میرا تعلق میرپور کے گاؤں سے ہے۔جو بلکل منگلا ڈیم کے کنارے پر واقع ہے۔زیادہ تر ہمارے گاؤں کا حصہ منگلا ڈیم کی اپرائزنگ سے متاثر ہو چکا ہے۔یہاں کے زیادہ تر لوگوں کا پیشہ ملازمت اور بیرون ممالک میں مزدوری کرکے اپنے پیاروں کی مالی تعاون کرنا ہے۔دس پندرہ سال سے بیرون ممالک جانے خاص طور پر انگلینڈ جانے کی جیسے دوڑ لگی ہوئی ہے ۔جس کسی کے بھی اگر چھ بیٹے ہیں اس نے بھی تمام کے تمام ہی بھیج دیے ہیں۔مال و دولت کی ہوس میں اس قدر لت پڑ چکی ہے کہ اپنے بوڑھے والدین کو بھی چھوڑ کر بیرون ممالک شفٹ ہو چکے اور ہو رہے بھی ہیں۔ ایسے تمام مناظر میرے سامنے ہیں اور میں مشاہدہ بھی کر رہا ہوں۔بڑی بڑی عالی شان کوٹھیاں تو بنی ہوئی ہیں لیکن ان کے اندر ان کے بوڑھے والدین رہتے ہیں جو پورا دن دروازے پر اس انتظار میں کھڑے ہی گزار دیتے ہیں کہ کوئی جان پہچان والا گزرے گا اس کو روک کر سلام دعا کریں گے اور باقی گاؤں اور شہر کے حالات کے بارے میں معلومات حاصل کریں گے۔اس طرح باتوں باتوں سے مزید کچھ نہ کچھ مل جائے گا۔اور وقت بھی پاس ہو جائے گا۔اسی طرح ایک بزرگ بھی میری تاک میں رہتے ہیں کہ کب ماسٹر صاحب ادھر سے گزریں گے ان سے گپ شپ لگائیں گے

اگر اتفاق سے ملاقات ہو بھی جائے تو ان کے پہلے چند سوالات میرے ذہن میں پہلے ہی سے موجود ہیں۔انھوں نے کیا پوچھنا ہے۔مثلا اب کون سے سکول میں ہیں۔سکول ڈیوٹی کیسی جارہی ہے۔پرنسپل کون ہے اور ان میں سے سب سے اہم دلچسپ سوال جو ہر بار ملنے پر پوچھا جاتا ہے اب تنخواہ کتنی ہے۔ پھر میں بتاتا ہوں پھر ان کا یوں کہنا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہوتا جائے گا۔سننے میں آ رہا ہے کہ اب پنشن ختم ہو رہی ہے۔بزرگوں کے اس طرح کے سوالات محض وقت گزارنے اور دوسرے کو آگے تک پہنچاننے کا ایک بہترین مشغلہ ہے۔ لیکن یہ دوسروں سے پوری معلومات حاصل کرلیتے ہیں۔ اپنے گھر کے حالات کے بارے میں دوسروں کو بیخبر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔پھر ان بوڑھے والدین میں سے اگر کوئی بیمار ہو کر ہسپتال داخل بھی ہو جائیں پہلی بات ہے ان کی اولاد کو بروقت پتہ نہیں چلتا اگر پتہ چل بھی جائے پھر وہ ماموں زاد پھو پھی ذاد تایا زاد کزن سے رابط کرتے ہیں کہ فلاں ہسپتال میں پہنچیں پیسے کی فکر نہیں کرنی۔میرے والدین کو اب آپ لوگ سنبھالیں اگر کوئی جسارت کر کے والدین کیذمہ داری کا احساس دلا بھی دے تو یہ لوگ غصے اور ناراض تک ہوجاتے ہیں۔سگی اولاد کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے والدین کو بڑھاپے میں سنبھالیں اور ان کی خدمت کریں۔ان والدین سے بھی میری گزارش ہے کہ جن کا اچھا گزر بسر ہے اچھا کاروبار ہے وہ اپنے بچوں کو بیرون ممالک نہ بھیجیں ورنہ یہ تنہائی اور بڑی بڑی کوٹھیوں کے در و دیوار آپ کو کھا جائیں گے۔