محرم: امام حسینؓ پوری امت کے ہیں،کسی ایک فرقے کے نہیں

محرم الحرام کا مہینہ آتے ہی دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں نواسۂ رسول ﷺ، سید الشہداء حضرت امام حسینؓ کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ یہ یاد کسی ایک مکتبۂ فکر، کسی ایک گروہ یا کسی ایک فرقے تک محدود نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا مشترکہ سرمایہ ہے۔ حضرت امام حسینؓ وہ عظیم ہستی ہیں جن سے محبت ہر اس شخص کے دل میں موجود ہے جو کلمۂ طیبہ پر ایمان رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا کوئی مسلمان ایسا نہیں جو حضرت امام حسینؓ کے کردار، تقویٰ، شجاعت، صبر، قربانی اور عظمت کا منکر ہو۔ تمام مسلمان حسینی ہیں، اس معنی میں کہ وہ حضرت امام حسینؓ کو حق، صداقت، استقامت اور وفاداری کا عظیم نمونہ سمجھتے ہیں اور ان کے روشن کردار سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ محبتِ اہلِ بیتؓ دراصل محبتِ رسول ﷺ کا تسلسل ہے،

کیونکہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: “قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ” (الشوریٰ: 23) یعنی “اے نبی ﷺ! کہہ دیجیے کہ میں تم سے اپنی دعوت پر کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے اپنے قرابت داروں کی محبت کے۔” اسی طرح نبی کریم ﷺ نے حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کے بارے میں فرمایا: “الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة” یعنی “حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔” ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا: “حسین منی وأنا من حسین” یعنی “حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔” یہ وہ عظیم سند ہے

جس کے بعد کسی مسلمان کے دل میں حضرت امام حسینؓ کی عظمت کے بارے میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔ حضرت امام حسینؓ کی ولادت 5 شعبان 4 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپؓ حضرت علی المرتضیٰؓ اور حضرت فاطمہ الزہراؓ کے فرزند اور رسول اکرم ﷺ کے محبوب نواسے تھے۔ نبی کریم ﷺ آپؓ سے بے پناہ محبت فرماتے تھے۔ متعدد مواقع پر آپ ﷺ نے حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو اپنے کندھوں پر بٹھایا، گود میں لیا، سینے سے لگایا اور امت کو ان کی عظمت سے آگاہ فرمایا۔

روایات میں آتا ہے کہ جب ننھے حسینؓ حضور ﷺ کی پشت مبارک پر سوار ہو جاتے تو آپ ﷺ محبت سے فرماتے کہ تمہاری سواری کتنی بہترین ہے اور تم کتنے بہترین سوار ہو۔ ایک مرتبہ حضور ﷺ نماز ادا فرما رہے تھے، حضرت حسینؓ آ کر پشت مبارک پر سوار ہو گئے تو آپ ﷺ نے سجدہ طویل فرما دیا تاکہ بچے کو تکلیف نہ ہو۔ اس واقعے سے نہ صرف نبی کریم ﷺ کی شفقت ظاہر ہوتی ہے بلکہ حضرت امام حسینؓ کی محبوبیت کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔ حضرت امام حسینؓ نے بچپن ہی سے نبوت، صداقت، عبادت، علم، تقویٰ اور ایثار کے ماحول میں تربیت پائی۔

آپؓ نے اپنے نانا رسول اللہ ﷺ، والد حضرت علیؓ اور والدہ حضرت فاطمہؓ کے اخلاق و کردار کا عکس اپنی زندگی میں نمایاں کیا۔ آپؓ عبادت گزار، متقی، سخی، رحم دل، بردبار اور حق گو انسان تھے۔ آپؓ کی پوری زندگی اسلام کی تعلیمات کا عملی نمونہ تھی۔ آپؓ نے ہمیشہ حق کا ساتھ دیا، مظلوموں کی حمایت کی اور عدل و انصاف کو فروغ دیا۔ جب تاریخ کا وہ نازک دور آیا جس میں امتِ مسلمہ سیاسی اور اخلاقی آزمائشوں سے گزر رہی تھی تو حضرت امام حسینؓ نے اسلام کی حقیقی روح کے تحفظ کے لیے وہ کردار ادا کیا

جس نے انہیں رہتی دنیا تک امر کر دیا۔ سن 60 ہجری میں یزید بن معاویہ کی بیعت کا مسئلہ سامنے آیا تو حضرت امام حسینؓ نے اپنے ضمیر، اپنے علم اور اپنی دینی بصیرت کے مطابق وہ راستہ اختیار کیا جسے وہ حق سمجھتے تھے۔ آپؓ نے واضح کیا کہ ایک مسلمان کے لیے سب سے اہم چیز حق، عدل اور دین کی اقدار ہیں۔ چنانچہ آپؓ نے ظلم، جبر اور ناانصافی کے سامنے سر جھکانے کے بجائے صبر، استقامت اور حق گوئی کا راستہ اختیار کیا۔ یہی وہ فیصلہ تھا جس نے واقعۂ کربلا کو جنم دیا۔ کربلا صرف ایک جنگ یا ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ حق اور باطل کے درمیان ایک عظیم اخلاقی معرکہ تھا جس نے انسانیت کو یہ سبق دیا کہ اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے قربانی دینا بہتر ہے۔

