آئے روز کے واقعات اور والدین کی زمہ داریاں

سات سالہ معصوم بچی منتہا جس درندگی کا شکار ہوئی ، انسان کا دل دہل جاتا ہے ، آخر یہ سب کچھ کیا ہے ، ایک معصوم پری کے ساتھ یہ درندگی کیوں ہوئی ، آپ کے پاس سے کوئی معصوم پری گزرے تو آپ کے دل میں آتا کہ میں اس معصوم پری کے سر پر ہاتھ رکھوں، باپ تھکا ہوا گھر آتا ہے وہ تھوڑی دیر آرام کرنا چاہتا لیکن اس کی معصوم بیٹی اس کے پاس آتی ہے تو باپ اپنی تھکاوٹ کو بھول جاتا ہے ، اس پری کو اٹھا لیتا اس کو سینے سے لگاتا ، اس کے ماتھے پر پیار کرتا وہ معصوم پری باپ کی گود میں کھیلتی ہے ، باپ کی داڑھی سے کھیلتی ہے باپ سارے دن کی تھکاوٹ بھول جاتا ہے ، یہ معصوم پریا ہمارے گھروں کی رونق ہیں ، ہمارے گھروں کی خوشیاں ان ہی کے مرہون منت ہیں ، یہ بھائیوں کی لاڈلیاں ، یہ ماموں اور چاچو کی لاڈلیاں، یہ دادا اور دادی کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں ،

پھر ان کو کیوں کچل دیا جاتا ، یہ معصوم سی پریاں ان وحشی درندوں کے ہاتھ کیسے چڑ جاتی ہیں ، یہ وحشی درندے ان معصوم پریوں کو کیوں کچل دیتے ہیں ، اس کا زمہ دار کون ہے ، اس کا زمہ دار پورا معاشرہ ہے ، اس کا زمہ دار پورا نظام ہے ، یہ نظام ان وحشی درندوں کو موقع مہیا کرتا ہے ، ان کو پھلنے پھولنے کا موقع دیتا ہے ، اگر یہ پھلنے پھولنے کا موقع نہ ملے تو آئے روز یہ واقعات نہ ہوں ، نہ یہ معصوم پریا کچل دی جائیں ، ہر ہفتے کئی واقعات رونما ہوتے ہیں، کچھ سوشل میڈیا کی زینت بنتے ہیں کچھ کو خاندان کے لوگ دبا لیتے ہیں ، میں ایک طالب علم کی حیثیت سے اپنے ارد گرد کا جائزہ لیتا ہوں، بڑا صاف نظر آتا ہے وہ والدین جو ناخواندہ ہیں ، جو محنت مزدوری کرکے گھروں کا نظام چلاتے ہیں، باپ مزدوری کرتا ہے ، ماں بھی مزدوری کرتی ہے ، ان کے بچے گلیوں میں پلتے ہیں، وہ بچے کسی نہ کسی کی ہوس کا نشانہ بنتے ہیں ، وہ بچے محرومیوں کا شکار ہوتے ہیں، جب کسی بچے کو ہوس کا نشانہ بنایا جاتا ہے وہ بڑا ہوکر اسی راستے پر چلتا ہے ،

اس کے لئے کوئی اخلاقی درس کار آمد نہیں ہے ، بچہ سکول کا منہ نہیں دیکھتا ، جو چھوٹی عمر میں گلیوں میں آوارہ گھومتا ہے ، یہ ریاست کی زمہ داری تھی ان بچوں پر توجہ دیتی ، ان کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرتی ، ان کو معاشرے کا بہترین شہری بنایا جاتا ، جن کے والدین کے پاس وسائل نہیں تھے یا جن کی اس طرف توجہ نہیں تھی ، ان کو معاشرے کا بہترین شہری بنانا ریاست کی زمہ داری تھی ، دوسرا ہمارے ارد گرد کا ماحول ان بچوں پر نظر رکھتا ، لیکن آج سب نے اپنی آنکھوں کو بند کر لیا ، ہمارے ارد گرد کیا ہو رہا ہے ، ہم بحیثیت مجموعی ان زمہ داریوں سے عہدہ بر ہونے کے لئے تیار نہیں، ہمارے دینی حلقوں کی بہت بڑی زمہ داری تھی اور ہے

ان بچوں کو دین کی طرف متوجہ کرتی لیکن شاید ہم اپنے اپنے حلقوں کے اندر قید ہو چکے ہیں ، سب سے بڑ کر والدین کی زمہ داری بنتی ہے وہ اپنی اولاد پر توجہ دیں ان کو وقت دیں ، ان کے ساتھ بیٹھیں، ان کو ساتھ بٹھائیں ، ان کو اپنے ساتھ کام میں مصروف کریں ، ان کو کم از کم میٹرک کا تعلیم ضرور دلوائیں ، ان کی دوستیوں پر دھیان رکھیں ، باپ مزدوری کرے ، واپس آکر گھومنے چلا جائے ، اولاد کے سامنے نامناسب زبان استعمال کرے ، جھوٹ بولے ، اولاد کو حرام کھلائے ، تو اولاد قمیض کے بٹن کھول کر گلیوں میں گھومیں گے ، آوارہ لڑکوں کے ساتھ گھومیں گے ، سگریٹ نوشی کریں گے ، پھر دوسری نشہ آور اشیاء استعمال کریں گے ، ماں مزدوری کرتی ہے ، اس کو معلوم نہیں میری اولاد کہاں ہے ، یہ وہ عوامل ہیں جس کی وجہ سے کروڑوں نوجوان غلط راستوں پر چل نکلے ہیں ،

