بسالی کا تاریخی تالاب، ماضی کی یادگار سے خوبصورت عوامی تفریح گاہ تک

تحریر: عبدالخطیب چودھری

راولپنڈی شہر کے شمال میں واقع تاریخی گاؤں بسالی نہ صرف اپنی قدیم آبادی اور جغرافیائی اہمیت کے باعث پہچانا جاتا ہے بلکہ یہ علاقہ قیامِ پاکستان سے قبل آباد ہندو اور سکھ برادری کی تہذیبی و ثقافتی تاریخ کے آثار بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اس گاؤں کا قدیم تالاب بھی اسی تاریخی ورثے کا ایک اہم حصہ ہے، جو ماضی میں یہاں آباد ہندو برادری کے مذہبی اور سماجی حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتا تھا۔ ہندو مذہبی روایات میں ایسے تالابوں کو عبادت، مذہبی رسومات اور روحانی تطہیر کے لیے اہم مقام حاصل رہا ہے۔

قیامِ پاکستان کے بعد وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس تاریخی ورثے کی دیکھ بھال اور حفاظت پر خاطر خواہ توجہ نہ دی جا سکی، جس کے باعث یہ خوبصورت تالاب اور اس کے اطراف کا قدرتی حسن رفتہ رفتہ زوال پذیر ہونے لگا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ تاریخ کا یہ اہم باب بھی عدم توجہی کی نذر ہو جائے گا۔

چند ماہ قبل مجھے بسالی جانے اور گاؤں کے وسط میں واقع اس تاریخی تالاب کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ تالاب کے مشرقی جانب قائم خوبصورت مسجد میں نمازِ عصر ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ نماز کے بعد جب وسیع و عریض تالاب، اس کے کناروں پر کھڑے قدآور درختوں اور قدرتی ماحول پر نظر پڑی تو دل بے حد خوش ہوا۔ اس منظر میں ایک طرف ماضی کی تاریخ جھلک رہی تھی تو دوسری طرف قدرتی حسن کی دلکشی نمایاں تھی۔ اسی وقت یہ خواہش پیدا ہوئی کہ پنجاب حکومت اور ضلعی انتظامیہ اس تاریخی ورثے کی حفاظت اور بحالی کے لیے خصوصی اقدامات کریں تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس تاریخی مقام کو دیکھ اور اس کی اہمیت سے آگاہ ہو سکیں۔

آج تقریباً چھ ماہ بعد سوشل میڈیا پر بسالی کی جو تصاویر دیکھنے کو ملیں، وہ انتہائی خوش آئند اور قابلِ تحسین ہیں۔ تاریخی تالاب کی بحالی و تزئین و آرائش، ہزاروں مچھلیوں کی موجودگی، خواتین اور بچوں کے لیے خوبصورت اور محفوظ پارک، واٹر فلٹریشن پلانٹ اور شہریوں کے لیے جنازہ گاہ کی تعمیر جیسے منصوبوں کی تکمیل نے اس مقام کی رونق ہی بدل دی ہے۔ یہ تمام سہولیات واگزار کروائی گئی زمین کو عوامی فلاح کے لیے بروئے کار لا کر قائم کی گئی ہیں، جو یقیناً ایک قابلِ تقلید اقدام ہے۔

میں ڈپٹی کمشنر راولپنڈی اور اسسٹنٹ کمشنر صدر راولپنڈی سمیت ان تمام افسران اور اہلکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنایا۔ بالخصوص تاریخی ورثے کی اصل اہمیت کو برقرار رکھتے ہوئے اسے جدید عوامی سہولیات سے آراستہ کرنا ایک قابلِ ستائش کاوش ہے۔ ایسے اقدامات اسی وقت ممکن ہوتے ہیں جب انتظامیہ عوامی مفاد کو ترجیح دے اور کسی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر درست فیصلے کرے۔

بسالی کی مثال یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر ضلعی انتظامیہ سنجیدگی، خلوص اور عملی عزم کے ساتھ کام کرے تو نہ صرف تجاوزات اور سرکاری اراضی کے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں بلکہ تاریخی مقامات کو بھی عوامی سہولت اور تفریح کے مراکز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ راولپنڈی کے دیگر علاقوں میں موجود تاریخی مقامات اور قدرتی ورثے کی حفاظت کے لیے بھی اسی جذبے کے ساتھ اقدامات کیے جائیں۔ بالخصوص ساگری، کلرسیداں اور تخت پڑی سمیت پوٹھوہار کے مختلف علاقوں میں موجود تاریخی مقامات کی نشاندہی، بحالی اور تزئین و آرائش پر توجہ دی جائے۔ ان مقامات پر پارکس، پینے کے صاف پانی کی سہولت، بیٹھنے کے مناسب انتظامات اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ مقامی آبادی کو بہتر ماحول میسر آنے کے ساتھ ساتھ تاریخی ورثے کو بھی محفوظ بنایا جا سکے۔

تاریخ صرف کتابوں میں محفوظ کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ہماری اجتماعی شناخت اور آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔ بسالی کے تاریخی تالاب کی بحالی ایک مثبت مثال ہے۔ اگر ایسے اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رہیں تو پوٹھوہار کا تاریخی، ثقافتی اور قدرتی حسن دوبارہ اپنی اصل پہچان حاصل کر سکتا ہے۔

بسالی کی یہ تبدیلی صرف ایک تالاب کی بحالی نہیں بلکہ تاریخ کے احترام، عوامی خدمت اور مثبت انتظامی سوچ کی ایک خوبصورت مثال ہے۔