اسلام آباد(نمائندہ پنڈی پوسٹ) انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے سابق وفاقی وزیر شیری مزاری کی بیٹی ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی مزید 2 مقدمات میں ضمانت منظور کر لی۔
اے ٹی سی کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے پانچ، پانچ ہزار روپے مچلکوں کے عوض دو مقدمات میں ضمانت منظور کی، ایک کیس ہائیکورٹ کے باہر لڑائی جھگڑے اور دوسرا پریس کلب کے باہر احتجاج کا ہے۔
ہائیکورٹ کے باہر لڑائی جھگڑے کیس میں گزشتہ روز مدعی صدر ہائیکورٹ بار واجد گیلانی نے بیان حلفی جمع کرایا تھا۔متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان اور ہادی کی ضمانت ابھی تک منظور نہیں ہوئی جس کی وجہ سے اُن کی رہائی ممکن نہیں، مذکورہ کیس میں سزا معطلی کی درخواستیں ابھی ہائیکورٹ میں مقرر بھی نہیں ہوئیں۔
دریں اثناء اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس محمد آصف نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواست جلد مقرر کرنے کی درخواست پر سماعت کی، اسلام آباد بار کے وکلا ریاست علی آزاد ، ظفر کھوکھر، اشرف گجر ودیگر عدالت میں پیش ہوئے۔وکیل ریاست علی آزاد نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے کہا تھا کیس جلد مقرر ہو جائے گا، فیصل صدیقی صاحب ہمارے وکیل ہیں انہوں نے کراچی سے آنا ہے کوئی تاریخ دے دیں۔
جسٹس محمد آصف نے ریمارکس دیئے کہ پالیسی کے مطابق کیسز لگتے ہیں، کیسز کی سماعت ختم ہو جائے پھر آپ کو تاریخ بتا دیتے ہیں۔ریاست علی آزاد نے کہا کہ سزا معطلی میں ریکارڈ کی بھی ضرورت نہیں ہوتی، ہمارا کیس ہی یہ ہے کہ ٹرائل کورٹ فیصلے کو قانون کے مطابق تبدیل نہیں کر سکتی، دست بستہ استدعا ہے عید سے پہلے کی کوئی تاریخ دے دیں۔
ظفر کھوکھر ایڈووکیٹ نے کہا کہ سزا معطلی کی ہمیشہ جلد سماعت ہونا ہوتی ہے، جسٹس محمد آصف نے ریمارکس دیے کہ سزا زیادہ ہے دس سال ہے، سات سال سے کم ہوتی تو دیکھ لیتے۔ریاست علی آزاد نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے اپیل مقرر کریں صرف سزا معطلی مقرر کرنے کی استدعا کر رہے ہیں، ادب سے دوبارہ درخواست کر رہا ہوں عید سے پہلے کیس مقرر کر دیں۔
ظفر کھوکھر ایڈووکیٹ نے کیس مقرر کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ پوری بار آپ کے سامنے کھڑی ہے جس پر جسٹس محمد آصف نے ریمارکس دیئے کہ انشاء اللہ ہم دیکھتے ہیں۔