
راولپنڈی: جماعت اسلامی ضلع راولپنڈی کے زیرِ اہتمام ’’مثالی تحریکی مساجد‘‘ کے عنوان سے ایک تربیتی و فکری ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں راولپنڈی بھر سے جماعت اسلامی سے وابستہ مساجد و مدارس کے ائمہ، خطباء اور ذمہ داران نے شرکت کی۔
پروگرام کا آغاز قاری عبدالحفیظ منصوری کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جبکہ مفتی گلزار احمد منصوری نے ہدیۂ نعت پیش کیا۔ شرکاء کا تعارف کرایا گیا اور ابتدائی گفتگو جمعیت اتحاد العلماء پنجاب کے جنرل سیکرٹری مولانا عبدالرحیم بابر نے کی۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے پروگرام باہمی رابطے، تجربات کے تبادلے اور دینی و فلاحی سرگرمیوں کو مؤثر بنانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ انہوں نے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر مفتی عطاء الرحمن کی تشریف آوری پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
افتتاحی خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی ضلع راولپنڈی مولانا سید عارف حسین شاہ شیرازی نے کہا کہ مساجد معاشرے کی اصلاح اور امت کی تربیت کے بنیادی مراکز ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ائمہ و خطباء لوگوں کو قرآن اور دین کے ساتھ جوڑیں اور مساجد کو چوبیس گھنٹے فعال دینی و سماجی مراکز بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ راولپنڈی میں جمعیت طلبہ عربیہ کے سابقین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو علمی اور فکری صلاحیتوں سے مالا مال ہے اور ان کی خدمات سے بھرپور استفادہ کیا جانا چاہیے۔
ورکشاپ کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر مفتی عطاء الرحمن، مدیر مراکزِ قرآن و سنت کراچی اور شیخ الحدیث جامعۃ الحرمین کراچی، نے ’’مثالی تحریکی مسجد‘‘ کے خدوخال پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسجد، امام، مقتدی، انتظامیہ اور اسلامی تحریک کے باہمی تعاون سے ایک مثالی مسجد قائم کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیت اللہ، مسجد قباء اور مسجد نبویؐ دین کی اساس اور دعوتِ اسلامی کے اولین مراکز ہیں، لہٰذا آج بھی مساجد کو نماز کے ساتھ تعلیم، تربیت، دعوت اور سماجی خدمت کا مرکز بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے ائمہ و خطباء کو وقت کی پابندی، درست تجوید و قرأت، اسلامی وضع قطع اور عوام کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ مساجد میں ناظرہ و حفظِ قرآن، دروسِ قرآن و حدیث، فقہی کلاسز، استقبالِ رمضان، دورۂ تفسیر، حج و عمرہ تربیتی پروگرام، قربانی کی عملی تربیت، سیرت النبیؐ کانفرنسز اور سوال و جواب کی نشستوں کا باقاعدہ اہتمام ہونا چاہیے۔
ڈاکٹر مفتی عطاء الرحمن نے اس امر پر بھی زور دیا کہ مساجد کو سماجی بہبود اور صحت عامہ کے مراکز کے طور پر بھی فعال بنایا جائے۔ مختلف شعبوں کے ڈاکٹروں، ماہرینِ صحت اور سماجی کارکنوں کو عوامی آگاہی کے لیے مدعو کیا جائے، جبکہ خلع، طلاق، ثالثی اور عوامی رہنمائی کے امور میں بھی مساجد اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔
انہوں نے خواتین کی دینی و تربیتی سرگرمیوں کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ خواتین معاشرے کا نصف حصہ ہیں، اس لیے ان کے لیے الگ اجتماعات، تربیتی پروگرام اور بنات کے مدارس کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے بچوں کو مسجد سے جوڑنے، ان کی تعلیمی معاونت، کیریئر کونسلنگ اور مثبت تربیت کے لیے خصوصی اقدامات پر بھی زور دیا۔
صدر شعبہ مساجد و مدارس جماعت اسلامی پنجاب مفتی خالد عمران خالد نے اپنے خطاب میں کہا کہ دینی مدارس کی تاریخ عہدِ نبویؐ کے صفہ سے شروع ہو کر دارالعلوم دیوبند، ندوۃ العلماء اور پاکستان کے عظیم دینی اداروں تک پھیلی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس نے لاکھوں طلبہ کو تعلیم، تربیت اور سہارا فراہم کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر مفتی عطاء الرحمن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے راولپنڈی میں مراکزِ قرآن و سنت کے طرز پر مزید ادارے قائم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
جمعیت اتحاد العلماء راولپنڈی کے صدر مولانا عثمان عثمانی نے کہا کہ دینی مدارس کے طلبہ کو عصری مہارتوں اور ہنر سے بھی آراستہ کیا جانا چاہیے تاکہ وہ بہتر معاشی اور سماجی کردار ادا کر سکیں۔ مولانا عبدالحفیظ منصوری نے کہا کہ مدارس کے طلبہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں اور جماعت اسلامی کے تعلیمی ادارے دینی و عصری علوم کا حسین امتزاج پیش کر رہے ہیں۔
ورکشاپ میں مولانامفتی ساجدجمیل۔ مولانا مفتی شاہ فہد مولانا فضل منصوری، مولانا سمیع الحق منصوری، مولانا سمیع الحق چترالی، مولانا شہزاد عالم، پیرزادہ الطاف حسین کشمیری، مولانا زبیر مجاہد، مولانا شوکت ندیم، مولانا شاہد محمود، مولانا جاوید اختر اور دیگر علماء کرام نے بھی اپنے تجربات اور تجاویز پیش کیں۔
پروگرام کے اختتام پر جماعت اسلامی ضلع راولپنڈی کے جنرل سیکرٹری مولانا عثمان اکاش کی جانب سے شرکاء کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا گیا، جبکہ ڈاکٹر مفتی عطاء الرحمن کی دعا کے ساتھ ورکشاپ اختتام پذیر ہوئی