حضرت امام حسینؓ اپنے اہلِ خانہ اور وفادار ساتھیوں کے ساتھ کربلا کے میدان میں پہنچے۔ وہاں پانی بند کیا گیا، مشکلات پیدا کی گئیں، آزمائشیں آئیں لیکن امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کے قدم متزلزل نہ ہوئے۔ عاشورہ کے دن آپؓ نے اور آپؓ کے ساتھیوں نے بے مثال قربانیاں پیش کیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ حضرت امام حسینؓ نے اپنی جان، اپنے اہلِ خانہ اور اپنے عزیزوں کی جانیں اللہ تعالیٰ کی رضا اور حق کی سربلندی کے لیے قربان کر دیں مگر باطل کے سامنے جھکنا قبول نہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ دنیا کے غیر مسلم مفکرین بھی حضرت امام حسینؓ کی قربانی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

مہاتما گاندھی نے اعتراف کیا کہ اگر کامیابی حاصل کرنی ہے تو امام حسینؓ کے اصولوں سے سیکھنا ہوگا۔ دنیا کے مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے لوگ بھی کربلا کو استقامت، آزادی اور انسانی وقار کی علامت سمجھتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت امام حسینؓ کی قربانی صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ حضرت امام حسینؓ نے اپنے عمل سے بتایا کہ اسلام کمزوری، مصلحت پرستی اور باطل کے سامنے سرنگوں ہونے کا نام نہیں بلکہ حق پر ڈٹ جانے، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہر قربانی دینے کا نام ہے۔ آپؓ نے امت کو یہ پیغام دیا کہ اگر حق اور باطل آمنے سامنے ہوں تو مسلمان کا فرض حق کا ساتھ دینا ہے خواہ اس کے لیے کتنی ہی بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔ اسی طرح واقعۂ کربلا نماز کی اہمیت کا بھی عظیم درس دیتا ہے۔

روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ شدید ترین حالات میں بھی نماز کو ترک نہیں کیا گیا۔ میدانِ کربلا میں جب جنگ اپنے عروج پر تھی تب بھی نماز ادا کی گئی۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا” (النساء: 103) یعنی “بے شک نماز مومنوں پر مقررہ وقتوں میں فرض کی گئی ہے۔” حضرت امام حسینؓ کی زندگی اور کربلا کا واقعہ اس آیت کی عملی تفسیر بن کر سامنے آتا ہے۔ آپؓ نے یہ ثابت کیا کہ عبادت، بندگی اور اللہ تعالیٰ سے تعلق ہر حال میں مقدم ہے۔ آج اگر ہم واقعی امام حسینؓ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمیں صرف ان کا نام لینے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان کے کردار، ان کی دیانت، ان کی عبادت، ان کے صبر، ان کی سچائی، ان کی جرأت اور ان کے عدل کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔ افسوس کی بات یہ ہے

کہ بعض اوقات محرم کے موقع پر محبتِ اہلِ بیتؓ کو فرقوں کی عینک سے دیکھا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ حضرت امام حسینؓ کسی ایک مسلک یا فرقے کے نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے مشترکہ سرمایہ ہیں۔ ان سے محبت کرنا کسی خاص شناخت کا اظہار نہیں بلکہ ایمان، محبتِ رسول ﷺ اور اہلِ بیتؓ سے وابستگی کا اظہار ہے۔ ہمیں نئی نسل کو یہ تعلیم دینی چاہیے کہ اہلِ بیتؓ کی محبت اتحاد کا ذریعہ ہے، اختلاف کا نہیں۔ حضرت امام حسینؓ کے نام پر نفرت، تعصب اور تفرقہ پیدا کرنا ان کے پیغام کے منافی ہے، کیونکہ انہوں نے تو انسانیت، عدل اور حق کا درس دیا تھا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے

کہ ہم امام حسینؓ کے پیغام کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں، ظلم کے خلاف آواز بلند کریں، کمزوروں کے حقوق کا تحفظ کریں، دیانت داری اختیار کریں، نمازوں کی پابندی کریں، سچ بولیں، وعدوں کی پاسداری کریں اور معاشرے میں محبت، اخوت اور اتحاد کو فروغ دیں۔ یہی حقیقی معنوں میں حسینی ہونا ہے۔ حسینی ہونا کسی نعرے یا دعوے کا نام نہیں بلکہ ایک کردار، ایک سوچ اور ایک طرزِ زندگی کا نام ہے۔ جب ہم حق کا ساتھ دیتے ہیں، انصاف قائم کرتے ہیں، مظلوم کی مدد کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھتے ہیں تو ہم امام حسینؓ کے راستے پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

محرم ہمیں رونا نہیں، جاگنا سکھاتا ہے؛ نفرت نہیں، محبت سکھاتا ہے؛ تقسیم نہیں، اتحاد سکھاتا ہے؛ کمزوری نہیں، استقامت سکھاتا ہے۔ حضرت امام حسینؓ کی زندگی اور شہادت رہتی دنیا تک یہ پیغام دیتی رہے گی کہ حق کبھی شکست نہیں کھاتا اور باطل کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ وقت گزر جاتا ہے، حکومتیں بدل جاتی ہیں، سلطنتیں مٹ جاتی ہیں، لیکن حق، صداقت اور قربانی کی روشن مثالیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔

اسی لیے آج چودہ سو برس گزرنے کے باوجود دنیا امام حسینؓ کا نام احترام سے لیتی ہے جبکہ ظلم و جبر کی علامتیں تاریخ کے اندھیروں میں گم ہو چکی ہیں۔ یہی کربلا کا اصل سبق ہے، یہی محرم کا حقیقی پیغام ہے اور یہی وہ پیغام ہے جس کی آج ہماری امت اور پوری انسانیت کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ سلام ہو امام حسینؓ پر، جنہوں نے ہمیں سکھایا کہ سر کٹایا جا سکتا ہے مگر حق اور سچائی کا پرچم کبھی سرنگوں نہیں کیا جا سکتا۔