حکیم الامت علامہ محمد اقبال کی شاعری’مسلمانوں کی بیداری کا آفاقی پیغام

بیسویں صدی کے اوائل میں جب برصغیر پاک و ہند سمیت پوری مسلم دنیا غلامی، فکری جمود اور اخلاقی پستی کا شکار تھی، تو ایسے تاریک دور میں علامہ محمد اقبال ایک مفکر، شاعر اور رہنما کے طور پر ابھرے۔ اقبال محض الفاظ کے جادوگر نہیں تھے، بلکہ وہ امتِ مسلمہ کے نبض شناس تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کی زبوں حالی کا گہرا مطالعہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ مسلمانوں کی تنزلی کی اصل وجہ اپنے اصل مرکز سے دوری اور احساسِ کمتری ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری کو کوئی روایتی تغزل یا حسن و عشق کا افسانہ نہیں بنایا، بلکہ اسے ایک ایسے پیغام کا ذریعہ بنایا جس نے سوئی ہوئی امت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اقبال کی شاعری کے چار بنیادی ستون ہیں خودی، عشقِ رسولؐ، عملِ پیہم، اور مسلمانوں کی بیداری۔ یہ چاروں عناصر مل کر ایک ایسے کامل انسان (مردِ مومن) کی تشکیل کرتے ہیں جو دنیا کی امامت کا حقدار ہے۔

علامہ اقبال کی شاعری اور فلسفے کا نقطۂ آغاز اور انتہا “خودی” ہے۔ عام لغت میں خودی کا مطلب تکبر یا غرور لیا جاتا ہے، لیکن اقبال کی اصطلاح میں خودی سے مراد معرفتِ نفس، ذات کا شعور، غیرت، خود داری اور اپنی باطنی صلاحیتوں کو پہچاننا اور انہیں پروان چڑھانا ہے۔ اقبال کے نزدیک خودی خدا کی دی ہوئی وہ امانت ہے جسے اگر انسان بیدار کر لے تو وہ کائنات کی ہر قوت پر غالب آ سکتا ہے۔انہوں نے فرمایا:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
اقبال مسلمانوں کو شاہین سے تشبیہ دیتے ہیں، کیونکہ شاہین کسی کا مارا ہوا شکار نہیں کھاتا، وہ اپنا آشیانہ نہیں بناتا اور بلند پرواز رکھتا ہے۔ یہ شاہین دراصل خودی کا استعارہ ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنی غیرت اور خودی کو برقرار رکھنا چاہیے:
غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں
پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا

خودی کی حفاظت اور اس کی تربیت کے لیے اقبال نے مادی وسائل کے بجائے باطنی پاکیزگی پر زور دیا۔ جب انسان اپنی خودی کو پہچان لیتا ہے، تو وہ زمانے کے حالات کا شکوہ کرنے کے بجائے خود حالات کا رخ موڑ دیتا ہے۔اگر خودی اقبال کے فلسفے کا جسم ہے، تو عشقِ رسولؐ اس جسم کی روح ہے۔ اقبال کے نزدیک خودی بغیر عشقِ رسولؐ کے نامکمل اور بے راہ رو ہے۔ ان کی شاعری کا سب سے معتبر اور جذباتی پہلو رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کی بے پناہ اور والہانہ محبت ہے۔ اقبال کا پختہ یقین تھا کہ مسلمانوں کی بقا، ترقی اور بیداری کا واحد راستہ آپؐ کی ذاتِ گرامی سے سچی محبت اور آپؐ کی سنت کی پیروی میں پنہاں ہے۔

اقبال کے نزدیک عشق محض ایک جذباتی کیفیت کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی عملی قوت ہے جو انسان کو پستی سے اٹھا کر ثریا پر پہنچا دیتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ کائنات کی تمام رونقیں اور اچھائیاں حضور اکرمؐ کے دم قدم سے ہیں:
تپش از سوزِ دل، سوزِ دل از عشق
سراپائے کرم، نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وسلم

انہوں نے امتِ مسلمہ کو واشگاف الفاظ میں یہ پیغام دیا کہ اگر تم دنیا میں عزت اور آخرت میں سرخروئی چاہتے ہو، تو تمہیں مصطفیٰؐ کے آستانے پر آنا ہوگا۔ انہوں نے بانگِ درا، بالِ جبریل اور ارمغانِ حجاز میں بارہا اس بات کا اعادہ کیا:
کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

