بے حس نظام: چاند پر نظریں، سمندر میں لاشیں


سمندر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ راز رکھتا ہے، مگر اب بحیرہ روم کی لہریں راز نہیں رکھتیں بلکہ پاکستان کے دور افتادہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے ادھورے خواب اگل رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں بحیرہ روم کی لہروں نے ایک بار پھر پاکستانی نوجوانوں کی لاشیں ساحلوں پر اگل کر ہمیں یہ پیغام دیا ہے کہ ہم اپنی نسل کو بہتر زندگی کے خواب دکھا کر موت کے سوداگروں کے حوالے کر رہے ہیں۔ جب ایک ماں اپنے بیٹے کو رخصت کر رہی تھی، تو اسے لگا کہ وہ اسے ‘روشن مستقبل’ کی طرف بھیج رہی ہے۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ جِس کشتی میں سوار ہو رہا ہے، وہ لکڑی کا تختہ نہیں بلکہ اس کی امیدوں کا تابوت ہے۔ کبھی سوچا ہے کہ اس کشتی کا منظر کیسا ہوتا ہوگا جس میں پاکستانی نوجوان شاید آخری لمحے میں یہی سوچتا ہوگا کہ کاش اس نے اپنے ملک کی مٹی میں ہی رزق تلاش کر لیا ہوتا، کیونکہ کم از کم وہاں اسے کفن تو نصیب ہو جاتا۔ کیا انسانی جان اتنی سستی ہو چکی ہے کہ چند لاکھ روپوں کے عوض اسے سمندر کی لہروں اور ایجنٹوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے؟  سوال یہ ہے کہ معصوم نوجوانوں کے خوابوں کا سودا کرنے والے یہ ‘موت کے سوداگر’ قانون کی گرفت سے آزاد کیوں ہیں؟ ریاست کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کے لیے ایک شہری کی جان کی قیمت کسی بھی سیاسی یا معاشی مصلحت سے بالاتر ہے۔

حالیہ حادثہ آخری حادثہ نہیں ہوگا، اگر ہم نے آج بھی خاموشی اختیار کیے رکھی تو یہ قتل کا سلسلہ رکے گا نہیں۔ یاد رکھیے، اٹلی یا یونان کے ساحلوں پر ملنے والی لاشیں صرف کسی ایک خاندان کا نقصان نہیں، بلکہ اس ملک کے مستقبل کا قتل ہے۔  وہ نوجوان جنہیں اس مٹی کا اثاثہ ہونا چاہیے تھا، آج وہ پرائے سمندروں کی تہوں میں بے نام و نشان پڑے ہیں۔ میرے نزدیک یہ سفر صرف غیر قانونی نہیں، بلکہ غیر انسانی ہے۔ نیلے سمندر کی سطح پر تیرتی وہ لاشیں دراصل ہمارے نظام کی ناکامی کا اشتہار ہیں حالیہ کشتی حادثے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ ہمارے ملک میں بے روزگاری کا خوف، موت کے خوف سے کہیں زیادہ بڑا ہو چکا ہے۔ ہم ایک ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جو اپنے ہی ملک میں جینے کے بجائے پرائے دیس کے ساحلوں پر مرنے کو ترجیح دے رہی ہے۔ ڈنکی لگا کر بیرون ملک جانے کا یہ ‘خونی کھیل’ آخر کب تک چلے گا اور کتنے گھروں کے چراغ گل ہونے کے بعد ہماری آنکھیں کھلیں گی؟ کبھی کبھی غربت سے زیادہ ‘دوسروں سے پیچھے رہ جانے کا خوف’ انسان کو ان خطرناک راستوں پر لے جاتا ہے جہاں واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ رزق کی تلاش انسان کو ہجرت پر مجبور کرتی ہے، لیکن جب ہجرت کا راستہ قبرستان سے ہو کر گزرتا ہو تو وہ تلاش رزق نہیں، خودکشی بن جاتی ہے۔ یاد رکھیے! جب تک اپنے ملک میں ہنر مند نوجوانوں کو عزت اور روزگار نہیں ملے گا، وہ اسی طرح پرائے دیس کی خاک چھاننے پر مجبور رہیں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بطور معاشرہ یہ فیصلہ کریں کہ ہمیں اپنے بیٹوں کے ہاتھوں میں اوزار اور قلم دینے ہیں یا انہیں سمندر کی لہروں کا رزق بننے کے لیے ایجنٹوں کے حوالے کرنا ہے۔

