انجینئر بخت سید یوسفزئی
برطانیہ کے مصروف ترین ہیتھرو ایئرپورٹ سمیت متعدد بڑے ہوائی اڈوں پر منگل 8 ستمبر کو فضائی سفر شدید متاثر ہوا۔ سینکڑوں پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں، جبکہ ہزاروں مسافروں کو طویل انتظار اور اپنے سفری منصوبوں میں اچانک تبدیلی کا سامنا کرنا پڑا۔
اس بحران کی بنیادی وجہ ہیتھرو ایئرپورٹ کا اپنا نظام نہیں بلکہ برطانیہ کے ایئر ٹریفک کنٹرول ادارے نیشنل ایئر ٹریفک سروسز (NATS) کے فلائٹ پروسیسنگ سسٹم میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی تھی۔ خرابی کے باعث طیاروں کی آمد و رفت کو معمول کے مطابق منظم کرنا مشکل ہوگیا۔ NATS برطانیہ کی فضائی حدود میں طیاروں کی محفوظ اور منظم نقل و حرکت میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے اہم نظام میں خرابی پیدا ہونے کی صورت میں اس کے اثرات صرف ایک ایئرپورٹ تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے فضائی نیٹ ورک میں تاخیر کا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔
ابتدائی طور پر روانگی کی پروازیں زیادہ متاثر ہوئیں، تاہم صورتحال آگے بڑھنے کے ساتھ آنے والی پروازوں پر بھی اثر پڑا۔ ہیتھرو کے ٹرمینلز پر مسافروں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی اور کئی افراد کو اپنی پرواز کے حتمی وقت کے بارے میں انتظار کرنا پڑا۔
مسئلے کا دائرہ ہیتھرو تک محدود نہیں رہا بلکہ گیٹ وِک، مانچسٹر، اسٹینسٹیڈ، برمنگھم اور دیگر ہوائی اڈوں پر بھی پروازوں کے شیڈول متاثر ہوئے۔ اس وسیع رکاوٹ نے برطانیہ کے فضائی نظام کے باہمی انحصار کو نمایاں کردیا۔
رپورٹس کے مطابق برطانیہ بھر میں 600 سے زائد پروازیں منسوخ ہوئیں جبکہ سینکڑوں مزید پروازیں کئی گھنٹوں کی تاخیر کا شکار رہیں۔ اس صورتحال سے ایئرلائنز کو مالی نقصان کے ساتھ مسافروں کو بھی اضافی اخراجات اور سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ہیتھرو کی اہمیت کے باعث یہاں پیدا ہونے والی رکاوٹ کے اثرات برطانیہ سے باہر بھی محسوس ہوئے۔ برطانیہ سے آنے اور جانے والی پروازوں میں تبدیلی کے باعث یورپ کے دیگر ہوائی اڈوں پر بھی مسافر اور طیارے متاثر ہوئے۔
برٹش ایئرویز سمیت متعدد بڑی فضائی کمپنیوں کو اپنے شیڈول میں تبدیلیاں کرنا پڑیں۔ ریان ایئر نے بھی بڑی تعداد میں مسافروں کے متاثر ہونے کی اطلاع دی اور NATS کے نظام کی قابلِ اعتماد کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔
ریان ایئر کے مطابق اس بحران سے اس کے تقریباً 65 ہزار سے زائد مسافر متاثر ہوئے۔ کمپنی نے NATS کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فضائی ٹریفک کنٹرول میں بار بار پیدا ہونے والی بڑی رکاوٹیں مسافروں اور ایئرلائنز دونوں کے لیے ناقابلِ قبول مشکلات پیدا کرتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق فضائی سفر ایک انتہائی مربوط نظام ہے، جہاں ایک پرواز کی تاخیر کئی دوسری پروازوں کو متاثر کرسکتی ہے۔ اگر کوئی طیارہ اپنی منزل پر وقت پر نہ پہنچے تو وہ اگلی پرواز بھی مقررہ وقت پر نہیں چلا پاتا۔
