جب ریاستی فیصلے سوال بن جائیں،اعتماد کا بحران گہرا

پاکستان کی سیاست اور معیشت کے گرد گھومتی ہوئی کہانیاں اکثر ایسے سوالات کو جنم دیتی ہیں جو عوام کے دل و دماغ میں بے چینی، اضطراب اور شکوک پیدا کر دیتے ہیں۔ حالیہ دنوں ایک خبر نے خاص طور پر لوگوں کو چونکا دیا کہ قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے 21 جہاز تقریباً 10 ارب روپے میں فروخت کر دیئے گئے۔ دوسری جانب صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے لئے 13 نشستوں والا ایک گلف سٹریم لگژری طیارہ تقریباً 11 ارب روپے میں خریدا گیا۔ یہ تقابل نہ صرف مالی ترجیحات پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ حکومتی پالیسیوں کی سمت اور سنجیدگی پر بھی بحث چھیڑ دیتا ہے کیونکہ دونوں فیصلے ایک ہی ریاستی ڈھانچے کے اندر ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
جب ایک قومی ادارہ مالی بحران کا شکار ہو، اس کے ملازمین تنخواہوں اور مراعات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال میں ہوں اور اس کے اثاثے فروخت کئے جا رہے ہوں تو عوام فطری طور پر یہ توقع رکھتے ہیں کہ حکومت کفایت شعاری، سادگی اور وسائل کے محتاط استعمال کو اپنائے گی لیکن اگر اسی دوران حکومتی شخصیات کے لئے مہنگے اور لگژری طیارے خریدے جائیں تو یہ تضاد عوامی اعتماد کو مجروح کرتا ہے اور حکمرانوں کی نیت و ترجیحات پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔
عوام یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ آخر ریاستی ترجیحات کیا ہیں اور قومی خزانے کو کس زاویئے سے دیکھا جا رہا ہے؟ کیا وسائل کا استعمال عوامی فلاح، صحت، تعلیم اور روزگار کیلئے ہو رہا ہے یا پھر بااثر طبقے کی سہولتوں اور آرام دہ سفر کے لئے، ایسے حالات میں جب مکمل معلومات سامنے نہ آئیں تو شفافیت کی کمی بدگمانی کو مزید بڑھا دیتی ہے اور افواہوں کو جنم دیتی ہے۔
ہائبرڈ جمہوریت کی اصطلاح اکثر سیاسی مباحث اور ٹی وی ٹاک شوز میں استعمال ہوتی ہے مگر عام شہری کے لئے اس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ اسے بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، ٹیکسوں کے بوجھ اور معاشی دباو¿ کا سامنا ہے۔ جب روٹی، بجلی، گیس، پٹرول اور علاج کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہوں تو اربوں روپے کے لگژری اخراجات دلوں میں چبھن اور احساسِ محرومی پیدا کرتے ہیں، جو وقت کے ساتھ غصے میں بدل سکتا ہے۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ حکومتی عہدیداروں کے بعض اوقات بیرونی دورے، سفارتی ملاقاتیں اور ہنگامی سرکاری ذمہ داریاں ہوتی ہیں جن کے لئے تیز رفتار اور محفوظ سفر ضروری سمجھا جاتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان مقاصد کے لئے سادگی، کرائے کے طیاروں یا موجودہ وسائل کے بہتر استعمال جیسے متبادل راستے موجود نہیں تھے، جو قومی خزانے پر کم بوجھ ڈالتے؟
ایک عام پاکستانی جو روزانہ کی بنیاد پر مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے، محدود آمدنی میں اپنے گھر کا بجٹ بنانے کی جدوجہد کر رہا ہے وہ جب اربوں روپے کے طیاروں کی خبریں سنتا ہے تو اس کے دل میں مایوسی اور بے بسی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے ٹیکس کا پیسہ اس کی زندگی آسان بنانے کے بجائے اشرافیہ کی آسائشوں پر خرچ ہو رہا ہے جس سے ریاست اور شہری کے درمیان فاصلہ بڑھتا جاتا ہے۔
معیشت کی کمزور حالت میں ہر روپیہ قیمتی ہوتا اور ہر فیصلہ دور رس اثرات کا حامل ہوتا ہے۔ اگر یہی وسائل تعلیمی اداروں کی بہتری، سرکاری اسپتالوں کی سہولیات، پینے کے صاف پانی اور روزگار کے منصوبوں پر خرچ کئے جائیں تو لاکھوں خاندانوں کی زندگی بدل سکتی ہے اور غربت میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ مگر جب ترجیحات عوامی ضروریات سے ہٹ جائیں تو ترقی کا سفر سست ہو جاتا ہے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں قومی ایئرلائن کی حالت پہلے ہی تشویشناک رہی ہے اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کو کئی برسوں سے خسارے، بدانتظامی، قرضوں اور انتظامی کمزوریوں کا سامنا ہے، ایسے میں اس کے اثاثوں کی فروخت اور دوسری جانب مہنگے جہاز کی خریداری تضاد کو اور زیادہ نمایاں کر دیتی ہے، جس پر سنجیدہ بحث کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جانیں کہ ان کے پیسے کہاں، کیوں اور کس ضرورت کے تحت خرچ ہو رہے ہیں۔ جمہوریت کا حسن ہی احتساب، شفافیت اور عوامی جوابدہی میں ہے اور اگر حکمران طبقہ اپنے فیصلوں کی مکمل تفصیل، لاگت اور متبادل آپشنز عوام کے سامنے رکھے تو شکوک و شبہات کافی حد تک کم ہو سکتے ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں طاقتور طبقہ اکثر خود کو عوام سے بالاتر سمجھنے لگتا ہے اور یہی سوچ فاصلے بڑھاتی ہے۔ جب حکمرانوں کا طرزِ زندگی عام شہری سے یکسر مختلف ہو جائے تو احساسِ بیگانگی پیدا ہوتا ہے اور عوام کو لگتا ہے کہ ان کی آواز ایوانوں تک نہیں پہنچتی۔
