ہم ذمہ دار شہری کب بنیں گے؟

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ ۔اس سے ہو انکار بھی شاہد ہی کسی کو مگر کیا ہمارے رویے ہمارے کردار واقعی ہی ایسے ییں کہ ہم خود کو ملت کے مقدر کا ستارہ کہلوا سکیں ۔ویسے بھی تہذیب حاضر کے گرفتار کیا جانے کیونکہ وہ تو اپنی ملت پر قیاس بھی اقوام مغرب سے کرتے ہیں۔جبکہ اقدار کے حوالے سے ہم۔مغرب سے کوسوں دور ہیں ۔ہم مغرب کے اطوار کو بہترین گردانتے ہیں ان کے ملکوں میں ان کے طے شدہ اصولوں اور ان کی عادات کو فالو کرتے ہیں لیکن پاکستان میں ہم سب ذمہ داریاں حکومت وقت پر ڈال کر صبح دوپہر شام حکومتوں کو کوستے ہیں ۔

ہم بحثیت انسان سوچیں تو ہم۔کیا نہیں ہیں ہم ناخدا ہیں ۔ہم۔بحر ہیں ہم۔کشتی ہیں ہم۔ساحل ہیں یہی نہیں ہم مے ہیں اور مینا بھی ساقی بھی ہیں اور محفل بھی لیکن افسوس کہ ہم کچھ بھی نہیں ہم۔خود کو سمجھ بھی نہیں پائے ہم ہربرائی کا ذمہ دار حکومتوں کو قرار دے کر اپنے شب روز ان پر لعن طعن کرتے گذرتے ہیں ہم ریاست کو نااہل گردانتے ہیں لیکن بحثت. شہری ہم۔اپنے فرائض سے ہمیشہ پہلو۔تہی کرتے ہیں گذشتہ روز بیول شہر کی جانب پیدل جاتے ہوئے احساس ہوا کہ ہم کس قدر غیر ذمہ دار اور کس قدر بے شعور لوگ ہیں۔۔مجھے احساس ہوا کہ 78 سال ہم نے صرف حکمرانوں کو برا بھلا کہنے میں گذر دیے اور اپنے ذمہ فرائض سے غافل رہے مجھے بہت افسوس ہوا جب میں نے سڑک کنارے لگے متعدد کوڑا دان(ڈرم) دیکھے جو اندر سے خالی تھے لیکن ان کے ارد گرد کوڑا کچرا ڈھیر کو صورت پڑا نظر آیا ۔

کس قدر افسوسناک بات ہے کہ لوگ کوڑکرکٹ اٹھا کر کوڑا دان تک. تو پہچ جاتے ہیں لیکن اس کوڑے کو ڈرم میں ڈالنے کی زحمت نہیں کرتے ۔سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب ہم۔کوڑا اٹھائے اس کوڑا دان۔تک پہنچ جاتے ہیں تو اسے ڈرم کے اندر ڈالنے میں کیا قباحت ہے ۔اگر ہم۔بحثت ایک ذمہ دار شہری اپنے کچرے کو کسی شاپر میں ڈال کر ڈرم میں ڈالیں تو صفائی کا عملہ اسے بہتر طور اپنی گاڑی میں منتقل کرسکتا ہے لیکن اگر بوجہ ۔شاپر کا استعمال نہیں بھی کر سکتے تو کم۔از کم کچرے کو کوڑے دان کے اندر ڈالنے کو فرض تصور کریں ۔

کیونکہ یہ ہمارے شہر ہیں یہ ہمارے قصبے ہیں ۔یہ ہماری گلیاں اور ہماری گذر گاہیں ہیں ان کو صاف ستھرا رکھنا ہماری بھی اتنی ہی ذمہ داری ہے جتنی سنیٹری ورکرز کی۔اسی طرح میلاد چوک سے نیچے کی جانب آنے والی سڑک جو کچھ وقت پہلے ہی تعمیر ہوئی اس پر روزانہ کی بنیاد پر بہنے والا ہانی بھی ہماری بے حسی لاپرواہی کا ایک ثبوت ہے اس سے قبل سموٹ روڑ سے کچھ دوکانوں سےبہہ کر آنے والے پانی سے سڑک کی ٹوٹ پھوٹ کا احساس کرتے ہوئے انجمن تاجران کے عہدے داران نے اپنی مدد کے تحت دوکانداروں کے تعاون سے سیوریج لائن بناکر اس. پانی سے سڑک. کو محفوظ بنایا جو لائق تحسین عمل ہے اب چوک سے نیچے ڈھلوان کے ساتھ کچھ پانی روزانہ بہتابہے جو سڑک پر نیچے تک بہتا چلا جاتا ہے ۔

اس پر بھی انجمن تاجران نوٹس لیں تو یہ مسلہ بخوبی کسی بڑے خرچ کے بغیر حل۔ہوسکتا یے کیونکہ جن تین چار جگہوں سے سے یہ پانی بہتا ہے وہاں سیمٹ اور ریت سے معمولی سی پٹی بنا کر پانی کا رخ سڑک کے ساتھ بنائے جانے والے سوریج نالے کی جانب موڑہ جاسکتا یے ۔پاک۔وطن عظیم۔المرتبت ہستیوں کا عظیم۔خواب تھا جو ان کی محنت شافہ کی. بدولت تعیبر پاگیا ۔لیکن اس مادر وطن کے لیے دیکھے جانے والے خوابوں کا تقابل ان عظیم خوابوں سے کروں جو اس کے بانیان نے دیکھے تھے تو ندامت کااحساس قلم کی روانی میں حائل ہوجاتا ہے ۔