انسانی اسمگلرز کیخلاف فیصلہ کن کارروائی

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) ایک ایسا ادارہ ہے جو بیرون ملک غیر قانونی انسانی سمگلنگ اور جعلی امیگریشن کی روک تھام کیلئے انتہائی موثر کاروائیوں میں مصروف ہے۔ ایف آئی اے (FIA) یعنی وفاقی تحقیقاتی ادارہ کا کردار پاکستان میں مختلف نوعیت کے جرائم سائبر کرائم منی لانڈرنگ آن لائن دھوکہ دہی ڈیجیٹل جرائم انسانی اسمگلنگ اور دیگر سنگین نوعیت کے جرائم کی تحقیقات کرتا ہے۔

ان جرائم کی روک تھام کے علاؤہ انسداد رشوت ستانی بدعنوانی کے تدارک و دیگر معاملات کی بھی تفتیش و تحقیقات کرنا اس ادارہ کے زیر اختیار ہے۔ ایف آئی اے ملک کا ایک اہم سیکیورٹی اور انٹیلیجنس ادارہ ہے جو سنگین جرائم سے نمٹتا ہے اور قانونی نظام کے نفاذ میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے بالخصوص وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں ایک اہم اور فیصلہ کن قدم اٹھاتے ہوئے مفرور انسانی اسمگلرز کے خلاف سخت اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حکام کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ ایف آئی اے کی درخواست پر انٹرپول کے ذریعے پاکستان کے 30 مفرور انسانی اسمگلرز کے ریڈ وارنٹ جاری کروا لیے گئے ہیں۔ اس اقدام کو انسانی اسمگلنگ کے خلاف عالمی سطح پر ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے یہ وہ عناصر ہیں جو بیرون ملک بیٹھ کر منظم انداز میں انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس چلا رہے تھے

یہ عناصر دبئی لیبیا مصر اور قطر جیسے ممالک میں سرگرم ہیں جہاں سے غیر قانونی طریقوں سے پاکستانی شہریوں سے کثیر روپے لے کر انکو غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک بھجوانے کے نیٹ ورکس چلا رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام افراد ایف آئی اے کی ریڈ بک میں بھی شامل تھے اور ان کے خلاف متعدد مقدمات درج ہیں حکام کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے آئندہ دنوں میں مزید ممالک میں بھی اپنے روابط مضبوط بنانے پر غور کر رہی ہے تاکہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ باقی نہ رہے

گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں بدھ کو ڈائریکٹر جنرل فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے انکشاف کیا کہ رواں سال بیرون ملک جانے والے 51 ہزار افراد کو آف لوڈ کیا گیا جبکہ 85 لاکھ افراد بیرون ملک گئے ہیں ڈی جی ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ اس سال 24 ہزار افراد کو صرف سعودی عرب نے بھیک مانگنے پر ڈی پورٹ کیا ہے دوبئی نے بھی اس سال 6 ہزار پاکستانیوں کو بھیک مانگنے پر ڈی پورٹ کیا آزربائیجان نے 2 ہزار 5 سو پاکستانی بھکاروں کو ڈی پورٹ کیا رپورٹ کے مطابق زیادہ پیسہ کمانے کے لالچ میں لوگ عمرے کے نام پر یورپ جانے کی کوشش کر رہے ہیں

انہیں بھی ثبوت کے ساتھ اف لوڈ کیا گیا ہے عمرے کے نام پر لوگوں کے پاس یورپ جانے کے ڈاکومنٹس موجود تھے اسی وجہ کی بنا پر ایسے افراد کو آف لوڈ کیا گیا ہے ڈی جی ایف آئی کے مطابق اس سال 24 ہزارپاکستانی کمبوڈیا گئے ہیں جن میں سے12 ہزاد افراد تاحال واپس ملک نہیں لوٹے برما میں سیاحتی ویزے پر چار ہزار افراد روانہ ہوئے جن میں سیاڑھائی ہزار واپس نہیں آئے گزشتہ سالوں میں غیر قانونی بیرون ملک جانے والے افراد میں پاکستان ٹاپ فائیو ملکوں میں شامل تھا رپورٹ کے مطابق صرف گزشتہ برس 8 ہزار افراد غیر قانونی طور پر یورپ گئے ہیں تاہم اس سال تعداد کم ہو کر چار ہزار ہوگئی ہے

اب تک مجموعی طور پر 56 ہزار پاکستانیوں کو بھیک مانگنے کے باعث سعودی عرب نے ڈی پورٹ کیا ہے ڈی جی ایف آئی کے بیان کے مطابق ایمی ایپلیکیشن جنوری کے وسط میں لانچ کردی جائے گی ایمی ایپلیکیشن میں بیرون ملک جانے والے افراد روانگی سے 24 گھنٹے قبل ایمیگریشن حاصل کرلیں گیایف آئی اے نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر آف لوڈ اور ڈی پورٹ ہونے والے مسافروں سے متعلق نیا ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے بغیر تلاشی حوالات میں بند کرنے کے عمل کو سنگین غفلت قرار دے دیا ہے سرکلر کے مطابق اینٹی ہیومن ٹریفکنگ عملے کو واضح ہدایت کی گئی ہے کہ آف لوڈ یا ڈی پورٹ کیے جانے والے ہر فرد کی مکمل تلاشی لینا لازمی ہے۔

ساجد محمود


Discover more from pindipost.pk

Subscribe to get the latest posts sent to your email.