تحریر: حافظ نصرت علی خان
عیدالاضحیٰ مسلمانوں کے عظیم مذہبی تہواروں میں سے ایک ہے جو حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی بے مثال قربانی کی یاد تازہ کرتا ہے۔ یہ دن صرف جانوروں کی قربانی تک محدود نہیں بلکہ ایثار، اخلاص، اطاعت اور اجتماعی ذمہ داری کا بھی درس دیتا ہے۔ ہر سال لاکھوں مسلمان سنتِ ابراہیمیؑ پر عمل کرتے ہوئے جانور قربان کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں شہروں، قصبوں اور دیہات میں بڑی مقدار میں آلائشیں اور دیگر فضلہ پیدا ہوتا ہے۔ اگر ان آلائشوں کو بروقت اور مناسب طریقے سے ٹھکانے نہ لگایا جائے تو یہ نہ صرف ماحول کو آلودہ کرتی ہیں بلکہ مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر صفائی ستھرائی کے انتظامات کسی بھی ضلعی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا امتحان ہوتے ہیں۔
اسلام نے صفائی کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ “صفائی نصف ایمان ہے”۔ یہ مختصر مگر جامع فرمان اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ پاکیزگی اور صفائی صرف ایک سماجی ضرورت نہیں بلکہ ایک دینی تقاضا بھی ہے۔ مسلمان ہونے کے ناطے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے گھروں، محلوں، گلیوں اور شہروں کو صاف ستھرا رکھیں اور ایسے کسی عمل سے گریز کریں جو ماحول کو آلودہ کرنے کا سبب بنے۔
خوش آئند امر یہ ہے کہ ضلع اٹک میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر صفائی ستھرائی کے لیے انتظامیہ نے بروقت اور جامع منصوبہ بندی کی ہے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل اٹک و مینجنگ ڈائریکٹر ستھرا پنجاب ایجنسی انیل سعید کی جانب سے میڈیا بریفنگ میں جو تفصیلات سامنے آئیں، وہ اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ ضلعی انتظامیہ اس اہم فریضے کو پوری سنجیدگی سے انجام دینے کے لیے تیار ہے۔ شہریوں کی رہنمائی اور شکایات کے فوری ازالے کے لیے خصوصی ہیلپ لائن 1139 کا قیام اور ضلع و تحصیل سطح پر کنٹرول رومز کا فعال ہونا ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ عید کے دنوں میں عوام کو شکایات درج کروانے یا متعلقہ اداروں تک رسائی میں مشکلات پیش آتی ہیں، لیکن ہیلپ لائن اور کنٹرول رومز کے ذریعے یہ مسائل کافی حد تک حل ہو سکتے ہیں۔
صفائی آپریشن کے لیے 3234 ورکرز کی تعیناتی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ انتظامیہ نے افرادی قوت کے حوالے سے بھرپور تیاری کی ہے۔ یہ کارکن عید کے دنوں میں اپنی خوشیوں کو پس پشت ڈال کر عوامی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب لوگ اپنے گھروں میں عید کی خوشیاں منا رہے ہوتے ہیں تو صفائی کے یہ کارکن گلیوں، سڑکوں اور محلوں میں صفائی کے فرائض انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ ان کی خدمات قابلِ تحسین ہیں اور معاشرے کو چاہیے کہ ان کے ساتھ تعاون اور احترام کا رویہ اختیار کرے۔
اسی طرح 673 چھوٹی اور بڑی مشینری کی فراہمی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ جدید وسائل کو بھی صفائی مہم کا حصہ بنایا گیا ہے۔ موجودہ دور میں صرف افرادی قوت پر انحصار کافی نہیں بلکہ مشینی نظام کی مدد سے ہی بڑے پیمانے پر صفائی کے کام کو کم وقت میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔ بالخصوص آلائشوں کی منتقلی اور تلفی کے لیے جدید مشینری کا استعمال ماحول کو صاف رکھنے میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے شہریوں میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد خصوصی بیگز تقسیم کرنے کا فیصلہ بھی قابلِ ستائش ہے۔ ماضی میں اکثر یہ شکایت سامنے آتی تھی کہ قربانی کے بعد آلائشیں کھلے عام سڑکوں، نالوں یا خالی جگہوں پر پھینک دی جاتی تھیں، جس سے تعفن پھیلتا اور صفائی کا نظام متاثر ہوتا تھا۔ خصوصی بیگز کی فراہمی عوام کو یہ سہولت فراہم کرے گی کہ وہ آلائشوں کو محفوظ انداز میں جمع کر کے متعلقہ عملے کے حوالے کر سکیں۔ تاہم اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے عوامی تعاون بھی ناگزیر ہے۔