اقبال نے واضح کیا کہ مغرب کی مادی تہذیب کا مقابلہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب مسلمانوں کے دل عشقِ مصطفیٰؐ سے منور ہوں۔ وہ عقلِ عیار کے مقابلے میں عشقِ رسولؐ کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ عقل انسان کو مصلحت پسندی سکھاتی ہے جبکہ عشق قربانی اور سرفروشی کا درس دیتا ہےعلامہ اقبال کی شاعری کی ایک اور بڑی خصوصیت پیغامِ عمل ہے۔ ان کے دور کا مسلمان تقدیر کے غلط تصور کے پیچھے چھپ کر سستی اور کاہلی کی زندگی گزار رہا تھا۔ خانقاہوں میں جمود کا راج تھا اور زندگی کی حرارت ختم ہو چکی تھی۔ اقبال نے اس جمود کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا اور مسلمانوں کو عملِ پیہم، مسلسل جدوجہد اور حرکت کا درس دیا۔

اقبال کے نزدیک زندگی نام ہی حرکت کا ہے۔ جو پانی رک جاتا ہے وہ گدلا ہو جاتا ہے، اور جو دریا بہتا رہتا ہے وہ پاکیزہ رہتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سکون اور آرام موت کی نشانیاں ہیں، جبکہ کشمکش اور محنت زندگی کی علامات ہیں دنیا میں وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو مسلسل محنت کرتی ہیں اور اپنی تقدیر اپنے ہاتھوں سے لکھتی ہیں:
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
اقبال نے نوجوانوں کو آرام طلبی اور عیش و عشرت سے دور رہنے کی تلقین کی اور انہیں محنتِ شاقہ کی طرف راغب کیا۔ ان کا مشرق کے نوجوانوں کے نام یہ پیغام تھا کہ منزل کی جستجو میں کبھی تھک کر نہ بیٹھو:
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

اقبال کا پیغامِ عمل قرآنِ کریم کی اس آیت کی تفسیر ہے کہ “انسان کے لیے کچھ نہیں مگر وہ جس کی اس نے کوشش کی”۔ انہوں نے مسلمانوں کو خوابِ غفلت سے بیدار کرنے کے لیے اپنی شاعری کو عمل کا ایک ایسا کوڑا بنایا جس نے پورے برصغیر میں ایک نئی روح پھونک دی-اقبال نے جب دیکھا کہ مسلم دنیا جغرافیائی، لسانی، اور نسلی بنیادوں پر ٹکڑے ٹکڑے ہو رہی ہے، تو انہوں نے ان تمام مصنوعی حدود کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے نیل کے ساحل سے لے کر کاشغر تک کے مسلمانوں کو ایک ہونے کی دعوت دی:
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تا بہ خاکِ کاشغر

اقبال مسلمانوں کی اس حالت پر کڑھتے تھے کہ ان کے پاس شاندار ماضی، قرآن جیسی کتاب اور رسولؐ جیسی ہستی موجود ہے، لیکن پھر بھی وہ غیروں کے محتاج ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو یاد دلایا کہ تم وہ قوم ہو جس نے دنیا کو تہذیب اور علم سکھایا، لہٰذا اپنی اصل حیثیت کو پہچان کر دوبارہ دنیا کی امامت کے لیے کھڑے ہو جاؤ:
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

اقبال کی نظریں صرف برصغیر کے مسلمانوں پر نہیں تھیں، بلکہ ان کی نگاہ پوری دنیا کے حالات پر تھی۔ وہ عالمِ اسلام کے زوال کو دیکھ کر تڑپ اٹھتے تھے اور انہوں نے اپنی نظموں جیسے “طلوعِ اسلام” اور “خضرِ راہ” میں مسلمانوں کو خوشخبری دی کہ مغرب کا سورج ڈوبنے والا ہے اور اسلام کا ستارہ ایک بار پھر چمکنے والا ہے۔ لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ مسلمان بیدار ہوں اور اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔
وہ رنگ و خون کے بتوں کو توڑنے کی دعوت دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
بتانِ رنگ و بو کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا
نہ تورانی رہے باقی، نہ ایرانی، نہ افغانی

اگر ہم علامہ اقبال کے پورے کلام کا نچوڑ نکالیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا پیغام آفاقی اور ابدی ہے۔ انہوں نے جو نسخۂ کیمیا ایک صدی پہلے مسلمانوں کو دیا تھا، آج کا مسلمان بھی اسی کا محتاج ہے۔آج جب امتِ مسلمہ فکری انتشار، اندرونی خلفشار، اخلاقی پستی اور بیرونی دباؤ کا شکار ہے، تو اقبال کا فلسفۂ خودی ہمیں اپنی عزتِ نفس بحال کرنے کا درس دیتا ہے۔ ان کا عشقِ رسولؐ ہمیں اپنے مرکز اور دین کی بنیادوں سے جوڑتا ہے۔ ان کا پیغامِ عمل ہمیں سستی اور جمود سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کرتا ہے، اور ان کا بیداری کا پیغام ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ مسلمانوں کا اتحاد ہی ان کی بقا کا ضامن ہے۔
بقول اقبال:
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن!