ایل اے 39 جموں 6،ہزاروں مہاجرین ووٹر لسٹ سے باہر

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے حلقہ ایل اے 39 جموں 6 سے تعلق رکھنے والے پاکستان میں مقیم ہزاروں مہاجرینِ جموں اور متاثرین منگلا ڈیم ووٹر لسٹ میں اندراج نہ ہونے کے باعث اپنے بنیادی جمہوری حق، یعنی حقِ رائے دہی سے محروم ہو گئے ہیں۔ متاثرین کے مطابق ووٹر اندراج کا مقررہ شیڈول ختم ہو چکا ہے، تاہم بڑی تعداد میں ایسے اہل ووٹرز ہیں جنہیں اندراج کے عمل میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔

متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مقیم کشمیریوں کی متعدد آبادیوں میں الیکشن کمیشن کا عملہ اندراج کے لیے سرے سے پہنچا ہی نہیں، جس کے باعث ہزاروں افراد رجسٹریشن کے عمل سے باہر رہ گئے۔ دوسری جانب جن علاقوں میں اندراج کیا گیا، وہاں بھی ووٹرز کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ذرائع کے مطابق ووٹرز سے ریاست باشندہ سرٹیفکیٹ طلب کیا جاتا رہا، اور جن خاندانوں کے پاس یہ دستاویز موجود نہ تھی، ان کے فارم نمبر 6 وصول ہی نہیں کیے گئے۔

متاثرین کا کہنا ہے کہ انہیں یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ ان کے ووٹ کا اندراج الیکشن کمیشن کی تشکیل کردہ تصدیقی کمیٹی کی توثیق کے بعد مکمل کر لیا جائے گا۔ تاہم جب اندراج کا شیڈول ختم ہوا تو معلوم ہوا کہ کمیٹی کی تشکیل ہوئی ہے جس کی بناء وہ بھی مؤثر ثابت نہ ہو سکی۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی کے بیشتر ارکان کو اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ انہیں اس کمیٹی کا حصہ بنایا گیا ہے، جس کے باعث تصدیقی عمل عملاً غیر فعال رہا۔

اس حوالے سے الیکشن کمیشن راولپنڈی کے نمائندہ حافظ وقار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جموں 6 کے ووٹرز کی تصدیق کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور اب نئی درخواستیں وصول نہیں کی جا سکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن عملہ پہلے ہی کینٹ اور پنجاب کی حلقہ بندیوں کے کام میں مصروف ہے، جس کے باعث آزاد کشمیر کے ووٹرز کے لیے مزید وقت دینا ممکن نہیں۔

ادھر کشمیری مہاجرین نے اس صورتحال کو شدید ناانصافی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے حلقہ سے منتخب رکن قانون ساز اسمبلی راجہ محمد صدیق نے بھی اس اہم مسئلے پر کوئی مؤثر آواز بلند نہیں کی۔ متاثرین کے مطابق منتخب نمائندے کی خاموشی نے ہزاروں ووٹرز کو حقِ رائے دہی سے محروم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان میں مقیم جموں کے مہاجرین اور متاثرین منگلا ڈیم نے چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں و کشمیر سے فوری نوٹس لینے، ووٹر لسٹوں پر نظرثانی کرنے اور متاثرہ افراد کو دوبارہ اندراج کا موقع فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ وہ آئندہ انتخابات میں اپنا جمہوری حق استعمال کر سکیں۔

متاثرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مسائل کا فوری حل نہ نکالا گیا تو وہ احتجاجی لائحہ عمل اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