
تاریخ کے افق پر وہی ستارے اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمکتے ہیں جن کا مقصدِ حیات اپنے عہد کی تاریکیوں کو انصاف اور مسیحائی کے چراغوں سے منور کرنا ہو، سیاست کی آزمائش طلب راہوں اور عوامی خدمت کے کٹھن سفر میں کچھ قد آور شخصیتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے نام کی گونج ہی انسانیت کی فلاح، محروم طبقوں کی دادرسی اور معاشرتی توازن کی ضمانت بن جاتی ہے، ایسی ہی ایک ہمہ جہت، علم دوست اور نہایت باوقار شخصیت ڈاکٹر نجمہ افضل کی ہے جنہیں حکومتِ پنجاب نے ان کی بے داغ پیشہ ورانہ ساکھ، جرات مندانہ فیصلوں اور غیر معمولی انتظامی و سیاسی بصیرت کے اعتراف میں “صوبائی محتسب پنجاب” کے اہم ترین منصب پر فائز کیا ہے، ڈاکٹر نجمہ افضل کا تعلق پنجاب کے زرخیز علمی و صنعتی شہر فیصل آباد سے ہے۔
مگر ان کے تعلیمی سفر کی بنیادیں سندھ کے تاریخی ادارے لیاقت میڈیکل کالج، جامشورو (حیدرآباد) سے وابستہ ہیں جہاں سے انہوں نے طب کی اعلیٰ ڈگری حاصل کی، اپنی عملی زندگی کا آغاز انہوں نے پنجاب میڈیکل کالج سے منسلک ڈی ایچ کیو ہسپتال فیصل آباد میں میڈیسن کے شعبے میں ہاؤس جاب سے کیا اور بعد ازاں 1979 سے 1987 تک لگ بھگ نو سال سعودی عرب کی منسٹری آف ہیلتھ کے زیر اہتمام ریاض میں بطور جنرل پریکٹیشنر گراں قدر خدمات سرانجام دیں، وطن واپسی پر انہوں نے اپنی طبی مہارت کو مزید وسعت دینے کے لیے پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ لاہور (گنگا رام ہسپتال) سے ڈپلومہ ان چائلڈ ہیلتھ (DCH) مکمل کیا اور پھر فیصل آباد میں پنجاب میڈیکل کالج اور نرسنگ سکول کے بورڈ آف مینجمنٹ کی چیئرپرسن اور ممبر کے طور پر 6 سال تک انتھک کام کیا۔
جس کے دوران شہر کے تین بڑے سرکاری ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن اور الائیڈ ہسپتال میں خواتین کے لیے “بریسٹ کینسر کلینک” کا قیام ان کے نمایاں کارنامے ٹھہرے، ایک معالج کی حیثیت سے ہسپتالوں کی راہداریوں میں انہوں نے عام آدمی کی تکالیف اور سماجی محرومیوں کا نہایت قریب سے مشاہدہ کیا اور یہی وہ انسانی تڑپ تھی جس نے انہیں سیاست کی شاہراہ پر قدم رکھنے پر مائل کیا جہاں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے 2013 سے 2018 تک پنجاب اسمبلی کی ایک نہایت متحرک رکن اور پارلیمانی سیکرٹری کے طور پر انہوں نے خواتین کے حقوق، صحتِ عامہ اور تعلیمی اصلاحات کے لیے متعدد تاریخی بلز منظور کروائے، ڈاکٹر نجمہ افضل کی پوری جدوجہد گواہ ہے ۔
کہ وہ ہمیشہ خواتین کی فلاح و بہبود اور ان کے سماجی استحکام کے لیے کوشاں رہی ہیں اور ان کی یہی تڑپ ان کے ہر فیصلے میں نمایاں نظر آتی ہے، ان کی اسی بے لوث خدمت اور تابناک ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومتِ پنجاب نے انہیں 08 اپریل 2026 کو صوبائی محتسب پنجاب کے عہدے پر فائز کیا اور یہ پنجاب کی تاریخ میں ایک منفرد اعزاز ہے کہ وہ اس باوقار منصب پر تعینات ہونے والی پانچویں خاتون ہیں، موجودہ دور میں وہ سرکاری اداروں میں رچی بسی بدانتظامی، دفتری گرداب اور فائلوں میں انصاف کو قید کرنے والی تاخیری روایت کے خلاف ایک آہنی دیوار ثابت ہو رہی ہیں، ان کی اولین ترجیحات میں کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کیے جانے کے خلاف قوانین کا نفاذ اور خواتین کو ان کے جائز وراثتی حقوق کی فراہم شامل ہے ۔
کیونکہ ان کا پختہ ایمان ہے کہ جائیداد کی منصفانہ تقسیم ہی معاشرتی تلخیوں کا خاتمہ کر سکتی ہے، بلاشبہ ڈاکٹر نجمہ افضل کی شخصیت دانش، تدبر اور ہمدردی کا وہ حسین امتزاج ہے جو ہر سائل کو انصاف کی فراہم کا یقین دلاتی ہے اور ان کی یہ تعیناتی پنجاب کے مظلوم طبقات کے لیے ایک مسیحائی سے کم نہیں ہے، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں دکھی انسانیت کی خدمت کے اس عظیم مشن میں مزید ہمت، استقامت اور کامیابی عطا فرمائے۔ آمین