جب حکمران سادگی اختیار کرتے، کفایت شعاری کی مثال قائم کرتے اور اپنے اخراجات عملاً کم کرتے ہیں تو اس کا مثبت اثر پورے نظام پر پڑتا ہے۔ دنیا کی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں رہنماو¿ں نے ذاتی آسائشوں کو محدود کرکے عوام کا اعتماد جیتا اور اپنی قیادت کو اخلاقی برتری دی۔
پاکستان میں بھی بارہا سادگی، احتساب اور کفایت شعاری کے دعوے کئے گئے مگر عملی طور پر اس کا مظاہرہ کم ہی دیکھنے کو ملا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی مہنگا سرکاری منصوبہ سامنے آتا ہے تو عوام کے دلوں میں شکوک اور سوالات جنم لیتے ہیں۔
عوام کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا اور سیاسی شعور کو مضبوط بنانا ہوگا۔ اگر وہ ہر انتخاب میں برادری، ذاتی تعلقات، وقتی جذبات یا دلکش نعروں کی بنیاد پر ووٹ دیتے رہیں گے تو حالات میں بنیادی تبدیلی آنا مشکل ہوگا۔
ووٹ ایک امانت ،طاقت اور ایک ذمہ داری بھی ہے، جس کا درست استعمال ہی حقیقی تبدیلی لا سکتا ہے۔ دیانت دار، باصلاحیت اور عوامی خدمت کا جذبہ رکھنے والے افراد کو آگے لانے کے لئے سوچ سمجھ کر اور تحقیق کے بعد فیصلہ کرنا ضروری ہے۔
کرپشن اور شاہانہ طرزِ زندگی وقتی طور پر چند افراد کو فائدہ پہنچا سکتا ہے مگر اس کا بوجھ پورا معاشرہ اٹھاتا ہے اور آنے والی نسلیں بھی اس کے اثرات سے متاثر ہوتی ہیں۔ معاشی ناہمواری بڑھتی ہے، متوسط طبقہ کمزور ہوتا ہے اور غربت کا دائرہ وسیع ہوتا جاتا ہے۔
جب ریاستی وسائل کا منصفانہ اور دانشمندانہ استعمال نہ ہو تو ادارے کمزور ہو جاتے ہیں اور کمزور ادارے کسی بھی ملک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ مضبوط معیشت اور مستحکم اداروں کے بغیر قومی خودمختاری بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
میڈیا، دانشوروں اور سول سوسائٹی کا کردار بھی اس حوالے سے نہایت اہم ہے۔ انہیں چاہئے کہ وہ جذباتی نعروں کے بجائے حقائق پر مبنی سوالات اٹھائیں، اعداد و شمار پیش کریں اور عوام کو مکمل تصویر دکھائیں تاکہ اجتماعی شعور بیدار ہو۔
احتساب کا نظام مضبوط، غیر جانبدار اور بلاامتیاز ہوگا تو فیصلے بھی زیادہ ذمہ داری کے ساتھ کئے جائیں گے۔ جب جوابدہی کا حقیقی خوف موجود ہو تو غیر ضروری اور نمائشی اخراجات خود بخود کم ہونے لگتے ہیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ہر معاملے کو جذبات سے ہٹ کر حقائق اور اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھا جائے۔ اگر کسی فیصلے کی کوئی عملی، سفارتی یا معاشی توجیہہ موجود ہے تو اسے واضح انداز میں عوام کے سامنے رکھا جانا چاہیے تاکہ غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں۔
شفافیت صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ اعتماد کی بنیاد ہے اور اعتماد قائم ہو جائے تو قوم مشکل ترین حالات میں بھی اپنے رہنماو¿ں کے ساتھ کھڑی رہتی ہے لیکن اگر شکوک بڑھ جائیں تو معمولی فیصلے بھی بڑے بحران کا سبب بن سکتے ہیں۔
پاکستان کے عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ تبدیلی صرف شکایت کرنے، سوشل میڈیا پر اظہارِ غصہ کرنے یا وقتی جذبات میں بیانات دینے سے نہیں آتی بلکہ درست قیادت کے انتخاب، مسلسل نگرانی اور جمہوری عمل میں فعال شرکت سے آتی ہے۔
اگر قوم ایمانداری، اہلیت، سادگی اور شفافیت کو قیادت کا معیار بنا لے اور ان اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ حالات بہتر نہ ہوں۔ وسائل محدود ضرور ہیں مگر درست منصوبہ بندی اور دیانت دار قیادت کے ساتھ انہی وسائل سے خوشحال مستقبل تعمیر کیا جا سکتا ہے۔
ریاست اور عوام کا رشتہ اعتماد، انصاف اور مشترکہ ذمہ داری پر قائم ہوتا ہے۔ جب حکمران عوام کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھیں، اپنی زندگی میں سادگی کا مظاہرہ کریں اور ہر فیصلے میں قومی مفاد کو مقدم رکھیں، تب ہی حقیقی جمہوریت پروان چڑھے گی اور قومی وسائل واقعی قوم کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوں گے۔