
شبیر احمد ملکؒ 1959ء میں ضلع تلہ گنگ کے گاؤں ڈھلی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے کے سکولوں سے حاصل کی۔ جبکہ اعلیٰ تعلیم ڈگری کالج تلہ گنگ سے حاصل کی۔ زمانۂ طالب علمی ہی سے ان میں قائدانہ صلاحیتیں، جرأتِ اظہار اور دینی جذبہ نمایاں تھا۔ اسی بنا پر وہ اسلامی جمعیت طلبہ ڈگری کالج تلہ گنگ کے ناظم منتخب ہوئے اور ایک بے باک، باصلاحیت اور فعال طلبہ رہنما کے طور پر شہرت حاصل کی۔
زمانۂ طالب علمی میں انہیں مطالعے، تحریر اور ڈائری لکھنے کا غیر معمولی شوق تھا۔ وہ روزانہ باقاعدگی سے اپنی ڈائری تحریر کرتے، جس میں اپنے مشاہدات، دینی و فکری خیالات، قومی حالات اور ذاتی محاسبے کو قلم بند کرتے تھے۔ ان کی ڈائریوں میں بارہا پاکستان سے بے پناہ محبت، اسلامی اقدار سے وابستگی اور اس خواہش کا اظہار ملتا ہے کہ پاکستان میں قرآن و سنت پر مبنی اسلامی نظام نافذ ہو، تاکہ ملک حقیقی معنوں میں ایک اسلامی، فلاحی اور عادلانہ ریاست بن سکے۔
کتب بینی ان کا محبوب مشغلہ تھی، یہاں تک کہ وہ تقریباً ہر ماہ ایک نئی کتاب خرید کر اپنی ذاتی لائبریری میں شامل کرتے تھے۔ مختلف علمی، دینی، ادبی اور فکری موضوعات کا گہرا مطالعہ ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا۔ وہ بالخصوص مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور مولانا امین احسن اصلاحیؒ کی تصانیف بڑے ذوق و شوق سے پڑھتے تھے۔ ان بزرگ اہلِ علم کی فکر نے ان کی دینی بصیرت، فکری پختگی اور دعوتی شعور کو مزید نکھارا۔
اسی دور میں انہیں اخبارات میں کالم لکھنے کا بھی شوق تھا، جہاں وہ معاشرتی، تعلیمی اور دینی موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے۔ یہی مطالعہ اور تحریر بعد میں ان کی فکری پختگی، قائدانہ صلاحیتوں اور مؤثر گفتگو کا سبب بنی۔
ان کی خوشخطی غیر معمولی تھی۔ ان کا ہر لفظ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کسی ماہر خطاط یا مصور نے نہایت نفاست سے تحریر کیا ہو۔ وہ اپنی خوبصورت لکھائی کو اپنے نانا محترم ملک کرم الٰہی مرحوم (ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر) کی قیمتی وراثت قرار دیتے تھے، جن سے انہیں حسنِ تحریر، علم دوستی اور تعلیمی ذوق ورثے میں ملا۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں O.G-I (کلاس ون آفیسر) کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ وقت کی پابندی، دیانت داری، خوش اخلاقی اور خوش لباسی کے لیے معروف تھے۔ وہ خود کہا کرتے تھے کہ وقت کی پابندی، اصول پسندی اور دیانت داری انہیں اپنے دادا محترم ملک غلام محمد مرحوم (ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر) اور والد محترم ملک محمد نواز مرحوم (ریٹائرڈ اے ای او) سے وراثت میں ملی ہے۔ انہوں نے پوری زندگی ان خاندانی روایات کو نہایت احسن انداز میں نبھایا۔
خوش لباس ہونا ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا، جبکہ اعلیٰ کردار، امانت و دیانت، سادگی، خلوص اور شرافت ان کی زندگی کا عملی نمونہ تھے۔ ان کی شخصیت خلوص، دیانت داری اور انسان دوستی سے کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ وہ سچے عاشقِ رسول ﷺ تھے اور حضور اکرم ﷺ سے والہانہ محبت ان کے کردار، گفتگو اور طرزِ زندگی سے نمایاں ہوتی تھی۔ عشقِ رسول ﷺ کے اظہار کے طور پر انہیں مقدس اسلامی مقامات کی زیارت کا بھی شوق تھا، اور اسی جذبے کے تحت انہوں نے ایران کا سفر بھی کیا تاکہ وہاں موجود اہلِ بیتؓ اور دیگر اسلامی شخصیات سے منسوب تاریخی مقامات کی زیارت کر سکیں۔ ملازمت کے دوران انہوں نے ہمیشہ اصولوں، انصاف اور امانت داری کو مقدم رکھا، جس کی وجہ سے ساتھیوں اور افسران انہیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
شبیر احمد ملکؒ نے اپنی زندگی دینِ اسلام کی سربلندی، پاکستان کی خدمت اور عوامی فلاح کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ انہیں اپنے وطن پاکستان سے بے حد محبت تھی، اور وہ اس کی ترقی، استحکام اور اسلامی شناخت کو اپنی زندگی کا اہم مقصد سمجھتے تھے۔ اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستگی کے بعد جماعت اسلامی میں بھرپور کردار ادا کیا اور تحریکِ محنت راولپنڈی کے ضلعی صدر کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دیں۔ وہ کارکنان کی تربیت، تنظیمی امور اور معاشرتی اصلاح کے کاموں میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔
