کلرکلراے

کچھ سال قبل الیکشن کی ایک میٹنگ کے سلسلے میں میرے ہر دل عزیز دوست بھائی سابق ایم پی اے افتخار احمد وارثی صاحب تشریف لائے ساتھ ان کے بیٹے گوہر بھی تھے گوہر میرے پاس بیٹھ حال احوال پوچھ رہے تھے تو میں نے ان سے گلہ کیا کہ ہمارے گاوں کی کچھ فوتگیوں پہ وارثی صاحب کی غیر حاضری ہے اپنے گاوں کی فوتگی چھوڑنے پہ میں کچھ برہم ہوا تو گوہر نے کہا ہم معزرت خواہ ہیں لیکن تھوڑی غلطی آپ کی بھی ہے میرے استفسار پر کہنے لگے کہ حلقہ بہت بڑا ہوتا ہے ہر جگہ کا ہمیں علم نہیں ہوتا آپ ایک میسج کر دیا کریں تو ہمیں بھی آسانی ہو جائے گی آپ کا شکوہ بھی دور ہو جائے گا میں نے بھی تسلیم کیا کہ واقعی ایک انسان کو علم نہ ہو تو وہ کیسے آئے۔
یہ واقعہ سنانے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ یہ ایک موٹیوشنل واقعہ ہے جس کے اندر ایک پیغام ہے اور سبق ہے

ایک عام ووٹر سے لے کر وزیراعظم تک کے لیےآئے روز سوشل میڈہا پر کلر تحصیل کو یتیم لاوارث اور جانے کیا کیا کہا جاتا ہے اسمیں کوئی شک نہیں کہ شیخ قدوس مرحوم کے بعد تحصیل کلر سیداں یتیم ہو گئی ہے لیکن لاوارث بالکل بھی نہیں ہوئی ایک شخص کے جانے سے دنیا رکتی نہیں اللہ ان کی مغفرت فرمائے بہت لگن سے انہوں کلر تحصیل کا نقشہ بدلا ہے لیکن ابھی بھی کلر سیداں کی سرزمیں بہت زرخیز ہے جس کے پاس شیخ حسن ریاض محمد اعجاز بٹ عاطف اعجاز بٹ راجہ ظفر محمود حاجی غلام ربانی بابو نور محمد وقاص حیدر شاہ صاحب چوہدری زین العابدین اور تاجر برادری میں محمد ریاست شیخ خورشید جیسے ہیرے بلاشبہ موجود ہیں جن کا کلر سیداں کی ترقی میں کلیدی کردار ہے اور سلیوٹ کے قابل شخصیات ہیں اونچ نیچ سیاست کا حصہ ہے ان شخصیات کی محنت اور صاف دامنی نے کلر سیداں کو چار چاند لگا دئیے ہیں لیکن کچھ عرصہ سے ترقی کا یہ سلسلہ تھوڑا رک سا گیا ہے


اب اصل بات پر آتے ہیں جس کے لیے اتنی لمبی تمہید باندھنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔
میرا یہ ماننا ہے کہ لوکل الیکشن میں پارٹی بنیاد پر الیکشن نہیں ہونے چاہیں اور اگر ہوتے بھی ہیں تو ووٹر کو ووٹ پارٹی کو نہیں بلکہ شخصیت کو دینی چاہیے یوں کہیے کہ جو شخص آپ کے لیے مفید ہے اس کا چناو کرنا چاہیےاور چناو کے بعد عوام کی ذمہ داری ہے کہ اپنے لوکل سیاسی عمائدین سے ملیں ہر ووٹر کا حق ہے کہ وہ اپنے علاقے کے کونسلر چئیرمین یا اگر بلدیاتی ادارے نہیں ہیں تو جن کو آپ ووٹ دیتے یں ان کو اپنی گلی محلے کے مسائل سے آگاہ کرتے رہیں بار بار کریں کیوں کہ آپ کا حق ہے آپ نے ایک بار مانگنے پر انہیں ہر الیکشن میں ووٹ دیا ہوتا ہے اور قومی و صوبائی الیکشن میں بھی انہی کے مشورہ سے ووٹ تقسیم ہوتا ہے سیاسی عمائدین اور شہر کے بڑوں کا بڑا ظرف ہونا چاہیے وہ ان کی سنیں پھر اس محلے کا دورہ کریں میٹنگ کریں اور ہر دن ہر ہفتے نہیں تو کم از کم ہر ماہ کے بعد ایک بار یہ عمل کرنا ضروری ہے کہ مقامی عمائدین جن میں تاجر رہنما بھی شامل ہیں وہ اپنے اندر علاقائی مسائل کو عوام سے سننے کے بعد اپنے حلقہ کے ایم پی ایز ایم این کے علم میں لائیں اور مسائل کے ہر ممکن حل کی تلقین کریں کیونکہ یہ بھی آپ کا حق ہے کہ آپ ہی کی وجہ سے علاقے کے عوام ایم پی اے ایم این کو ووٹ دے کر آپ کی ٹور بنا دیتے ہیں اس کے علاوہ تاجر برادری سیاست سے پاک ہونی چاہیے اور ان کی بھی ذمہ داری ہے کہ چھوٹے تاجروں کے بھی مسائل سنیں اور اس پر توجہ دیں اور اگر تاجر رہنما ان مسائل کا حل نہیں نکالتے تو آئندہ کے لیے ان کی کسی کال پر ہڑتال شٹر ڈاؤن نہ کیا جائے