اسی طرح طیاروں کے ساتھ پائلٹس اور دیگر عملے کے شیڈول بھی متاثر ہوتے ہیں۔ کئی گھنٹوں کی رکاوٹ کے بعد طیاروں اور عملے کو دوبارہ مختلف مقامات پر ترتیب دینا پڑتا ہے، جس کے باعث تکنیکی مسئلہ حل ہونے کے باوجود تاخیر فوری طور پر ختم نہیں ہوتی۔ NATS نے تکنیکی خرابی کی نشاندہی کے بعد اسے دور کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیا۔ ادارے کے مطابق مسئلہ اس کے فلائٹ پروسیسنگ سسٹم میں تھا اور اسے معمول پر لانے کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے۔
بعد میں NATS نے بتایا کہ مسئلے کے حل کے لیے ایک فکس نافذ کردیا گیا ہے۔ تاہم کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی رکاوٹ کے باعث پروازوں کا معمول کا شیڈول فوری طور پر بحال نہیں ہوسکا اور مسافروں کو مزید تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔
اہم بات یہ ہے کہ برطانیہ کی فضائی حدود مکمل طور پر بند نہیں ہوئیں بلکہ دستیاب فضائی ٹریفک کنٹرول صلاحیت کے مطابق پروازوں کی روانی کو محدود اور منظم کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد صورتحال کے دوران فضائی سفر کو محفوظ رکھنا تھا۔
ہیتھرو نے مسافروں کو ہدایت کی کہ وہ ایئرپورٹ روانہ ہونے سے پہلے اپنی ایئرلائن سے پرواز کی تازہ ترین صورتحال معلوم کریں۔ منسوخ یا غیر یقینی پروازوں کے مسافروں کو ایئرپورٹ آنے سے پہلے نئی ہدایات کا انتظار کرنے کا مشورہ دیا گیا۔
موجودہ واقعے نے ایک بار پھر برطانیہ کے فضائی ٹریفک کنٹرول نظام کی مضبوطی اور قابلِ اعتماد کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں بھی تکنیکی مسائل کے باعث بڑے پیمانے پر پروازیں متاثر ہوچکی ہیں۔
2023 میں NATS کے ایک بڑے فلائٹ پلاننگ مسئلے کے بعد بھی برطانیہ کے فضائی نظام کی استعداد اور ہنگامی انتظامات پر سوال اٹھے تھے۔ موجودہ واقعے کے بعد ایئرلائنز کی جانب سے دوبارہ ایسے نظام کو مزید مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
کچھ ایئرلائنز نے NATS پر شدید تنقید کرتے ہوئے بنیادی اصلاحات اور ذمہ داری کے تعین کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ فضائی ٹریفک کنٹرول جیسی اہم قومی سہولت میں طویل اور بار بار ہونے والی تکنیکی رکاوٹیں قابلِ قبول نہیں ہونی چاہئیں۔
برطانوی حکومت نے بھی صورتحال کا نوٹس لیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ فضائی ٹریفک کنٹرول کا نظام مضبوط اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق قابلِ اعتماد ہونا چاہیے۔ واقعے کی مکمل وجوہات اور مستقبل میں اس کی روک تھام کے اقدامات مزید تحقیقات کے بعد واضح ہوں گے۔
مسافروں کے لیے تشویش کی بات یہ ہے کہ آج کی منسوخی اور تاخیر کا اثر اگلے دن کی پروازوں تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ طیاروں اور عملے کے شیڈول دوبارہ ترتیب دینے میں وقت لگنے کے باعث ہیتھرو سمیت دیگر ہوائی اڈوں پر معمول کی صورتحال بحال ہونے میں کچھ وقت درکار ہوگا۔
جدید فضائی سفر صرف طیاروں اور ایئرپورٹ کے رن وے پر منحصر نہیں بلکہ پیچیدہ ڈیجیٹل نظام بھی اس کا بنیادی حصہ ہیں۔ ان نظاموں میں چند گھنٹوں کی خرابی ہزاروں پروازوں اور لاکھوں مسافروں کے سفری منصوبوں کو متاثر کرسکتی ہے۔