
راولپنڈی شہر سے تقریباً 75 کلومیٹر اور چک بیلی خان سے لگ بھگ 10 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گاوں دھندہ، چونترہ کے چند بڑے اور اہم دیہات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ گاو¿ں تعلیمی، سماجی اور تجارتی اعتبار سے اپنے اردگرد کے علاقوں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہاں کے باسیوں نے تعلیم کے فروغ اور سماجی ترقی کیلئے قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں جس کے اثرات پورے علاقے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ دھندہ میں تعلیمی سہولیات نسبتاً بہتر ہیں۔ گاوں میں النصر اسکول سسٹم، قرآن البلاغ اسکول، دی اوسس اسکول، برائٹ وے اسکول اور نیشنل گرامر اسکول سمیت پانچ نجی تعلیمی ادارے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول اور گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول بھی موجود ہیں، جو علاقے کے بچوں اور بچیوں کو معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ دینی تعلیم کے فروغ کیلئےممتاز مدرسہ بھی قائم ہے۔
تعلیمی میدان میں یہ صورتحال یقینی طور پر اہلِ علاقہ کے شعور اور علم دوستی کی عکاس ہے۔مقامی معیشت کے حوالے سے بھی دھندہ ایک سرگرم گاوں ہے۔ یہاں تقریباً ایک سو دکانیں اور چند ریسٹورنٹس موجود ہیں جو نہ صرف مقامی ضروریات پوری کرتے بلکہ اردگرد کے دیہات کے لوگوں کو بھی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ بجلی کی سہولت دستیاب ہے جبکہ تقریباً نوے فیصد گلیاں پختہ ہیں، جو دیہی ترقی کی ایک مثبت علامت ہے۔اگرچہ دھندہ نے مختلف شعبوں میں ترقی کی ہے تاہم کئی بنیادی مسائل آج بھی توجہ کے منتظر ہیں۔
گاوں کی بعض اہم سڑکیں خستہ حالی کا شکار ہیں، جس کے باعث شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ اسی طرح قدرتی گیس کی سہولت کا نہ ہونا اہلِ علاقہ کا دیرینہ مسئلہ ہے۔ جدید دور میں بھی گاوں کے مکین اس بنیادی سہولت سے محروم ہیں اور انہیں مہنگے متبادل ذرائع پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔اتنی بڑی آبادی کے باوجود گاوں میں بنیادی مرکز صحت (BHU) موجود نہیں۔ معمولی بیماریوں سے لے کر ہنگامی طبی ضروریات تک، شہریوں کو دوسرے علاقوں کا رخ کرنا پڑتا ہے،
جس سے وقت، پیسے اور توانائی کا ضیاع ہوتا ہے۔گاوں میں بعض سماجی ضروریات بھی تشنہ تکمیل ہیں۔ قبرستان کے گرد حفاظتی دیوار موجود نہیں جس سے قبرستان کے تحفظ اور تقدس کے حوالے سے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح جنازہ گاہ کی عدم موجودگی بھی ایک اہم مسئلہ ہے، جس کے باعث اہلِ علاقہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اتنی بڑی آبادی، تجارتی سرگرمیوں اور تعلیمی اداروں کے باوجود یہاں کسی بینک کی شاخ موجود نہیں۔ نتیجتاً لوگوں کو معمول کے مالی معاملات کیلئے دوسرے شہروں اور قصبوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔
گاوں میں یونین کونسل کا دفتر تو موجود ہے، لیکن اس کیلئے مستقل سرکاری عمارت دستیاب نہیں۔ عوامی خدمات کی بہتر فراہمی اور انتظامی امور کے موثر انعقاد کیلئے یونین کونسل کی باقاعدہ سرکاری عمارت کا قیام ناگزیر ہے۔دھندہ کی ترقی اور خوشحالی صرف سرکاری اداروں کی ہی نہیں بلکہ یہ پورے گاوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ گاو¿ں کی سماجی، سیاسی اور مذہبی شخصیات، منتخب نمائندے، کاروباری حضرات، بیرونِ ملک مقیم اہلِ علاقہ اور خصوصاً نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ ذاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر گاوں کی فلاح و بہبود کیلئے متحد ہوں۔
تعلیم، صحت، صفائی، شجرکاری، سماجی ہم آہنگی اور عوامی مسائل کے حل کیلئے مشترکہ کوششیں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ نوجوان اپنی توانائی، صلاحیتوں اور جدید سوچ کے ذریعے گاوں کی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں جبکہ بااثر شخصیات اپنے روابط اور وسائل کو عوامی مفاد کے منصوبوں کیلئے بروئے کار لا سکتی ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ حکام گاوں کی ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھیں، گیس، صحت، بینکاری، جنازہ گاہ اور قبرستان کے تحفظ جیسے مسائل حل کریں اور یونین کونسل کے لیے مستقل سرکاری دفتر قائم کریں۔ اگر سرکاری ادارے، منتخب نمائندے اور اہلِ علاقہ مل کر سنجیدہ کوششیں کریں تو دھندہ نہ صرف چونترہ بلکہ پورے خطے کے لیے ایک مثالی اور ترقی یافتہ دیہات بن سکتا ہے۔