(پنڈی پوسٹ نیوز)وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد موٹرسائیکل سواروں، چھوٹے کسانوں اور عوامی و مال بردار ٹرانسپورٹ آپریٹرز کے لیے جاری ایندھن سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔یہ فیصلہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی زیر صدارت قومی اسٹیئرنگ کمیٹی برائے فیول سبسڈی کے اجلاس میں کیا گیا۔اجلاس میں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں مختلف طبقات کے لیے سبسڈی پروگرام کے نفاذ اور اس کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
جاری اعلامیے کے مطابق کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں واضح کمی آ چکی ہے اور اس کمی کا فائدہ پہلے ہی صارفین تک منتقل ہو چکا ہے، جس کے باعث سبسڈی اسکیم کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
اس بنیاد پر وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری سے سبسڈی پروگرام ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اجلاس میں کمیٹی کی کارکردگی اور بین الصوبائی رابطہ کاری کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ اس پروگرام کے دوران حاصل ہونے والے تجربات کو ڈیٹا مینجمنٹ اور ترسیلی نظام میں بہتری کے لیے استعمال کیا جائے۔
واضح رہے کہ اس اسکیم کے تحت موٹرسائیکل، رکشہ اور 800 سی سی گاڑیوں کے مالکان کو فی لیٹر 50 سے 100 روپے تک سبسڈی دی جاتی تھی، جبکہ چھوٹے کسانوں کو ڈیزل پر فی لیٹر 100 روپے اور ٹرانسپورٹ آپریٹرز کو ماہانہ مالی معاونت فراہم کی جاتی تھی۔