
سمجھ پائے کوئی کیا رتبہ سبط پیمبر کو
کہ اس اوج ضیا تک موج بینائی نہیں جاتی
ایام عاشورہ کا لمحہ لمحہ کرب و بلا کی دردناک یادوں سے لبریز ہے۔ ہر صاحب دل کی آنکھ اشک بار ہو جاتی ہے اور دل خون کے آنسو روتا ہے کہ امت مسلمہ، صحابۂ کرام کے شاگردوں، تابعین اور حفاظ قرآن کی موجودگی میں یہ سانحہ عظیم کیسے رونما ہوا۔ دل، دماغ اور آنکھیں سب اس عظیم غم کے بوجھ تلے نم ہو جاتی ہیں۔ فضاء کوفہ کرب، درد، سسکیوں اور آہوں سے بوجھل تھی ان احساسات، اور کربناکی میں حضرت سلطان باہو کا یہ فکر افروز فرمان دل و دماغ کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔۔
جے کر دیں علم وچ ہندا
سر نیزے کیوں چڑھدے ہو
اس شعر میں سلطان باہو نے علم اور دین کے درمیان ایک نہایت باریک مگر بنیادی فرق کو آشکار کیا ہے۔ آپ یہ نہیں فرما رہے کہ علم بیکار ہے، بلکہ یہ بتا رہے ہیں کہ محض معلومات اور ظاہری فہم انسان کو حق کا وفادار نہیں بناتے۔ اگر صرف علم ہی دین ہوتا تو حملہ آور کبھی نواسہ رسول ﷺ کے مقابل نہ کھڑے ہوتے۔ پھر اہل بیت اطہار کے مقدس سروں کو نیزوں پر بلند کرنے کی نوبت ہی کیوں آتی؟ ثابت ہوا دین میں علم ہے مگر علم میں دین نہیں۔ یہ بیت احکام قرآن کی معنویت کے بہت قریب اور مماثل ہیں کہ تمہارا ایمان کبھی مکمل نہیں ہو سکتا جب تک تمہیں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اپنی جان مال اولاد سے بڑھ کر نہ ہو جائے۔ معلوم ہوا ہماری جانیں تو ہیں ہی اپنے نبی اور اس کی اہل کی قرابت، عقیدت اور توقیر، پر نچھاور ہونے کے لیے۔ ان کا مقصود تخلیق اس کے ماسوا اور کچھ ہے ہی نہیں!
دراصل دین صرف عقل کا معاملہ نہیں بلکہ دل کی کیفیت ہے۔ عقل انسان کو راستہ دکھاتی ہے، مگر محبت اسے اس راستے پر چلنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ علم اگر دل میں ہو تو عشق، وفاداری اور اخلاص میں تبدیل نہ ہو تو وہ محض بحث و مباحثے کو پیدا کرتا ہے، قربانی نہیں۔ قربانی اس وقت جنم لیتی ہے جب انسان کے دل میں رسول اکرم ﷺ اور اہل بیت اطہار کی محبت جاگزیں ہو جائے۔ محبت کو دیکھنا ہے تو تاریخ میں رقم حقائق کے فلیش بیک کو دیکھیں جب پورا مکہ حملہ آور تھا مکے کی ان گلیوں میں جان کا پیاسا دشمن پاگلوں کی طرح گھوم رہا تھا گھات لگا کر بیٹھا تھا ایسے خوف و موت کے سایوں میں بے خوف، تنہا بستر رسول پر چادر رسول اوڑھ کے علی کرم اللہ وجہہ لیٹ گئے۔ پھر کفار مکہ ٹولیاں بنا کر خون کے پیاسے وحشیوں درندوں کی طرح نبی مکرمﷺ کو تلاش رہے تھے۔ ہر طرف دشمن کی یلغار تھی ایسے میں حضرت ابوبکر صدیق نے آقاء انعام دار، تاجدار دوعالم (فداک ابی و امی یا رسول اللہ) کو اپنے کندھوں پر سوار کیا، اور بے خطر جالوں اور موذی جانوروں کے سوراخوں سے بھری غار کے اندر چلے گئے پھر نصرت الٰہی نے فطرت کو محافظ بنا دیا۔
ابراہیم کو دیکھیں کہ کس بے خوفی، کس جرآت سے آتش نمرود میں کود پڑے یہ کمال محبت، کمال عشق ہی تو تھا جو مباحثوں کے دین سے نہیں مگر دربار گوہربار عشق نبی کے پرستاروں کے قلوب سے پھوٹتی ہے۔ ایسے قدموں کی چاپ بھی عرش بریں پر بازگشت کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا علم و عشق کے درمیان فرق کا سب سے بڑا استعارہ بن کر سامنے اتا ہے، ایک طرف جاننے والے تھے اور دوسری طرف نبھانے والے۔ ایک طرف شاہ عدم آباد تھے اور دوسری طرف دو منٹ کے تخت نشین جلاد تھے۔
سلطان باہو کے نزدیک ایمان کی تکمیل بھی اسی محبت سے وابستہ ہے۔ اگر جان، مال اور اولاد سے بڑھ کر نبی کریم ﷺ اور آل نبی کی محبت دل میں موجود ہے تو ایمان اپنی روح کو پا ہی لیتا ہے۔ کیونکہ اس دربار عالیشان میں خالص ایمان کے ماسوا اور ترجیح اول سے کمتر کوئی درجہ قبول نہیں ہوتا۔ لیکن اگر یہ محبت ناقص ہے تو ایمان اپنی مطلوبہ کیفیت کو نہیں پہنچ سکتا۔ میدان کربلا اسی حقیقت حق کو جان لینے پھر اس کے لیے دل و جان سے ڈٹ جانے کا عملی نمونہ ہے سلطان عارفین پھر فرماتے ہیں