کیا یہ المیہ نہیں کہ ایک طرف ہم چاند پر جانے کی باتیں کر رہے ہیں اور دوسری طرف ہماری مٹی کا بہترین ٹیلنٹ رزق کی تلاش میں مچھلیوں کی خوراک بن رہا ہے؟ یہ حادثہ محض ایک ‘نیوز الرٹ’ نہیں ہے، بلکہ یہ اُن والدین کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے جو اپنے جگر گوشوں کو ‘بہتر مستقبل’ کے نام پر موت کے سوداگروں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ جب تک ہم اپنے ملک میں پسینے کی قیمت خون کے برابر نہیں کریں گے، تب تک یہ ‘خونی ڈنکی’ ہمارے لختِ جگروں کو نگلتی رہے گی۔ یونان کے ساحل پر جب کسی پاکستانی نوجوان کی لاش ملتی ہے، تو وہاں صرف ایک جسم نہیں مرتا، بلکہ ہزاروں میل دور پاکستان کے کسی کچے مکان میں ایک ماں کی امیدیں دم توڑ دیتی ہیں، ایک باپ کی کمر ٹوٹ جاتی ہے اور ایک بہن کے سر سے بھائی کی شفقت کا سایہ چھن جاتا ہے۔ کیا یہ صرف غربت کا مسئلہ ہے؟ نہیں، یہ صرف غربت نہیں بلکہ اس ‘وقار’ کا جنازہ ہے جو اسے اپنے وطن میں نہیں مل رہا۔ جب ایک نوجوان دیکھتا ہے کہ میرٹ دم توڑ رہا ہے اور سفارش کا دور دورہ ہے، تو وہ سمندر کی لہروں کو اپنوں کے طعنوں اور محرومیوں سے زیادہ مہربان سمجھنے لگتا ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ اسی ملک کا ایک طبقہ گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے انہی یورپی ملکوں کے ویزے منٹوں میں حاصل کر لیتا ہے، جبکہ اسی مٹی کا دوسرا بیٹا انہی سرحدوں میں داخل ہونے کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دیتا ہے۔ ایک کے لیے ‘سیاحت’ ہے اور دوسرے کے لیے ‘شہادت یا ذلت’۔ جب تک ریاست ویزے اور روزگار کے حصول کے لیے ‘طاقتور’ اور ‘کمزور’ کی یہ خلیج ختم نہیں کرے گی، موت کی یہ کشتیاں اسی طرح بھر بھر کر روانہ ہوتی رہیں گی۔ یہ ڈوبتی کشتیاں ہمارے قومی وقار کا جنازہ ہیں۔ آج بحیرہ روم کی لہریں ہم سے چیخ چیخ کر پوچھ رہی ہیں: کہ کیوں تم نے اپنے نوجوانوں کو اس مٹی میں جینے کی وجہ نہیں دی، اب روزِ محشر ان ماؤں کو جواب دینے کے لیے تیار رہنا ہو گا جن کی گودیں اس نظام کی بےحسی نے اجاڑ دی ہیں۔ سچ تو یہ ہے جب وطن کی گود بانجھ ہونے لگے اور وہاں صرف ناامیدی کی فصل اگے، تو پرندے ہجرت ہی کیا کرتے ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ان پرندوں کے پر کاٹ کر انہیں سمندر کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ ہم نے نوجوانوں کو خواب دیکھنا سکھایا، ڈگریاں دیں مگر اُن خوابوں کی تعبیر کا راستہ نہیں دکھایا۔ اگر آج ہم نے اپنی ڈگریوں کو روزگار کے ساتھ نہ جوڑا، اور قلم کو عزت نہ دی، تو پھر ہمیں اپنی یونیورسٹیوں کو بند کر دینا چاہیے، کیونکہ وہ مستقبل کے معمار نہیں، بلکہ سمندر کی لہروں کا رزق تیار کر رہی ہیں۔
یاد رکھیے! آج کے اس ڈیجیٹل دور میں یہ ‘کاغذی ڈگریاں’ بھوک کا علاج نہیں کر پاتیں،  ریاست کو یہ یاد رکھنا ہو گا کہ حقیقی ترقی وہ نہیں جو فائلوں میں درج ہو، بلکہ حقیقی ترقی وہ ہے جو کسی ماں کو یہ اطمینان دلائے کہ اس کا بیٹا رزق کی تلاش میں سمندر برد نہیں ہوگا، بلکہ اسی مٹی میں ہنر مند بن کر جیے گا۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم ‘چاند پر جانے’ کے خوابوں سے پہلے اپنی زمین پر پاؤں جمانا سیکھیں۔ہمیں  نوجوانوں کو صرف کاغذی ڈگریاں نہیں، بلکہ ہنر اور وہ ماحول فراہم کرنا ہوگا جہاں انہیں لگے کہ ان کے پسینے کا صلہ انہیں اسی مٹی میں مل سکتا ہے۔ ہم نے ایک پوری نسل کو ‘ڈالروں کے ہوس’ اور ‘نظام کی بے حسی’ کی بھینٹ چڑھا دیا۔ بحیرہ روم کی لہریں تو شاید خاموش ہو جائیں، لیکن مٹی میں دبی ان لاشوں کا نوحہ قیامت تک سنائی دیتا رہے گا۔