اس کے بعد قومی و صوبائی اسمبلی میں آپ کی طرف سے بھیجے گئے ایم این اے ایم پی اے کو مسائل سے آگاہ کیا جائے بڑے پراجیکٹس کے لیے تمام سیاسی عمائدین مل کر لائحہ عمل ترتیب دے کر اپنے نمائندے کو دعوت دیں اور ان کو آگاہ کریں سو فیصد ان کی بھی کوشش ہو گی کہ وہ عمل ضرور کریں گے کیونکہ ان کی اولین ترجیح ہی وسیع تر عوامی مفاد ہونا چاہیے اگر وہ ڈلیور نہیں کرتے تو اگلی بار کے لیے ان کو خبردار کر دینا چاہیے کہ پا جی نہی تے فر۔۔

اگلی واری فیر زرداری
معذرت کے ساتھ ایک بات کرتے تھوڑی سی حیا بھی آ رہی ہے کہ آپ سب لوگ بہت عظیم لوگ ہیں لیکن ہم جن کو سیٹ پر بٹھاتے ہیں انہیں کے آگے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں ادب لازم ہے عمر سے بڑے اور مہمان کا لیکن اسلام کے اعتبار سے امیر کا بھی احترام اور اطاعت ضروری ہے اور وقت کے لحاظ سے وہی نمائندہ آپ کاامیر ہے بالکل حضرت عمر کی طرح لیکن اگر حضرت عمر کو بھی کوئی اپنا مسئلہ نہ بتاتا تو ان کو بھی پتہ نہیں چلتا تھا جب تک کوئی خود آئے یا کوئی سرکاری اہلکار اطلاع نہ کرے آپ کا کام ہے مسائل سنیں اور آگے سنائیں یہی آپ کے چناو کی اصل وجہ ہے اگر

آپ اس کے لیے وقت نہیں نکال سکتے تو کسی اور کو موقع دیں نوجوان آگے کریں آپ آرام کریں
آخر میں آپ تحصیل کلر سیداں کی سب عوام سے گزارش ہے کہ اپنے مسائل کو اسطرح سوشل میڈیا پر بیان کرنے علاقے کی عزت نیلام کرنے سے پہلے ایک بار سوچیں آپ نے اپنے علاقے کے لیے کیا خدمات انجام دی ہیں ہماری ایک ماڈل

اور ماڈرن تحصیل ہے جس پر مذکورہ لوگوں نے بہت محنت کی ہے اس کا نام بدنام کرنے کے بجائے مل کر کام کریں اور اس کی ترقی کے لیے کم از کم اپنی زبان ضرور استعمال کریں لیکن تنقید کے لیے نہیں اصلاح کے لیے
اور سیاسی عمائدین کی ذمہ داری ہے کہ عام عوام کو سرکاری دفاتر پولیس پٹواری کی زیادتیوں سے بچائیں ان کا تحفظ آپ کی ذمہ داری ہے ایسی ایچ او اسسٹنٹ کمشنر آج آئے کل چلے گئے جو ہر پل آپ کے ساتھ ہیں ان کو سینے سے لگا کر رکھیں ان کے لیے لڑیں انکو حق دلوائیں تعلیم صحت کے مراکز کی نگرانی کریں تھانہ کلچر تبدیل کریں
انشااللہ اپ کو ووٹ مانگنے کے لیے کسی کے دراوزے پر کبھی جانا بھی نہیں پڑے گا اورپہلے کی طرح تحصیل کلر اور

ہمارے شہر خوب پھے پھولے گا اور بہتری آئے گی
اور یقین مانیں کہ چوہدری نثار علی خان حلقے سے دستبردار ہوئے اور شیخ قدوس داعی اجل ہوگئے لیکن آپ کے آس عمل سے آپ جیسے لوگوں کی صورت میں عوام کو شیخ قدوس ضرور ملے گا اور اسامہ اشفاق سرور اور راجہ صغیر احمد بھی چوہدری نثار بننے کی کوشش ضرور کریں گے
تحریر عزیز چوہدری