سچا عشق حسین علی دا باہو
سر دیوے راز نا پھنے ہو
اسی فکر کے تسلسل کو حضرت سلطان باہو مذید وسعت دیتے کہتے ہیں۔ ان کے اس مختصر سے مصرعے میں کئی جہان معنی پوشیدہ ہیں۔ ان مصروں میں سب سے پہلا اشارہ یہ ہے کہ امام عالی مقام حضرت امام حسین عشق حقیقی کے پیکر کامل ہیں۔ آپ نے اسی مصرعے میں بتایا کہ عشق کیا ہے امام پاک کی پوری زندگی اور پھر کربلا میں آپ کی استقامت اس بات کی گواہ ہے کہ نانا سے، دین سے اور اپنے اللہ سے سچا عشق دعووں سے نہیں بلکہ وفا اور قربانیاں سے تکمیل کرتا ہے۔
دوسرا اشارہ یہ ہے کہ امام حسین ایک عظیم امانت اور بلند مقصد کے امین تھے۔ یہ امانت کسی دنیاوی اقتدار، سیاسی غلبے یا مفاد کی نہیں تھی، بلکہ دین محمدی ﷺ کی اصل روح، حق کی سربلندی، عدل کی حفاظت اور امت کی فکری و روحانی رہنمائی کی امانت تھی۔ یزید کی تو اوقات ہی نہ تھی اصل بات تو ذات، اس کی چاہت اور محبتوں کی تھی جس نے آج قربانی مانگی تھی۔
اسی طرح امام حسین نے بھی حکم خداوندی کے سامنے کامل رضا اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ ان کا سر تسلیم خم کر دینا رہتی دنیا تک قربانی، وفا، صبر اور حق پر ثابت قدمی کی معراج بن گیا۔ حقیقت میں اصل معاملہ نہ کسی شخص کا تھا اور نہ کسی اقتدار کا، بلکہ مالک کون و مکاں کی رضا، اس کی محبت اور اس کے دین کی سربلندی کا تھا، جس کے لیے امام حسین نے اپنی جان، اپنے اہل بیت اور اپنے تمام آرام و آسائش قربان کر دیے۔
بات اس مالک کون و مکاں کے حضرت حسین کریم پر فخر و اعتماد کی تھی کہ آج کل عالم باطن کربلا کی جانب نظریں جمائے دیکھ رہا تھا اللہ نے اپنے عظیم حسین کو میدان میں اتارا ہے اپنے سارے پیاروں ، جانثاروں کے ساتھ، دیکھو تو محبت میں کوئی کمی تو نہیں رہ گئی دیکھو تو کسی معصوم کی گردن کٹتے دیکھ کر حسین تعمیل عشق الٰہی سے پیچھے تو نہیں ہٹے، اور پھر دنیا نے دیکھا کہ حسین نے جانیں ہتھیلی پر رکھ دیں، آنسو بہانے کی جگہ خون بہاتے گئے، مگر اپنے نانا ﷺ کے محبوب دین اور اپنے رب کریم کے حکم پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا۔ اپنی جان، اپنے اہل بیت، اپنے اصحاب، اپنے نوجوانوں اور اپنے شیر خوار بچے تک کو راہ حق میں قربان کر دیا، مگر امانت کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا۔ سب ختم، قربان کر دیا، مگر چاہت کبریا کو سربلند رکھا۔ دائمی بقا کو عارضی فنا پر غالب رکھا۔ یہی تو اس فرمان الٰہی کی جیتی جاگتی عملی تفسیر تھی کہ
“تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک رسول اللہ ﷺ اسے اپنی جان، اپنے مال، اپنی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جائیں۔
آج عشق نے مقتل سجایا تھا آج عشق عرش تا فرش سر بازار اپنے جلوے بکھیر رہا تھا۔ سچ کہوں تو حسین عالمین میں لمحہ موجود بن کے بلند ہوا تھا۔
حسین نے اس حکم کو الفاظ سے نہیں، اپنے خون سے سینچا۔ انہوں نے بازار عشق میں وفا کا وہ آفتاب حقیقت فروزاں کیا جس کی روشنی صدیوں بعد بھی دلوں کو منور کر رہی ہے۔ کربلا دراصل اعلان ہے کہ جب دین مصطفی ﷺ اور رضائے الٰہی پر سوال اٹھے تو اہل عشق، اہل حق اپنا سب کچھ قربان کر دیتے ہیں، مگر دامن حق کی سرفرازی پر سوال نہیں انے دیتے۔
سلام ہو حسین پر، جنہوں نے اپنے خون سے دین کو حیات نو عطا کی، اور سلام ہو کربلا پر، جہاں وفا، عشق، صبر اور قربانی نے بلندیوں کی نئی تاریخ رقم کی اسی لمحہ عشق نے اپنے عروج کو چھوا۔
ادھر سچی عقیدت ہی کو اذن باریابی ہے
وہاں عالی ہماری حرف آرائی نہیں جاتی
یزیدی عہد ہے امت کی رسوائی نہیں جاتی
حسینیت کے دعوے ہیں کہیں پائی نہیں جاتی