ان کی زندگی کا ایک روشن پہلو خدمتِ خلق تھا۔ وہ خاموشی کے ساتھ بیواؤں، یتیموں اور مستحق خاندانوں کی مدد کرتے تھے۔ خصوصاً بیواؤں کی خدمت کو وہ اپنا فرضِ عین سمجھتے تھے۔ ضرورت مندوں کی معاونت کو وہ اپنی دینی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری تصور کرتے تھے۔ ان کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی تھی کہ کسی مستحق کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو، اس لیے اکثر اپنی فلاحی سرگرمیاں مکمل رازداری سے انجام دیتے تھے۔
تحریکی جدوجہد کے دوران انہیں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔ واجپائی کے دورۂ لاہور کے موقع پر وہ کیمپ جیل میں بندِ سلاسل رہے، لیکن مشکلات اور آزمائشیں ان کے عزم و استقلال کو متزلزل نہ کر سکیں۔
زندگی کے آخری ایام میں جب وہ برین ٹیومر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوئے تو انہوں نے غیر معمولی صبر، حوصلے اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کا مظاہرہ کیا۔ شدید بیماری اور تکلیف کے باوجود ان کے چہرے پر اطمینان، زبان پر شکر اور دل میں اللہ کی رضا پر راضی رہنے کا جذبہ نمایاں رہا۔ انہوں نے کبھی مایوسی یا شکوہ کو اپنے قریب نہ آنے دیا اور ثابت قدمی کے ساتھ اس آزمائش کا سامنا کیا، جو ان کے مضبوط ایمان اور بلند کردار کی روشن مثال ہے۔
19 دسمبر 2000ء کو برین ٹیومر کے باعث وہ اپنے رب کے حضور حاضر ہوگئے۔ ان کی وفات جماعت اسلامی، تحریکِ محنت، دوست احباب اور کارکنان کے لیے ایک بڑا نقصان تھی، تاہم ان کی خدمات، کردار، اخلاص اور قربانیاں آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
شبیر احمد ملکؒ ایک دینی اور تحریکی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد ملک محمد نواز مرحوم جماعت اسلامی ضلع چکوال کے سابق امیر تھے۔ ان کے تین بھائی تھے، جن میں سے ایک کا بچپن ہی میں انتقال ہوگیا تھا۔ بڑے بھائی ملک محمد مسعود اختر حبیب بینک سے منیجر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے اور آج کل تلہ گنگ میں رہائش پذیر ہیں، جبکہ چھوٹے بھائی نذیر احمد ملک پاک فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد آج کل راولپنڈی میں جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن کی مختلف ذمہ داریوں میں مصروفِ عمل ہیں۔ خاندان کے دیگر افراد بھی دینی، سماجی اور قومی خدمات میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے شبیر احمد ملکؒ کو تین بیٹوں سے نوازا۔ ایک شعبۂ تعلیم سے وابستہ ہیں، دوسرے سعودی عرب میں جبکہ تیسرے اسپین میں اپنی پیشہ ورانہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی اولاد اپنے والد کی نیک نامی، دیانت داری، اعلیٰ کردار اور خدمتِ خلق کے جذبے کو اپنا قیمتی سرمایہ سمجھتی ہے۔
وہ نہایت نفیس، نرم گفتار اور مسکراتے رہنے والے انسان تھے۔ اختلافِ رائے کے باوجود کسی کی دل آزاری نہیں کرتے تھے اور اپنے اخلاق سے لوگوں کے دل جیت لیتے تھے۔
شبیر احمد ملکؒ بے شمار دوست، ساتھی اور چاہنے والے چھوڑ گئے، جو آج بھی ان کے حسنِ اخلاق، خوش لباسی، اعلیٰ کردار، دیانت داری، بے لوث خلوص، مطالعے کے شوق، خوشخطی، علم دوستی، ڈائری نویسی، پاکستان سے محبت، اسلامی نظام کے لیے ان کی جدوجہد، قربانیوں اور عوامی خدمات کو محبت اور احترام کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ ان کی پوری زندگی آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ اخلاص، علم دوستی، دیانت داری، خدمتِ دین، حب الوطنی اور خدمتِ خلق انسان کو ہمیشہ زندہ رکھتی ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، ان کی خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے اور ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