ان کے سامنے حلال و حرام، جائز وناجائز ، اچھے اور برے کی تمیز ختم ہوچکی ہے ، آج پاکستان میں دو کروڑ سے زائد بچے تعلیم کے زیور سے محروم ہیں ، ان کے سامنے ماں باپ بہن بیٹی کی کوئی اہمیت نہیں ہے ، دوسری گزارش ہے والدین سے خدا راہ آئے روز کے یہ واقعات ہمیں جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر کہ رہے ہیں اپنی معصوم بچیوں کو اکیلے گھر سے باہر نہ نکالیں ، ان کو مائیں دس روپے دے کر بھیج دیتی ہیں جاؤ دوکان سے اپنے لئے کوئی چیز لے لو ، خدا راہ اپنے رویہ کی اصلاح کریں ، چھوٹے معصوم بچوں اور بچیوں کو اکیلے باہر نہ بھیجیں ، ان بچوں کو ساتھ ساتھ رکھیں ، کھانے پینے کی اشیاء گھر میں لا کر رکھ دیں ، سائڈ پر رکھ دیں بار بار بچوں اور بچیوں کو دوکانوں پر نہ بھیجیں ، آخر میں ریاست اپنی ذمہ داریاں ادا کرے ان آئے روز کے واقعات کا سد باب کرے اب ذرا اس پورے واقعے پر نظر دوڑائیں کتنا دل خراش واقع ہے ، کس طرح اس معصوم پری کو کچل دیا گیا ہے


سات سالہ منتہا دروازے پر کھڑے چند نوٹ پکڑے جو اس کی ماں نے ابھی اسے دئیے تھے کہ کریانے کی دکان پر جاؤ اور چائے کے لیے چینی لے آؤ منتہا نے پیسے لیئے اور قریبی دکان کی طرف روانہ ہوئی ،منٹ گزرے، پھر ایک گھنٹہ، پھر دو گھنٹے لیکن منتہا گھر واپس نہ آئی تو پریشانی تیزی سے گھبراہٹ میں بدل گئی اس کے اہل خانہ نے تلاش شروع کی، رشتہ داروں کو بلایا، دوکان میں دیکھا لیکن منتہا کا کوئی پتا نہیں چلا ،پورا محلہ تلاش میں شامل ہوگیا ،پولیس نے قریبی کاروباری مراکز سے CCTV فوٹیج کی جانچ شروع کی پھر ایک پریشان کن انکشاف ہوا، کیمروں نے منتہا کو گروسری اسٹور میں داخل ہوتے ہوئے دکھایا لیکن اسکے وہاں سے نکلنے کی کوئی فوٹیج نہیں تھی


تفتیش کاروں نے فوراً اپنی توجہ عمارت پر مرکوز کر دی، پولیس نے ہر کمرے، ہر کونے اور ہر منزل کی تلاشی لی،تلاشی کے دوران حکام نے مبینہ طور پر عـمارت کی بالائی منزل پر ایک بوری کے اندر چھپائی ہوئی منتہا کی لاش دریافت کی ،شہر کا شہر ہکا بکا رہ گیا ایک شخص اتنا گھٹیا کیسے ہوسکتا ہے،سات سال کی بچی کو مار ڈالا ،کیا یہ لوگ قیامت دن سے نہیں ڈرتے؟؟ قبر کی اندھیروں سے نہیں ڈرتے؟؟ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتے؟ کوئی اتنا گھٹیا کیسے ہوسکتا ہے ؟ باقی تو ہم کچھ نہیں کر سکتے، کیونکہ ہر طرف جانور گھوم رہے ہیں البتہ آپ لوگوں سے ایک درخواسـت ہے کہ اپنے بچوں اور بچیوں کا خاص خیال رکھیں
بچوں اور بچیوں کے حوالے سے کسی پر بھی اعتبار نہ کریں۔


ماں باپ کی کچھ ذمہ داریاں ہیں اولاد کو پیدا کرکے وہ فارغ نہیں ہوگے ، اگر ماں باپ آپس میں لڑیں گے ، جھوٹ بولیں گے، حرام کھائیں گے ، گھروں میں منفی چیزوں کو ڈسکس کریں گے ، دوسروں کی پگڑیاں اچھالیں گے ، اولاد کو معاشرے کی بے رحم موجوں کے حوالے کر دیں گے ، خدا راہ اپنی بچیوں اور بچوں پر توجہ دیں اپنے گھروں کو دیں سے آراستہ کریں ، سچ بولیں ، حرام مال کو گھروں میں نہ لائیں، سود سے بچیں ، اللہ تعالیٰ ہماری بچیوں اور بچوں کی حفاظت فرمائے آمین ثم آمین
ہمیں آئے روز کے حادثات سے محفوظ رکھے ، زمانہ جاھلیت میں زندہ درگور کی گئی بیٹی یا آج کی معصوم بیٹی ایک ہی سوال کرے گی وہ کئے گئی مجھے کیوں زندہ درگور کیا گیا تھا اور آج کی معصوم بیٹی کئے گئی کہ مجھے کیوں کچلا گیا تھا ، شاہد بہت سارے لوگ کٹھرے میں کھڑے ہوں گے ہمیں آج سوچنا ہو گا ہمارے ارد گرد یہ کیوں ہو رہا ہے
[التکویر 9-8] پارہ 30 میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
ترجمہ
اور جب زندہ درگور کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ اسے کس جرم میں قتل کیا گیا؟

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین، غم زدہ خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین،