بلدیاتی انتخابات کا انعقاد حکومت کی اولین ذمہ داری

دنیا کے ممالک میں ایک بااختیار اور مستقل لوکل گورنمنٹ سسٹم مقامی مسائل کے حل اور جمہوری اقدار کے تسلسل کی ضمانت سمجھا جاتا ہے ترقی یافتہ ممالک میں عوامی سہولیات کی دستیابی اور فلاح وبہبود میں مضبوط بلدیاتی نظام کا کردار انتہائی اہم رہا ہے مگر ہمارے ہاں لوکل باڈیز کی تشکیل میں تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں اگر ہمارے ملک میں بروقت بلدیاتی انتخابات کے نتیجے میں بااختیار بلدیاتی ادارے فعال ہو کر مستقل بنیادوں پر عوامی فلاح پر توجہ دیں تو عوام کو ضروریات زندگی کی بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر مل سکتی ہیں تاہم یہ بات حقیقت کے قریب ترین ہے

کہ جمہوری ادوار کی نسبت آمرانہ ادوار میں لوکل گورنمنٹ کے ذریعے عوامی نظامِ حکومت یعنی نچلی سطح پر اقتدار کی منتقلی کے حوالے سے بلدیاتی اداروں کی تشکیل پر توجہ رہی ماضی کی روایات کے مطابق موجودہ دور میں ایک طرف حکومت کو سخت فیصلوں کی بدولت عوام میں پذیرائی نہیں مل رہی تو دوسری طرف لوکل گورنمنٹ کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر عوامی شرکت تقریباً ختم ہو چکی ہے جس سے عوام میں مایوسی پھیل رہی ہے

سیاست صلح کا دوسرا نام ہے یعنی برسر اقتدار پارٹی اور اپوزیشن مل بیٹھ کر موجودہ مسائل کا حل نکالیں مگر قابل افسوس امر یہ ہے کہ ہمارے ملک اور معاشرے میں صلح کی بیٹھک کا مقصد طاقتور کے اگے کمزور کو اپنا حق چھوڑنے پر مجبور یا راضی کرنا ہوتا ہے اور اب بھی یہی کچھ ہو رہا ہے

کیونکہ جب تک سیاست میں تعمیر سوچ شامل نہیں ہوتی تب تک ملک میں مثبت سوچ اورتعمیری سیاست آگے نہیں بڑھ سکتی آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 140-A میں بھی بلدیاتی اداروں کے قیام اور اختیارات کی منتقلی پر زور دیا گیا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ہر نئی آنے والی حکومت پچھلا بلدیاتی نظام ختم کر کے اپنا نیا قانون لے آتی ہے ماضی میں پنجاب میں 2013 /2019 اور پھر 2022 کے قوانین میں مسلسل تبدیلیاں کی گئیں یہی وجہ ہے کہ بار بار حکومتوں کی منشا کے مطابق قوانین میں ردوبدل سے بلدیاتی ادارے مستحکم نہیں ہو پائے اسکے علاو¿ہ بھی بالخصوص جمہوری حکومت کے دور میں بلدیاتی سیٹ آپ کی تشکیل کو مخصوص حالات کی بنا پر نظر انداز کیا جاتا رہا ہے

جسکی کچھ وجوہات ہیں مثلاً صوبائی اور وفاقی حکومتیں اقتدار اور فنڈز یونین کونسل سطح پر کونسلرز چیئرمین نائب چیئرمین کے زریعے منتقل کرنے کے حق میں نہیں ہوتی کیونکہ وہ چاہتی ہیں کہ تمام ترقیاتی فنڈز اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی کے ذریعے خرچ ہوں دوسری اہم وجہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا ڈیلیور نہ کرنا بھی بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں ایک بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ بلدیاتی انتخابات برسر اقتدار حکومت کے لیے ایک ریفرنڈم کی حیثیت رکھتے ہیں اگر حکومت پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی مرتکب اور مہنگائی و بے روز گاری پر قابو پانے میں قاصر رہے

تو وہ ہارنے کے ڈر سے بلدیاتی الیکشن منعقد کرانے سے بھاگتی ہے ۔بیورو کریسی بھی بلدیاتی نظام کی تشکیل و فعالیت کے حق میں نہیں ہوتی کیونکہ اس سے ان کے انتظامی اختیارات چھن جانے کا خوف ہوتا ہے کیونکہ بلدیاتی انتخابات میں کامیابی سے براہِ راست عوامی نمائندوں کو اختیارات منتقل ہو جاتے ہیں دوسری طرف عوام میں غیر مقبول حکومت بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں تاخیری حربے استعمال کرتی ہے

نئے قوانین بنانے یا حلقہ بندیوں پر اعتراضات اٹھا کر قانونی پیچیدگیوں کے ذریعے بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار کیلئے وقت حاصل کیا جاتا ہے موجودہ صورتحال بھی مختلف نہیں کیونکہ ایک بلدیاتی انتخابات کا بروقت انعقاد برسر اقتدار حکومت کی زمہ داری ہے تو دوسری طرف عدالتی دباو¿ اور الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے مگر معاشی گراوٹ اور سخت فیصلوں کی بدولت موجودہ مالی حالات میں حکومت کے لیے بلدیاتی انتخابات منعقد کراناایک مشکل فیصلہ ہے تاہم اگر تعصب کی عینک اتار کر حقیقی پہلوو¿ں پر نظر ڈالی جائے تو ہمارا ملک اپنی ضرورت کا بڑا حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت بڑھنے ‘ڈالر مہنگا ہونے یا زرمبادلہ کے ذخائر کم ہونے کی صورت میں حکومت کو قیمتیں بڑھانا پڑتی ہیں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ سےروپے کی قدر میں کمی واقع ہوتی ہے

جبکہ حکومت آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے مطالبے پر سبسڈی کا خاتمہ کرتی ہے اور گردشی قرضہ اور مالی خسارہ کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے خاص طور پر جب حکومت آئی ایم ایف پروگرام میں ہوتی ہے تو اسے توانائی پر دی جانے والی سبسڈی ختم کرنا پڑتی ہے یہی وجہ ہے اکثر حکومتیں عوامی ردِعمل کے باوجود قیمتیں بڑھانے پر مجبور نظر آتی ہیں اور موجودہ حکومت کو بھی کچھ ایسی ہی صورتحال و حالات کا سامنا ہے حکومتیں بنانے میں عوام کی حقیقی طاقت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب سیاسی قیادت عملی اقدامات کے زریعے عوام کی زندگیاں بدل دے تاہم اگر حکومت مالی مشکلات و بحرانوں سے نکلنے اور مسلسل عوامی امنگوں کی ترجمانی کرنے میں ناکام رہے تو پھر ملک میں سیاسی انقلاب نوجوان قیادت کی سیاسی بصیرت اور غیرجانبدار ریاستی اداروں کی موجودگی میں ہی ممکن ہے۔