آدھی آئینی مدت، حلقہ پی پی 11 ترقیاتی کام اور عوامی توقعات

موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت کا نصف، یعنی تقریباً اڑھائی سال مکمل کر چکی ہے۔ اس عرصے میں ایک طرف مہنگائی نے عوام کو شدید متاثر کیا، تو دوسری جانب مختلف حلقوں میں ترقیاتی منصوبوں پر بھی کام ہوتا رہا۔ اگر حلقہ پی پی 11 کی بات کی جائے تو یہاں سے پہلی مرتبہ منتخب ہونے والے رکن صوبائی اسمبلی چوہدری عمران الیاس نے اپنے حلقے میں بنیادی انفراسٹرکچر کی بہتری پر خصوصی توجہ دی ہے۔


اس عرصے میں سب سے نمایاں منصوبہ اڈیالہ روڈ کی کشادگی اور توسیع ہے، جس سے نہ صرف ٹریفک کی روانی بہتر ہوئی بلکہ روزانہ سفر کرنے والے ہزاروں شہریوں کو بھی سہولت میسر آئی۔ اس کے علاوہ حلقے کی مختلف یونین کونسلوں میں سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر و مرمت پر بھی کروڑوں روپے خرچ کیے گئے۔

یونین کونسل کلیال میں مدینہ کالونی کی تقریباً ایک کلومیٹر سڑک، صحافی کالونی، کلری گاؤں اور ڈھوک محمدین چوک تا لالہ زار اسٹریٹ کی تعمیر و بحالی مکمل کی گئی۔ اسی طرح جراہی اسٹاپ سے خیابان جناح تک سڑک کی تعمیر بھی اہم منصوبوں میں شامل ہے دیگر منصوبوں میں دھمیال سکول سے موہڑہ فقیراں تک روڈ، شگاف پل، موہڑہ چھپر تا لکھن، کشمیر کالونی تا مغل کالونی، یونین کونسل چک جلال دین میں ڈھوک سیداں سے پی ایس او پمپ تک مکمل نئی سڑک جبکہ باقی حصے کی مرمت، اور جوڑیاں تا محمد نگر روڈ کی تعمیر و بحالی شامل ہیں اسکے علاوہ بھی حلقہ پی پی گیارہ کی تقریباً تمام یونین کونسل میں ترقیاتی کام کروائے گئے ان منصوبوں سے دیہی علاقوں کے مکینوں کی آمدورفت میں واضح آسانی پیدا ہوئی ہے۔


حلقے کا ایک اہم منصوبہ ڈھوک لال شاہ کے مقام پر تقریباً پانچ کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا پل ہے، جس نے اڈیالہ روڈ کو جوڑیاں اور آگے چکری روڈ سے منسلک کر دیا۔ اس پل کی تعمیر سے نہ صرف سفر کا دورانیہ کم ہوا بلکہ متبادل راستہ بھی میسر آ گیا۔


پینے کے پانی کے مسئلے کے حل کے لیے بھی کچھ پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ موہری غزن واٹر سپلائی اسکیم پر سولر سسٹم نصب کیا گیا، جس سے بجلی کے بھاری بلوں اور بار بار کنکشن منقطع ہونے کے مسئلے پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ اسی طرح کلیال واٹر سپلائی اسکیم، جو گزشتہ دور حکومت میں منظور ہوئی تھی مگر نامکمل تھی، اب اس میں پانی کے کنکشن لگنے کا عمل شروع ہو چکا ہے اور امید ہے کہ جلد مقامی آبادی کو صاف پانی کی فراہمی ممکن ہو جائے گی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک رکن صوبائی اسمبلی کے ترقیاتی فنڈز سے تقریباً 48 کروڑ روپے کے منصوبے مکمل یا زیر تکمیل ہیں، جبکہ اسی حلقے میں رکن قومی اسمبلی کے فنڈز سے بھی 25 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے ترقیاتی کام کروائے جا چکے ہیں۔


آئندہ منصوبوں میں مبارک لائن سے حیال چوک تک ٹف ٹائل لگانے کی تجویز حکومت کو ارسال کی جا چکی ہے، جس کی منظوری کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ اس منصوبے سے اڈیالہ روڈ اور چکری روڈ کے درمیان رابطہ مزید بہتر ہوگا۔ علاوہ ازیں حکومت پنجاب نے کلیال اور کوٹھا خورد کو ماڈل ویلج قرار دیا ہے، جہاں جلد ترقیاتی کاموں کا آغاز متوقع ہے


اگرچہ ان ترقیاتی منصوبوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، تاہم حلقے میں اب بھی کئی بنیادی مسائل موجود ہیں جن پر فوری توجہ درکار ہے۔ سب سے اہم مسئلہ تعلیمی اداروں، خصوصاً لڑکیوں کے کالج کا نہ ہونا ہے۔ طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے لیے دور دراز علاقوں کا رخ کرنا پڑتا ہے، اس لیے ایک سرکاری گرلز کالج کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے خاص طور پر اڈیالہ روڈ اور اسکی ملحقہ آبادیوں کے لیے سرکاری کالج نہ ہونے کے سبب پرائیویٹ کالجز میں بھاری نفری فیسیں دے کر بچوں کو تعلیم دلوانے پر مجبور ہیں اور بیشتر والدین فیس افورڈ نہ کرنے کے سبب بچوں کو آگے تعلیم دلوا نہیں سکتے
اسی طرح پانی کا مسئلہ آج بھی مکمل طور پر حل نہیں ہو سکا۔ اڈیالہ روڈ پر قائم واٹر سپلائی منصوبوں پر اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود متعدد علاقے آج بھی صاف پانی سے محروم ہیں۔ جب تک چہان ڈیم کا منصوبہ مکمل نہیں ہوتا، اس وقت تک پانی کی منصفانہ اور مستقل فراہمی کے لیے مؤثر متبادل نظام قائم کرنا ناگزیر ہے۔


حلقے کے بنیادی مراکز صحت بھی توجہ کے منتظر ہیں، جہاں ادویات، ڈاکٹرز اور دیگر طبی سہولیات کی کمی کے باعث شہریوں کو یا تو دور دراز ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے یا نجی علاج پر بھاری اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں اس لیے اگر اس حلقے میں ہسپتال کا قیام وقتی طور پر مشکل تو یہاں موجود بیسک ہیلتھ یونٹس پر توجہ دے کر انکو فعال کیا جائے تاکہ لوگوں کو انکی دہلیز پر صحت کی سہولیات میسر آسکیں


مجموعی طور پر دیکھا جائے تو چوہدری عمران الیاس نے اپنی پہلی آئینی مدت کے ابتدائی اڑھائی برسوں میں انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے قابل ذکر کام کیے ہیں اور اس حلقے کی تمام یوسیز میں کام کروائے ہیں تاہم عوام کی حقیقی توقعات صرف سڑکوں تک محدود نہیں بلکہ تعلیم، صحت، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی سے بھی وابستہ ہیں۔ امید کی جا سکتی ہے کہ مدت کے باقی ماندہ حصے میں ترقیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ ان بنیادی مسائل کے حل پر بھی بھرپور توجہ دی جائے گی تاکہ حلقے کے عوام کو حقیقی معنوں میں بہتر معیارِ زندگی میسر آ سکے