟ سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ انسان اسے کس مقصد کے لیے استعمال کرے گا؟
یہاں سیرتِ نبوی ﷺ کی اخلاقی تعلیمات ہماری رہنمائی کرتی ہیں۔ ٹیکنالوجی کی ترقی اگر انسانیت، انصاف، امانت، رازداری، سچائی اور اجتماعی بھلائی سے جڑی ہو تو یہ نعمت بن سکتی ہے؛ لیکن اگر اسے دھوکے، استحصال، نفرت اور فساد کے لیے استعمال کیا جائے تو وہی ترقی نقصان کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
لہٰذا مستقبل کی تعلیم کا مقصد صرف AI-skilled youth پیدا کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ AI-literate, ethically responsible and socially conscious youth تیار کرنا ہونا چاہیے۔
نوجوان اور معاشرتی ذمہ داری
سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں یہ تصور دیتی ہے کہ اچھا مسلمان اور اچھا شہری صرف اپنی ذات کی فکر نہیں کرتا بلکہ معاشرے کی بھلائی میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں ایسا معاشرہ تشکیل دیا جس میں مختلف طبقات، قبائل اور مذاہب کے لوگوں کے حقوق اور ذمہ داریوں کو منظم کیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مضبوط معاشرہ صرف انفرادی عبادات سے نہیں بلکہ عدل، ذمہ داری، باہمی احترام، قانون کی پاسداری اور اجتماعی تعاون سے تشکیل پاتا ہے۔
آج نوجوانوں کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ پاکستان کی تعمیر صرف حکومت، اداروں یا سیاست دانوں کی ذمہ داری نہیں۔ ایک طالب علم کا ایمانداری سے امتحان دینا، ایک استاد کا دیانت داری سے پڑھانا، ایک افسر کا میرٹ پر فیصلہ کرنا، ایک تاجر کا ناپ تول میں انصاف کرنا اور ایک شہری کا قانون کی پاسداری کرنا یہ سب قومی تعمیر کے اعمال ہیں۔
نسلِ نو کے لیے سیرتِ طیبہ کا جامع پیغام
اگر ہم سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں نسلِ نو کے لیے ایک جامع تربیتی خاکہ بنائیں تو اس کے چند بنیادی ستون سامنے آتے ہیں:
ایمان اسے مقصد دیتا ہے۔علم اسے بصیرت دیتا ہے۔اخلاق اسے انسان بناتے ہیں۔ذمہ داری اسے معاشرے کا مفید فرد بناتی ہے۔عدل اسے دوسروں کے حقوق کا محافظ بناتا ہے۔محبت اسے نفرت سے بچاتی ہے۔مکالمہ اسے انتہا پسندی سے محفوظ رکھتا ہے۔محنت اسے خود انحصاری سکھاتی ہے۔ امانت اسے اعتماد کے قابل بناتی ہے۔ اور خدمتِ خلق اسے معاشرے کا اثاثہ بناتی ہے۔یہی وہ اوصاف ہیں جو ایک نوجوان کو محض کامیاب فرد نہیں بلکہ بااصول انسان اور ذمہ دار شہری بناتے ہیں۔
ریاست، تعلیمی اداروں اور معاشرے کا کردار
نسلِ نو کی تربیت صرف والدین کی ذمہ داری قرار دینا بھی درست نہیں۔ یہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ریاست کو ایسا تعلیمی نظام تشکیل دینا ہوگا جس میں جدید سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق، اخلاقیات، شہری ذمہ داری اور انسانی اقدار کو باہم مربوط کیا جائے۔تعلیمی اداروں کو صرف امتحان لینے والے مراکز نہیں بلکہ کردار سازی اور تخلیقی صلاحیتوں کے مراکز بنانا ہوگا۔ اساتذہ کو محض نصاب مکمل کرنے کے بجائے نوجوانوں کے فکری رہنما کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ میڈیا کو نوجوانوں کی ذہنی صحت، علمی ترقی اور مثبت کردار سازی کو ترجیح دینا ہوگی۔اور معاشرے کو کامیابی کا معیار صرف دولت اور عہدہ رکھنے کے بجائے کردار، خدمت، علم اور دیانت کو بھی بنانا ہوگا۔
آخر میں: نسلِ نو کو صرف بچانا نہیں، بنانا ہے
نسلِ نو کا تحفظ محض اس بات کا نام نہیں کہ اسے برائی سے دور رکھا جائے۔ اصل تحفظ یہ ہے کہ اسے اتنا مضبوط، باشعور اور باکردار بنایا جائے کہ وہ خود اچھائی اور برائی میں امتیاز کرسکے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کے ہاتھ سے صرف منفی چیزیں نہیں چھیننی بلکہ ان کے ہاتھ میں کتاب، ہنر، مقصد، تحقیق، تخلیق اور خدمت بھی دینی ہے ۔ہمیں ان کے سامنے صرف ماضی کے کارنامے بیان نہیں کرنے بلکہ انہیں مستقبل تخلیق کرنے کا حوصلہ بھی دینا ہے۔ سیرتِ رسولِ اکرم ﷺ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ انسان کی تعمیر محبت، علم، اخلاق، ذمہ داری اور مقصد کے ذریعے ہوتی ہے۔ اگر ہم واقعی پاکستان کی نسلِ نو کو محفوظ، مضبوط اور کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں سیرتِ طیبہ ﷺ کو صرف محافل اور تقریروں کا موضوع نہیں بلکہ گھر، اسکول، یونیورسٹی، ادارے، میڈیا اور ریاستی پالیسی کی عملی رہنمائی بنانا ہوگا۔ کیونکہ قوموں کی تقدیر صرف ایوانوں میں نہیں لکھی جاتی؛
قوموں کی تقدیر نئی نسل کے ذہن، کردار اور عمل میں تشکیل پاتی ہے۔
اور اگر ہماری نسلِ نو کے ہاتھ میں علم ہو، دل میں ایمان ہو، کردار میں سچائی ہو، ذہن میں تحقیق ہو، عمل میں خدمت ہو اور زندگی میں سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کی روشنی ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان ایک باوقار، مضبوط، علمی، اخلاقی اور ترقی یافتہ معاشرے کے طور پر دنیا میں اپنا مقام حاصل نہ کرے۔ نسلِ نو ہماری ذمہ داری بھی ہے، ہماری امید بھی اور ہمارا مستقبل بھی۔
اس مستقبل کی تعمیر سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کی روشنی میں ہی سب سے محفوظ راستہ ہے۔