
قیامت کا آنا قیامت کے دن کا برپا ہونا ایسی حقیقت ہے جسکا انکار کسی بھی صورت کسی بھی شخص سےممکن نہیں اور قیامت کے دن پر حساب وکتاب پر دوبارہ زندہ ہونے پر اس دن عدل وانصاف کے تزارو کے قیام پر اس دن کے اچانک آنے پر اچانک برپا ہونے پر اس کائنات کے فنا ہونےپرہم سب کا ایمان بھی ہے اور یقین بھی قیامت کا قیام کب عمل میں لایا جائے گا اسکے بارے میں تو اللہ کے سواء کسی کو وقت مقررہ معلوم نہیں قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے قیامت کا علم صرف اللّٰہ کے پاس ہے سورہ اعراف میں ارشاد باری تعالیٰ ہے وہ آپ ﷺسے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اسکا وقوع کب ہو گا تو آپ کہہ دیجئے اسکا علم صرف میرے رب کے پاس ہے
اسکو وقت پر اللہ ظاہر کرےگا وہ آسمانوں اور زمینوں میں اچانک قائم ہوگی اسکی کچھ نشانیاں قرآن مجیدمیں بیان کی گئیں ہیں کہ جب آسمان پھٹ جائے گا ستارے بکھرجائیں گئے پہاڑ روئی کی طرح اڑے گا تمام انسان کو دوبارہ زندہ کرکہ حساب لیا جائےگا اس دن پورا پورا بدلہ دیاجائے گا نیک جنت میں داخل کئےجائیں گئےجبکہ برے جہنم میں دھکیل دئیے جائیں گئے وہ انصاف اور جزاء کا دن ہو گا اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی حضور نبی کریم رؤف الرحیمﷺ نے بھی قیامت کی علامات بیان فرمائیں ہیں نبی کریم رؤف الرحیمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری بعثت اور قیامت کی مثال دو انگلیوں کے قریب کی طرح ہے دریائے فرات کا خشک ہونا اور سونے کا ظاہرہونا ہےحضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہےکہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت اس وقت تک نا آئےگی جب تک دریائے فرات سے سونےکا پہاڑ نا نکل آئے جس پر جنگ ہو گی اور اکثر لوگ ماریں جائیں گئے اب یہ کب ظاہر ہوگا جب بھی ہوگا حضور نبی کریم رؤف الرحیمﷺ کی پیشینگوئی پوری ہوئےبغیر قیامت نہیں آسکتی یہ نشانیاں پوری ہوں گئیں اور ضرور پوری ہوں گئی فتنوں کی کثرت ہوگی دجال کا ظہور ہوگا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا یاجوج ماجوج کا خروج ہوگا مغرب سے سورج طلوع ہوگا علم اٹھا لیاجائےگا جہالت عام ہو گی
مرد کم جبکہ عورتوں کی کثرت ہوگی زنا شراب عام ہوگی حضور ﷺنے ارشاد فرمایا کہ قیامت سے قبل عرب کی سرزمین سرسبز وشاداب ہو گی خشک عرب نہروں اور چراہ گاہوں میں تبدیل ہو جائے گا آج وہاں کی بارشیں اور سیلاب دیکھ کر یہ بات تو واضح ہو گئی کہ یہ نشانی بھی پوری ہو رہی ہے وہاں پہاڑوں پر سبزا اگ چکا ہے حکومت پانی کا ذخیرہ کرکہ اسکو نہری شکل دینا چاہتی ہےاگر اس حدیث شریف کو دیکھا جائے تو عرب جو پہلے صحرا کی وجہ سے مشہور ہوتے تھے
آج وہاں سرسبز وشاداب وادیاں دیکھنے کو ملتی ہیں جہاں ایک گھاس تک نہیں ہوتی تھی آج وہاں طرح طرح کے باغات لگائے جارہے ہیں سرسبز وشاداب علاقے نظر آتے ہیں اسی طرح وہ لوگ جو کل تک بھوک سے نڈھال تھے ننگے پاؤں پرانے بوسیدہ کپڑے پہنے گھومتے تھے آج عالیشان بلند وبالا آسمان کو چھوتی عمارات پر فخر کر کہ عالیشان قیمتی لباس سے مزین ہمیں نظر آتے ہیں اسی طرح ایک حدیث شریف میں حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰہ ﷺکے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا اے اللّٰہ کے رسولﷺ قیامت کب قائم ہو گی آپﷺ نے فرمایا میں