ڈائری: تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کہوٹہ آخر صحت پر سمجھوتہ کیوں؟

تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کہوٹہ تقریباً 100 کنال رقبے پر قائم ایک اہم طبی مرکز ہے، جہاں تحصیل کہوٹہ کے علاوہ آزاد کشمیر اور گردونواح سے بھی ہزاروں لوگ علاج معالجے کے لیے آتے ہیں۔ یہ ہسپتال صرف ایک عمارت نہیں بلکہ ایک وسیع علاقے کے عوام کی بنیادی ضرورت اور زندگیوں سے جڑا ہوا ادارہ ہے۔ مگر افسوس کہ اتنے بڑے رقبے، سالانہ کروڑوں روپے کے فنڈز اور کئی برسوں سے کیے جانے والے سیاسی وعدوں کے باوجود آج بھی یہ ہسپتال بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہے۔

ماضی میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی جانب سے اس ہسپتال کو State of the Art Hospital بنانے کا وعدہ کیا گیا۔ بعد ازاں مختلف ادوار میں وزرائے صحت، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور منتخب نمائندوں کی جانب سے ہسپتال کو اپ گریڈ کرنے اور اسے 100 بیڈز تک لے جانے کے دعوے اور اعلانات بھی سامنے آتے رہے، لیکن عملی صورتحال آج بھی سوالیہ نشان ہے۔

ذرائع کے مطابق ہسپتال کے لیے سالانہ تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کا فنڈ آتا ہے، جس میں سے تقریباً 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ادویات کے لیے مختص کیے جاتے ہیں جبکہ باقی رقم دیگر ضروریات اور منصوبوں پر خرچ ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کروڑوں روپے کے سالانہ فنڈ کے باوجود مریضوں کو بنیادی تشخیصی، طبی اور سرجیکل سہولیات کیوں دستیاب نہیں؟

ہسپتال کی لیبارٹری مکمل طور پر فعال نہیں اور متعدد ضروری ٹیسٹ یہاں نہیں کیے جا رہے۔ ڈیجیٹل ایکسرے مشین بھی موجود نہیں جبکہ ایکسرے کے لیے مطلوبہ ٹیکنیکل اسٹاف بھی دستیاب نہیں۔ تین ایکسرے ٹیکنیشنز کے مقابلے میں صرف ایک کی دستیابی کی نشاندہی کی جاتی ہے، جس کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مدر اینڈ چائلڈ سینٹر کی صورتحال بھی انتہائی توجہ طلب ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر ڈیلیوری کی مکمل سہولت دستیاب نہیں۔ پورے مہینے میں بمشکل تقریباً 30 ڈیلیوریز ہو پاتی ہیں جبکہ باقی خواتین کو راولپنڈی یا نجی ہسپتالوں میں ریفر کر دیا جاتا ہے۔ مقامی سطح پر یہ شکایات بھی سامنے آتی ہیں کہ بعض مریضوں کو ایسے نجی مراکز کی طرف منتقل کیا جاتا ہے جہاں متعلقہ ڈاکٹرز نجی طور پر خدمات انجام دیتی ہیں۔ اگر یہ شکایات درست ہیں تو ان کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔

اس سے بھی زیادہ افسوسناک صورتحال آپریشن تھیٹر کی ہے۔ OT کے لیے مطلوبہ ٹیکنیشن موجود نہیں، جس کے باعث یہاں معمول کے آپریشن بھی نہیں ہو رہے۔ رسولی، اپینڈکس، فریکچر اور دیگر چھوٹے بڑے آپریشنز کے لیے مریضوں کو راولپنڈی یا نجی ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میں بنیادی سرجیکل سہولت ہی دستیاب نہ ہو تو پھر اس ادارے کے قیام کا مقصد کیسے پورا ہوگا؟

ہسپتال میں 24 گھنٹے مکمل طبی سروس بھی ایک بڑا سوال ہے۔ ایمرجنسی اور دیگر ضروری طبی سہولیات ہر وقت دستیاب نہ ہونے کے باعث مریضوں کو دوسرے شہروں یا نجی ہسپتالوں کی طرف منتقل ہونا پڑتا ہے۔

دوسری جانب متعدد ڈاکٹرز اور اسپیشلسٹس کی آسامیاں خالی ہیں۔ ENT اسپیشلسٹ سمیت مختلف شعبوں میں ڈاکٹرز کی کمی موجود ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے بجائے بعض آسامیوں کو ختم کیے جانے کی شکایات بھی سامنے آتی ہیں۔ اگر کسی ہسپتال کو اپ گریڈ کرنا مقصود ہو تو خالی آسامیاں ختم نہیں بلکہ پُر کی جاتی ہیں۔

مسئلہ صرف ڈاکٹرز اور مشینری کا نہیں، بلکہ ہسپتال کا انتظامی ڈھانچہ بھی شدید بحران کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ کلرکل اسٹاف نہیں، مناسب انتظامی عملہ نہیں اور کلاس فور کے ملازمین کو بھی ڈاکٹرز، نرسنگ اور پیرا میڈیکل اسٹاف سے متعلق ذمہ داریاں نبھانی پڑ رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح ایک بڑے طبی ادارے کا نظام کیسے چل سکتا ہے؟

مقامی حلقوں میں یہ شکایات بھی موجود ہیں کہ ہسپتال میں انتظامی گرفت کمزور ہے اور ایک مخصوص گروپ یا مافیا نما اثر و رسوخ معاملات کو کنٹرول کر رہا ہے۔ اگر یہ تاثر بے بنیاد ہے تو متعلقہ حکام کو حقائق سامنے لانے چاہئیں، اور اگر اس میں حقیقت ہے تو ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ہسپتال کا اصل انتظام کس کے ہاتھ میں ہے اور جواب دہ کون ہے؟