ضلع بھر میں 51 کلیکشن پوائنٹس کا قیام بھی انتظامیہ کی بہتر حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ان میں 45 عارضی اور 6 مستقل پوائنٹس شامل ہیں۔ ان مراکز کا مقصد یہ ہے کہ قربانی کی باقیات اور کھالوں کو ایک منظم طریقے سے جمع کیا جا سکے اور انہیں بروقت تلف کیا جا سکے۔ اگر یہ نظام مؤثر انداز میں کام کرے تو گلیوں اور محلوں میں آلائشوں کے ڈھیر لگنے کے امکانات کافی حد تک کم ہو جاتے ہیں۔
تاہم تمام تر انتظامات کے باوجود کامیابی کا انحصار صرف سرکاری اداروں پر نہیں بلکہ عوامی تعاون پر بھی ہوتا ہے۔ اگر شہری صفائی کے اصولوں کی پابندی نہ کریں، آلائشوں کو کھلے عام پھینکیں یا مقررہ ہدایات کو نظر انداز کریں تو بہترین انتظامات بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور قربانی کے بعد آلائشوں کو مناسب طریقے سے پیک کر کے مقررہ مقامات یا صفائی عملے کے حوالے کرے۔
میڈیا کا کردار بھی اس حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ اخبارات، ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز عوام میں شعور اجاگر کرنے اور صفائی کے پیغام کو عام کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر میڈیا انتظامیہ کی ہدایات اور عوامی مفاد کے پیغامات کو مؤثر انداز میں پہنچائے تو صفائی مہم کے نتائج مزید بہتر ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے میڈیا نمائندگان کو بھی اس مہم کا اہم شراکت دار قرار دیا ہے۔
عیدالاضحیٰ دراصل قربانی کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط، صفائی اور اجتماعی ذمہ داری کا بھی امتحان ہے۔ ایک مہذب اور ذمہ دار معاشرے کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنی مذہبی اور سماجی سرگرمیوں کو اس انداز میں انجام دے کہ دوسروں کے لیے مشکلات پیدا نہ ہوں۔ اگر ہم اسلام کے سنہری اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صفائی کا خیال رکھیں تو نہ صرف ہمارا ماحول بہتر ہوگا بلکہ ہم اپنے دین کی حقیقی تعلیمات پر بھی عمل کر سکیں گے۔
ضلع اٹک میں کیے گئے انتظامات یقیناً قابلِ تعریف ہیں، لیکن ان کی کامیابی کے لیے عوام، میڈیا، بلدیاتی اداروں اور صفائی عملے کو مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر اگر ہم سب مل کر صفائی کو اپنی اجتماعی ذمہ داری سمجھیں تو نہ صرف شہر خوبصورت اور صاف ستھرا نظر آئے گا بلکہ ہم آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک مثبت مثال قائم کر سکیں گے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ صفائی صرف انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کا قومی، سماجی اور دینی فریضہ ہے۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ قربانی کے جذبے کے ساتھ صفائی کے جذبے کو بھی زندہ رکھیں گے، تاکہ ہمارا معاشرہ صحت مند، مہذب اور اسلامی تعلیمات کے مطابق ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ واقعی “صفائی نصف ایمان ہے” اور ایک صاف ستھرا معاشرہ ہی ایک مضبوط اور باشعور قوم کی علامت ہوتا ہے۔