صدرمسلم کانفرنس و سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردارعتیق احمد خان کی راولپنڈی میں سابق صدر و وزیراعظم آزادکشمیر سردار محمد یعقوب خان سے ملاقات

(پنڈی پوسٹ نیوز)ممبر اسمبلی فرزانہ یعقوب بھی اس موقع پر موجود ہیں۔ پونچھ دھرنے اور آزادکشمیر کی صورتحال پر سیر حاصل گفتگو اور تبادلہ خیال ،دونوں رہنماؤں کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا کہ غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کے گھر سری نگر میں 19جولائی 1947 مسلم کانفرنس کی قرارداد الحاق پاکستان، کشمیر بنے گا پاکستان، آزادکشمیر کی داخلی خودمختاری، آزاد کشمیر کی موجودہ حیثیت میں کمی یا تبدیلی، موجودہ آئین کے مطابق آزاد حکومت کو حاصل اختیارات اور ریاستی تشخص پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ آزادکشمیر میں امن و امان کی تیزی کے ساتھ بگڑتی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور اسے جلد از جلد بہتر کرنے کے لیے اقدامات پر اتفاق ہوا۔

پونچھ دھرنے سے پیدا ہونے والی صورتحال جس میں ضلع پونچھ کا عام سادہ لوح اور محب وطن شخص دن بدن سنگین مشکلات کا شکار ہوتا جا رہا ہے اس پر حکومت آزادکشمیر اور حکومت پاکستان کو فوری توجہ دینا ہوگی۔ جہاں تک احتجاج کرنے والوں کا تعلق ہے ان میں سے جن لوگوں کے متعلق آئین اور قانون کو کوئی جائز شکایت اور کسی بات کا قابل ذکر ثبوت موجود ہے ان معاملات کو آئین اور قانون کے مطابق یکسو کیا جائے لیکن مطالبات اور مسائل سے وابستہ ضلع پونچھ کا عام آدمی جو اس عمل کا حصہ ہے اسکے ساتھ افہام و تفہیم کے لیے باوقار، پرامن اور مذاکراتی حل کا راستہ تلاش کیا جائے۔

چند لوگوں کے کسی جذباتی یا غیر قانونی ردعمل کی کوئی سزا ضلع پونچھ کے عام آدمی کو نہیں دی جاسکتی۔پونچھ کے لوگ تاریخی اور روایتی اعتبار سے آئین اور قانون پر پہرہ دینے، اپنے آزادی کے حصول اور حاصل شدہ آزادی ہر پہرہ دینے والے اور پاکستان سے محبت اور پاکستان کا دفاع کرنے والے لوگ ہیں ان پر کی جانے والی بے جاسختیاں کسی صورت مثبت نتائج پیدا نہیں کرسکتی۔

دھرنے کے بعض شرکاء کے پاس انٹرنیٹ سمیت دیگر کئی سہولیات موجود ہیں لیکن عام آدمی کے لیے اشیائے خورد و نوش، ضروریات زندگی اور ادویات کی ترسیل کو بلا تاخیر یقینی بنایا جائے۔ انٹر نیٹ کی بحالی میں تاخیر سے بے شمار طلباء و طالبات کی تعلیمی سرگرمیاں اور بڑی تعداد میں روز مرہ لوگوں کا کاروبار متاثر ہورہا ہے اس لیے جتنا جلد ممکن ہو انٹرنیٹ سروس بحال کی جائے۔

ضلع پونچھ کے عوام کو زیادہ دیر تک جمہوری عمل سے باہر رکھنا کسی طرح بھی دانشمندانہ اقدام نہیں ہے لہذا جتنا جلد ممکن ہو پونچھ کی 16لاکھ سے زائد آبادی کے رائے دہندگان کو جمہوری عمل اور کار حکومت میں شریک کیا جائے۔اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ضلع پونچھ کے محب وطن لوگوں پر کسی قسم کے انتظامی جبر و تشدد یا طاقت کے استعمال سے گریز کیا جائے۔آزادکشمیر میں انتظامی اور سیاسی حکمت عملی کی کوئی بھی غلطی پاکستان کے مفاد میں نہیں ہوسکتی