یہ صورتحال صرف محکمہ صحت کی ذمہ داری نہیں بلکہ مقامی سیاسی قیادت کے لیے بھی ایک بڑا سوال ہے۔ آخر تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کہوٹہ کو اپ گریڈ کیوں نہیں کیا جا رہا؟ کیا جان بوجھ کر کہوٹہ کے عوام کو بنیادی طبی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے؟

صحت ایسا شعبہ ہے جس پر دنیا کا کوئی مہذب ملک اور معاشرہ سمجھوتہ نہیں کرتا، کیونکہ صحت براہِ راست انسانی زندگی سے وابستہ ہے۔ لیکن کہوٹہ کے ہسپتال کے معاملے میں مسلسل سمجھوتہ کیوں کیا جا رہا ہے؟ اگر دوسرے علاقوں کے ہسپتال اپ گریڈ ہو سکتے ہیں، جدید مشینری، اسپیشلسٹ ڈاکٹرز اور مکمل طبی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں تو کہوٹہ کے عوام کو یہ حق کیوں نہیں دیا جا رہا؟

یہاں سوال صرف محکمہ صحت سے نہیں بلکہ مقامی قیادت سے بھی ہے۔ منتخب نمائندوں کا کام صرف عوام سے ووٹ لینا، دوروں کے موقع پر تالیاں وصول کرنا اور گلے میں ہار پہننا نہیں۔ عوامی نمائندوں کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے علاقے کے بنیادی مسائل کو اسمبلی، وزارتِ صحت اور اعلیٰ حکام تک لے کر جائیں اور ان کے حل کے لیے عملی جدوجہد کریں۔

ہم اکثر سیاسی نمائندوں کے استقبال میں آگے بڑھتے ہیں، تالیاں بجاتے ہیں، ہار پہناتے ہیں اور تصویریں بنواتے ہیں، مگر اب وقت آگیا ہے کہ اسی محبت اور احترام کے ساتھ ان سے جوابدہی بھی کی جائے۔ ان سے پوچھا جائے کہ ہسپتال کب اپ گریڈ ہوگا؟ 100 بیڈز کا وعدہ کہاں گیا؟ خالی آسامیاں کب پُر ہوں گی؟ لیبارٹری کب مکمل فعال ہوگی؟ ڈیجیٹل ایکسرے مشین کب آئے گی؟ OT ٹیکنیشن کب تعینات ہوگا؟ معمول کے آپریشن کب شروع ہوں گے؟ مدر اینڈ چائلڈ سینٹر 24 گھنٹے کب فعال ہوگا؟ اور مریضوں کو راولپنڈی یا نجی ہسپتالوں میں ریفر کرنے کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟

وزیر صحت آئے، کمشنر آئے، ڈپٹی کمشنر آئے، وعدے ہوئے، یقین دہانیاں کرائی گئیں، مگر سوال آج بھی وہی ہے: عملی تبدیلی کہاں ہے؟

کہوٹہ کے عوام کو وعدے نہیں، سہولیات چاہئیں۔ انہیں ایسی لیبارٹری چاہیے جو فعال ہو، ڈیجیٹل ایکسرے چاہیے، اسپیشلسٹ ڈاکٹرز چاہیے، 24 گھنٹے ایمرجنسی سروس چاہیے، فعال آپریشن تھیٹر چاہیے، مدر اینڈ چائلڈ سینٹر چاہیے اور ایسا انتظامی نظام چاہیے جو کسی فرد یا گروپ کے بجائے قانون اور میرٹ کے تحت کام کرے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کہوٹہ کا مکمل انتظامی اور مالی آڈٹ کروائے، سالانہ بجٹ اور اخراجات کی تفصیلات عوام کے سامنے لائے، خالی آسامیوں کو پُر کرے، ختم کی گئی آسامیوں کی وجوہات واضح کرے، لیبارٹری اور ریڈیالوجی کی سہولیات بحال کرے، OT ٹیکنیشن سمیت ضروری پیرا میڈیکل اسٹاف تعینات کرے، ENT اور دیگر اسپیشلسٹس فراہم کرے اور مدر اینڈ چائلڈ سینٹر کو حقیقی معنوں میں 24 گھنٹے فعال بنائے۔

کہوٹہ کے عوام کسی غیر معمولی رعایت کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ وہ صرف اپنا بنیادی حقِ صحت مانگ رہے ہیں۔

اب وقت آگیا ہے کہ ہسپتال کے بارے میں صرف یہ نہ بتایا جائے کہ سالانہ کتنے کروڑ روپے کا فنڈ آتا ہے، بلکہ عوام کو یہ بھی بتایا جائے کہ وہ فنڈ کہاں خرچ ہوتا ہے، کون سی سہولیات موجود ہیں، کون سی آسامیاں ختم کی گئیں، کیوں ختم کی گئیں اور ہسپتال کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار کون ہے۔

آخر سوال یہی ہے: تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کہوٹہ کو اپ گریڈ کیوں نہیں کیا جا رہا؟ کیا کہوٹہ کے عوام کے بنیادی حقِ صحت پر جان بوجھ کر سمجھوتہ کیا جا رہا ہے؟ اور اگر ایسا نہیں تو پھر اس ہسپتال کی زبوں حالی کا ذمہ دار کون ہے؟

یہ سوال اب صرف مریضوں کا نہیں، پورے کہوٹہ کا سوال ہے۔

آخر تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کہوٹہ کا کوئی وارث ہے یا نہیں؟