تمہیں قیامت کی کچھ نشانیاں بتاتا ہوں جب لونڈی اپنے مالک کو جنےگی ننگے پاؤں اور ننگے بدن والےلوگ سردار بن جائیں گئے بکریاں چرانے والے عالی شان بلند عمارات پر فخر کریں گئے پھر رسول اللّٰہ ﷺنے سورہ لقمان کی آیت تلاوت فرمائی اللہ ہی کومعلوم ہے قیامت کب قائم ہوگی آج اگرہم عرب کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو یہ باتیں بآسانی سمجھ آجائیں گیں جو کل تک بکریاں اور اونٹ چرایا کرتے تھے آج بلند وبالا عمارات پر فخر کرکہ مقابلہ بھی کررہے ہیں
ان عمارتوں پر پیسہ پانی کی طرح بہایا جارہاہےدبئی کی حکومت برج خلیفہ جیسی عمارت بنا رہی ہے تو دوسری طرف سعودی حکومت بھی ریاض جدہ میں عمارات بنا رہی ہے جو اپنی بلند وبالا آسمان چھوتی عمارات سے مشہور ہوں گئیں اسکے بعد حیران کن بات یہ ہےکہ رسول اللّٰہﷺ نے ارشاد فرمایااہل شام کے متعلق فرمایا جب اہل شام میں تباہی وبربادی ہو تو تم میں خیر باقی نہیں رہےگی آج شام عراق لبنان فلسطین اردن مصر یمن سمیت دیگر عرب ممالک کی صورت حال نازک بھی ہے اور افسوس ناک بھی اگر علامات قیامت کو سامنے رکھتے ہوں کہا جائے تو بجاھوگا کہ عرب اس وقت عسکری و دفاعی نظام سے بالکل کمزور ہے وہ دوسرے کے سہارے جینا چاہتے ہیں جبکہ یہود ونصاریٰ ان ممالک کی تباہی اور ان پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کی سوچ و بچار اور جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں عرب کی مال ودولت دفاعی و عسکری قیادت کی بجائے فضول رسومات پر لگ رہی ہے ایک طرف یہود دجال اور دجالی نظام کی راہ ہموار کررہے ہیں ٹیکنالوجی اور دفاعی قوت کو مضبوط بنا رہے ہیں
تو دوسری طرف یہ مسلمان غفلت کی نیند سو رہے ہیں عیش وعشرت سیرو تفریح کے مقامات بنا کر اسکی راہ خود ہی ہموار کررہے ہیں یہود فلسطین سمیت دیگر عرب مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں انکو صبح وشام موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں انکو ذبح کر رہے ہیں ان پر بارود کی آگ برسا رہے ہیں انکی نسل کشی کر رہے ہیں خواتین اور بچوں پر بھی ظلم کے پہاڑ توڑے رہے ہیں جبکہ دوسری طرف یہ مسلمان خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں اور اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں اگر عرب کے حالات بدل رہے ہیں خونریز جنگ میں تبدیل ہو رہے ہیں تو ہمیں اور زیادہ محتاط اور ہوشیار ہونے کی ضرورت ہے لاکھوں مسلمانوں کو تو شہید کیا جاچکاہے مسلمانوں کوزخمی و معذور کیا جاچکاہے.
شہر کہ شہر مٹائے جا چکے ہیں اب بھی بیدار ہونے کا وقت ہے یہی وہ سرزمین ہے جہاں سے اللہ مسلمانوں کو غلبہ عطاء فرمائے گا یہود کو کوئی بھی چیز پناہ نا دےگی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا دجال کو قتل کیاجائے گا ان سب حالات و واقعات کو دیکھ کر یوں لگتاہے دنیا اپنے انجام اور ہولناکیوں کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے غزوہ ہند والے بھی بلآخر شام میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے جاملے گئےحضرت امام مہدی علیہ السلام بھی اسی سرزمین سے ظاہر ہوں گئے اصفہان اور خراسان کا بھی تذکرہ ملتا ہے اسلامی تعلیمات کے مطابق قیامت کے قائم ہونے اور انسانوں کے جمع ہونے کی سرزمین بھی یہی عرب سرزمین ہے جس میں شام اردن لبنان فلسطین شامل ہے