ایران اسلامی ممالک میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے جہاں کم وسائل کے باوجود خودداری، غیرت، شہادت اور حب الوطنی کا جذبہ نمایاں نظر آتا ہے۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کسی قوم کی اصل طاقت اس کے وسائل نہیں بلکہ اس کا نظریہ، اتحاد اور عزم ہوتا ہے۔ ایران نے مختلف عالمی دباؤ، معاشی پابندیوں اور سفارتی تنہائی کے باوجود اپنے قومی تشخص کو برقرار رکھا اور خودمختاری کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔
پر کئی دہائیوں سے اقتصادی پابندیاں عائد رہیں، جن کی وجہ سے تیل کی برآمدات، بینکاری نظام اور بین الاقوامی تجارت شدید متاثر ہوئی۔ اس کے باوجود ایران نے “مزاحمتی معیشت” (Resistant Economy) کا تصور اپنایا، جس کے تحت مقامی صنعتوں کو فروغ دیا گیا، زراعت میں خود کفالت کی کوشش کی گئی اور مقامی مصنوعات کے استعمال کو ترجیح دی گئی۔ اس پالیسی نے عوام میں خود انحصاری کا شعور پیدا کیا۔
1979ء کے اسلامی انقلاب نے ایران کی سیاست اور معاشرت پر گہرا اثر ڈالا۔ کی قیادت میں برپا ہونے والے اس انقلاب نے مغربی اثرات سے آزادی اور اسلامی نظام کے قیام کا نعرہ بلند کیا۔ انقلاب کے بعد ایران نے اپنی خارجہ پالیسی کو “نہ مشرقی نہ مغربی” کے اصول پر استوار کیا، جس کا مقصد مکمل خودمختاری حاصل کرنا تھا۔
ایران اور کے درمیان 1980ء سے 1988ء تک جاری رہنے والی جنگ نے ایرانی قوم کی استقامت کا امتحان لیا۔ اس جنگ میں لاکھوں افراد متاثر ہوئے اور ہزاروں نوجوان شہید ہوئے۔ وسائل کی کمی، اسلحے کی قلت اور عالمی تنہائی کے باوجود ایرانی عوام نے اپنے ملک کا دفاع کیا۔ اس جنگ کو ایران میں “دفاع مقدس” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، جو قومی غیرت اور قربانی کی علامت بن چکا ہے۔
شہادت کا تصور ایرانی معاشرے میں مذہبی اور قومی دونوں حوالوں سے اہمیت رکھتا ہے۔ کی قربانی کو ایرانی قوم اپنے لیے عملی نمونہ سمجھتی ہے۔ محرم کے جلوس، مجالس اور کربلا کی یاد ایرانی عوام میں ظلم کے خلاف مزاحمت اور حق کی خاطر قربانی دینے کا جذبہ تازہ رکھتے ہیں۔ یہی جذبہ جنگ کے دوران اور بعد میں بھی قوم کی طاقت بنا رہا۔
سائنسی اور تکنیکی میدان میں بھی ایران نے نمایاں ترقی کی ہے۔ ایٹمی توانائی کے پروگرام، میزائل ٹیکنالوجی، نینو ٹیکنالوجی اور طب کے شعبے میں تحقیق نے ایران کو خطے میں ایک اہم مقام دیا ہے۔ اگرچہ ان پروگراموں پر عالمی تنقید بھی ہوئی، لیکن ایران نے انہیں اپنی سلامتی اور ترقی کے لیے ضروری قرار دیا۔ کئی ایرانی سائنسدانوں نے ان منصوبوں میں اہم کردار ادا کیا اور بعض نے اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا، جس سے شہادت اور قومی خدمت کا تصور مزید مضبوط ہوا۔تعلیم کے شعبے میں ایران نے خواندگی کی شرح میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ دیہی علاقوں میں اسکولوں اور جامعات کا قیام، خواتین کی تعلیم میں اضافہ اور سائنسی تحقیق پر سرمایہ کاری نے نوجوان نسل کو بااختیار بنایا ہے۔ آج ایرانی نوجوان انجینئرنگ، میڈیکل اور دیگر شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں، جو حب الوطنی کے جذبے کا عملی اظہار ہے۔ایرانی معاشرہ ثقافتی طور پر بھی اپنی شناخت پر فخر کرتا ہے۔ فارسی زبان، ادب، شاعری اور روایات کو زندہ رکھنا قومی غیرت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ قومی تہواروں اور مذہبی تقریبات میں عوام کی بھرپور شرکت اتحاد اور یکجہتی کو مضبوط کرتی ہے، جس سے داخلی استحکام کو تقویت ملتی ہے۔
ایران آج ایک نہایت نازک اور حساس مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ملک کے اندر گزشتہ چند ماہ سے عوامی احتجاجات، معاشی مشکلات اور سیاسی کشمکش نے صورتحال کو کشیدہ بنایا ہوا ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور بے روزگاری بڑھ گئی ہے، جبکہ سیکیورٹی ادارے سخت چوکیاں قائم کیے ہوئے ہیں۔ پاکستان سمیت کئی ممالک کے شہریوں کو ایران سے واپس بلانے جیسے اقدامات کیے گئے، جس سے موجودہ کشیدگی کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔
حال ہی میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای انتقال کر گئے، جنہوں نے 1989ء سے ایران کی قیادت کی تھی اور ملک کی سیاست، خارجہ پالیسی اور نظریاتی بنیادوں پر بڑا اثر رکھا۔ ان کی موت کی تصدیق ایران کی سرکاری میڈیا نے کی ہے، جس کے بعد ملک بھر میں 40 روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا، اور ایران کی عسکری اور سیکیورٹی فورسز نے جوابی اقدامات اور ردِ عمل کی دھمکی دی ہے۔
سپریم لیڈر کے انتقال نے ایران کو ایک نہایت اہم موڑ پر پہنچا دیا ہے، جہاں آئینی عمل کے تحت نئی قیادت کے انتخاب کا طریقہ کار شروع کیا جا رہا ہے، مگر اندرونی بے چینی، خارجہ دباؤ اور تنازعات نے مستقبل کی سمت کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.