پل ڈب کا حادثہ — ایک لمحے کی لاپرواہی، کئی زندگیاں خطرے میں

کھڑی شریف کے مقام پل ڈب پر پیش آنے والا حالیہ ٹریفک حادثہ نہ صرف ایک افسوسناک واقعہ ہے بلکہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ بھی ہے۔ ایک کار معمول کے مطابق اپنے سفر پر رواں دواں تھی کہ اچانک ایک موٹر سائیکل سوار نوجوان ون ویلنگ کرتا ہوا انتہائی تیزی سے گاڑی کے سامنے آ گیا۔ ڈرائیور نے انسانی جان بچانے کی کوشش میں گاڑی کا رخ موڑا مگر گاڑی بے قابو ہو کر سڑک سے نیچے گہری کھائی میں جا گری۔
قدرت کا خاص کرم تھا کہ گاڑی میں سوار تمام نوجوان محفوظ رہے اور کوئی بڑا جانی نقصان نہ ہوا، ورنہ یہ حادثہ ایک بڑے سانحے میں تبدیل ہو سکتا تھا۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی مقامی افراد فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ عوامی تعاون اور انسان دوستی کا یہ جذبہ قابلِ تحسین ہے، کیونکہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کی مدد ہی معاشرے کی اصل خوبصورتی ہوتی ہے۔
یہ واقعہ ایک مرتبہ پھر اس تلخ حقیقت کو سامنے لاتا ہے کہ ون ویلنگ، ریس لگانا اور خطرناک ڈرائیونگ محض “شوق” نہیں بلکہ ایک ایسا خطرناک رجحان بن چکا ہے جو نہ صرف نوجوانوں بلکہ معصوم شہریوں کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔ اکثر نوجوان وقتی جوش، سوشل میڈیا کی نمائش یا دوستوں کے سامنے بہادری ثابت کرنے کے لیے اپنی اور دوسروں کی زندگیاں داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ چند لمحوں کی یہ لاپرواہی کسی ماں کی گود اجاڑ سکتی ہے، کسی بہن سے بھائی چھین سکتی ہے اور کسی خاندان کو ہمیشہ کے لیے غم میں مبتلا کر سکتی ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ آئے روز ایسے واقعات رونما ہونے کے باوجود کچھ نوجوان باز نہیں آتے۔ سڑکیں کھیل کے میدان نہیں ہوتیں اور نہ ہی عوامی راستے اپنی مہارت دکھانے کی جگہ ہیں۔ قانون کی خلاف ورزی صرف اپنی جان کو خطرے میں ڈالنا نہیں بلکہ دوسروں کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
عوام نے اس حادثے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ون ویلنگ کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کروایا جائے، والدین اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور تعلیمی اداروں میں بھی ٹریفک شعور اور روڈ سیفٹی کے حوالے سے آگاہی مہم چلائی جائے۔
پل ڈب کا یہ حادثہ اگرچہ کسی بڑے جانی نقصان کے بغیر ختم ہو گیا، مگر اس نے کئی سوالات چھوڑ دیے ہیں۔ آخر کب تک سڑکوں پر انسانی جانیں لاپرواہی کی نذر ہوتی رہیں گی؟ کب نوجوان یہ سمجھیں گے کہ اصل بہادری قانون کی پابندی اور ذمہ دار شہری بننے میں ہے؟
کار میں سوار نیو لدڑ کے رہائشی نوجوانوں کا محفوظ رہنا یقیناً اللّٰہ تعالیٰ کا خاص کرم ہے۔ دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور ہمارے معاشرے کو ایسی خطرناک حرکات سے محفوظ فرمائے