اسلام آباد (پنڈی پوسٹ نیوز) وفاقی آئینی عدالت نے سی پی ایل اے نمبر 3378 آف 2022 میں ایک اہم فیصلہ جاری کیا ہےجس میں قبل از وفات بیٹی کے ورثاء کے وراثتی حقوق تسلیم کیا گیا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت جس کی سربراہی چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان کر رہے تھے ان کے ہمراہ جسٹس علی باقر نجفی بھی شامل تھے، یہ مقدمہ موضع دھونکل، تحصیل وزیرآباد میں اراضی کے بندوبست سے متعلق وراثتی حقوق کے معاملے پر مبنی تھا۔
یہ کیس ایک طویل عرصے سے جاری اس کوتاہی سے متعلق تھا جس میں قبل از وفات بیٹی سردار بیگم کو سرکاری وراثتی ریکارڈ میں شامل نہیں کیا گیا، جس کے نتیجے میں وہ اپنے قانونی حصے سے محروم رہیں اور ان کے ورثاء بھی کئی دہائیوں تک اس حق سے محروم رہے۔ دوران سماعت دیگر قانونی ورثاء نے اس بات کو تسلیم کیا کہ سردار بیگم مرحوم کی حقیقی بیٹی تھی۔ عدالت نے اپنے حکم میں قرار دیا کہ قبل از وفات بیٹی کے قانونی ورثاء اپنی والدہ کے اس حصے کے حق دار ہیں جو انہیں قانون کے مطابق ملنا تھا۔
اس اصول کو برقرار رکھتے ہوئے عدالت نے ہدایت کی کہ سردار بیگم کے ورثاء کو مقدمے میں فریق بنایا جائے۔مزید برآں عدالت نے مختلف بندوبستی اسکیموں کے تحت پہلے سے تقسیم شدہ جائیداد کا ازسرِ نو جائزہ لینے کا حکم دیا تاکہ ایسی نئی تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے جس میں محروم رہ جانے والے ورثاء کا جائز حصہ شامل ہو۔اپنے احکامات پر مؤثر عملدرآمد کے لیے عدالت نے متعلقہ کنسولیڈیشن افسر، پٹواری اور تحصیلدار کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا ہے تاکہ وہ عدالت کی معاونت کریں اور احکامات کی تعمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ فیصلہ وراثتی حقوق کے تحفظ اور ماضی کی ناانصافیوں کے ازالے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ حکم خاص طور پر خواتین اور ان کی نسلوں کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے آئینی عزم کو مزید مضبوط بناتا ہے۔۔