جس میں پانی ذخیرہ کرکےپینے کیلئے استعمال میں لایا جائے گا۔کلوٹ ڈیم کی فزیبیلٹی سٹڈی کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کنسلٹنٹ ہائر کرے گا۔ فزیبیلٹی سٹڈی پر36اعشاریہ933ملین(تقریبا تین کروڑ61لاکھ) روپے خرچ ہوں گے۔ڈیم کے ساتھ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ بمعہ سولر سسٹم اور واٹر سپلائی نیٹ ورک بھی منصوبہ کا حصہ ہوگا۔منصوبہ سے تھوہا خالصہ،چھنی بندھوال،موہڑہ راجگان،متور کی 35ہزار آبادی کو فائدہ ہوگا۔ان علاقوں میں زیر زمین پانی ختم ہوچکا ہے۔فزیبیلٹی سٹڈی میں ڈیم کی تفصیلی ڈرائنگ بھی شامل ہوگی۔ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ راولپنڈی زرائع کے مطابق تحصیل کہوٹہ میں 96اعشاریہ 759ملین(تقریبانو کروڑ 60لاکھ) روپے سےواٹر سپلائی سکیم بنائی جارہی ہے۔جس سے ایسے علاقے جن میں زیر زمین پانی دستیاب نہیں ان کو چشموں کا پانی سپلائی کیا جائے گا۔سکیم میں دس ہزار گیلن کا واٹر ٹینک بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ تحصیل گوجر خان کی 875ملین(87کروڑ50 لاکھ) روپے کی اربن واٹر سپلائی سکیم فارن فنڈنگ سے بننی ہے۔