محمد انور فراق قریشی: پوٹھوہاری ادب کا درخشندہ ستارہ

پوٹھوہار کی جسور و غیور دھرتی نے نہ صرف شمشیرِ بکف سپاہی پیدا کیے ہیں بلکہ اقلیمِ سخن کے وہ شہسوار بھی اس مٹی کی مانگ میں ستاروں کی مانند جھلملاتے نظر آتے ہیں جن کی فکر نے اردو، پنجابی اور بالخصوص پوٹھوہاری زبان کو اعتبار بخشا۔ انھی تابندہ ستاروں میں ایک معتبر نام محمد انور فراق قریشی کا ہے، جو اس کہکشاں کے وہ درخشندہ ستارہ ہیں جن کی شعری ضیا سے پوٹھوہاری ادب کا افق آج بھی گلفام ہے۔انور فراق قریشی نے اپنی سخنوری کا آغاز اردو زبان سے کیا، مگر جلد ہی مٹی کی ممتا اور عوامی جڑوں سے جڑنے کے احساس نے ان کے قلم کا رخ اپنی مادری زبان کی طرف موڑ دیا۔ انہیں ادراک ہوا کہ اپنے لوگوں کے دلوں کی دھڑکنیں بننے اور ان کے دکھ سکھ بانٹنے کے لیے پوٹھوہاری سے بہتر کوئی دوسرا وسیلہ نہیں۔ چنانچہ انہوں نے پوٹھوہاری زبان میں شعری تخلیق کا باقاعدہ آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے فن و ثقافت کے افق پر ایک منفرد شناخت حاصل کر لی۔خطہ پوٹھوہار میں چوبرگہ کی صنف سخن کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہے۔ اگرچہ اس کا نقشِ اول ہندکو زبان میں ملتا ہے اور بعد ازاں جناب دل پذیر شاد، اختر امام رضوی، عابد حسین جنجوعہ اور وحید قاسم جیسے اساتذہ نے اس صنف کو اپنے جواہرِ پاروں سے مالا مال کیا، لیکن انور فراق قریشی نے اس صنف کو ایک نئی وسعت اور عوامی لب و لہجہ عطا کیا۔ چوبرگہ کے مخصوص بحور و قوافی اور اس کے فنی ضوابط کی تنگنائے میں اپنے خیال کی جوت جگانا انھی کا خاصہ تھا۔پوٹھوہار میں روایتی مشاعروں کے بجائے شعر خوانی کی ایک نہایت مضبوط اور توانا روایت رہی ہے۔ اس صنف کے شہسوار ‘شعر خوان’ کہلاتے ہیں جو مخصوص طرز، لوک سازوں اور منفرد لے میں شعراءکا کلام پیش کرتے ہیں۔ راجہ خوشحال خان سے شروع ہونے والی یہ روایت رضا شاہ سے ہوتی ہوئی چوہدری اکرم تک ایک توانا تسلسل کے ساتھ موجود ہے۔شعر خوانی کی ان محافل میں شاعر اور عوام کا رشتہ براہِ راست استوار ہوتا ہے۔ کسی شاعر کی مقبولیت کا معیار یہ ہے کہ محفل میں اس کا کلام کس کثرت سے پڑھا جا رہا ہے۔ اس میزان پر دیکھا جائے تو سائیں احمد علی، دائم اقبال دائم اور ماسٹر شریف نثار کے ہم پلہ انور فراق قریشی کا نام آتا ہے، جن کے کلام کے بغیر آج بھی پوٹھوہار کی کوئی ادبی محفل ادھوری سمجھی جاتی ہے۔مختصر یہ کہ محمد انور فراق قریشی مرحوم کی شعری خدمات پوٹھوہاری زبان و ادب کا وہ اثاثہ ہیں جسے وقت کی گرد دھندلا نہیں سکتی۔ انہوں نے نہ صرف اپنی زبان کو اظہار کے نئے قرینے سکھائے بلکہ لوک دانش (Folk Wisdom) کو شعری قالب میں ڈھال کر آنے والی نسلوں کے لیے ایک مشعلِ راہ چھوڑی۔ آج اگرچہ وہ جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر پوٹھوہار کے کہساروں، ڈھوکوں اور ادبی نشستوں میں ان کے اشعار کی بازگشت ان کی دائمی موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔ ان کا فن اس خطے کی تہذیبی شناخت کا وہ حوالہ ہے جو ہمیشہ ترو تازہ رہے گا۔