
جنابِ نسیم سحرؔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے ادبی افق پر چمکنے والا ایک معتبر اور درخشاں نام ہیں۔ ان کی ادبی شناخت ہمہ رنگ اور متنوع تخلیقی جہات کی آئینہ دار ہے۔ وہ بیک وقت ایک باکمال حمد و نعت گو، حساس غزل گو، منفرد خاکہ نگار اور گہرے ادبی و تنقیدی شعور کے حامل صاحبِ نظر نقاد ہیں۔ انھوں نے نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط اپنے طویل اور ثمرآور ادبی سفر میں اردو ادب کی مختلف اصنافِ سخن کو اپنے تخلیقی تجربے اور جمالیاتی ذوق سے مالا مال کیا ہے۔ ان کا اصل نام محمد نسیم ملک ہے۔ معتبر ادبی ماخذ کے مطابق وہ یکم فروری 1944ء کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے اور ایک طویل عرصے سے اردو و ادب کی آبیاری، ترویج اور اشاعت میں مصروفِ عمل ہیں۔
نسیم سحرؔ ادبی اور تہذیبی روایات کے نہایت اعلیٰ درجے کے پاسدار، وضع داری کے امین اور شائستگیِ کردار کے مظہر ہیں۔ ان کی شخصیت میں حلیم المزاجی اور خلوص اس طرح گھلے ملے ہیں کہ ان سے ملنے والا شخص پہلی ہی ملاقات میں ایک مانوس، خوش گوار اور اپنائیت بھری فضا محسوس کرتا ہے۔ اپنے ہم عصر اہلِ قلم کے لیے وہ محبت و الفت، کشادہ ظرفی اور وسیع المشربی کا پیکر ہیں، جب کہ نئے لکھنے والوں اور نوآموز قلم کاروں کے ساتھ ان کا رویہ نہایت مشفقانہ، حوصلہ افزا اور رہنمائی پر مبنی ہے۔ ان سے ملاقات میں کسی بڑے پن کا احساس ہوتا ہے، نہ رسمی تکلف اور اجنبیت کی کوئی دیوار حائل دکھائی دیتی ہے؛ وہ اپنے بے تکلف اور سادہ اندازِ گفتگو سے سامنے والے کو ایسی بے ساختہ اپنائیت کا احساس دلاتے ہیں جیسے اس سے مدتوں کی شناسائی ہو۔
ان کی زندگی کا ایک اہم اور قابلِ ذکر دور سعودی عرب میں گزرا، جہاں وہ ایک طویل عرصے تک جدہ میں مقیم رہے اور اسلامی ترقیاتی بینک سے وابستہ رہے۔ دیارِ غیر میں طویل قیام کے باوجود وہ اردو ادب سے ذرا بھی دور نہ ہوئے، بل کہ وہاں ادبی محافل کے ذریعے اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت میں بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے اپنے حصے کی شمعِ فروزاں کرتے رہے۔ بعد ازاں وطن واپس آکر اسلام آباد میں سکونت اختیار کی اور راولپنڈی، اسلام آباد کے ادبی حلقوں میں ایک متحرک اور صاحبِ ذوق ادبی شخصیت کے طور پر اپنا مقام مزید مستحکم کیا۔ عصرِ حاضر میں وہ القائم لائبریری، راولپنڈی کے پلیٹ فارم سے بزمِ اہلِ قلم پاکستان کے کلیدی عہدیدار کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں نہایت خوش اسلوبی سے نبھا رہے ہیں اور ادبی سرگرمیوں کے فروغ میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
نسیم سحرؔ کی بنیادی شناخت اگرچہ ایک شاعر کی ہے، تاہم ان کی شاعری کسی ایک صنفِ سخن تک محدود نہیں ۔ انہوں نے حمد، نعت، غزل، نظم اور ہائیکو سمیت مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی اور ہر صنف کو اپنے تخلیقی ذوق اور شعری ہنر سے ثروت مند کیا۔ ان کا ضخیم کلیات تیرہ شعری مجموعوں پر مشتمل اور تقریباً 1740 صفحات پر محیط ہے، جو ان کی غیر معمولی تخلیقی فعالیت، مسلسل ادبی ریاضت اور طویل و ثمرآور شعری سفر کا واضح ثبوت ہے۔
نسیم سحرؔ کی شعری شناخت کا سب سے معتبر حوالہ ان کی اعلیٰ درجے کی حمدیہ و نعتیہ شاعری ہے۔ ان کی نعتوں میں بارگاہِ رسالتِ مآب ﷺ سے عقیدت و محبت، وارفتگی و نیاز مندی اور قلبی وابستگی کا گہرا رنگ نمایاں ہے۔ وہ نعت کی فنی نزاکتوں، شعری تقاضوں اور شرعی حدود و قیود کا بھی غیر معمولی اہتمام کرتے ہیں۔ یہی اعتدال اور توازن ان کی نعتیہ شاعری کو محض جذباتی اظہار تک محدود نہیں رہنے دیتا، بل کہ اسے عقیدت کی حرارت اور دینی شعور کے دل آویز امتزاج میں ڈھال دیتا ہے۔
ڈاکٹر ریاض مجید کے بقول، نسیم سحرؔ کی تخلیقی صلاحیتوں کا نہایت مؤثر اور بھرپور اظہار نعت میں ہوتا ہے۔ ان کے ہاں حمد و نعت محض ایک شعری صنف نہیں، بل کہ عقیدت و محبت اور روحانی سرشاری کے اظہار کا ایک مقدس وسیلہ ہے، جس میں شعری جمال، فنی قرینے اور اظہار کی لطافت کا بھی خاص اہتمام ملتا ہے۔ ان کا پہلا مجموعۂ حمد و نعت ’’یہ جو سلسلے ہیں کلام کے‘‘ 1996ء میں شائع ہوا، جب کہ بعد ازاں ’’نعت نگینے‘‘اور ’’محورِ دو جہاں‘‘جیسے گراں قدر مجموعے بھی منظرِ عام پر آئے، جو ان کی حمدیہ و نعتیہ شاعری کے تسلسل اور تخلیقی ریاضت کے روشن شواہد ہیں۔
غزل میں نسیم سحرؔ کا لہجہ سادہ، رواں، بے ساختہ اور دل نشیں ہے۔ وہ مشکل تراکیب اور ثقیل الفاظ سے گریز کرتے ہوئے انسانی زندگی کے مختلف رنگوں، معاشرتی رویّوں اور انسانی نفسیات کے لطیف و پیچیدہ گوشوں کو نہایت مؤثر اور بامعنی شعری اظہار عطا کرتے ہیں۔ ان کے ہاں لفظ محض اظہار کا وسیلہ نہیں رہتا، بل کہ احساس و فکر کا ترجمان اور انسانی تجربے کا آئینہ بن کر قاری کے قلب و شعور سے ہم کلام ہوتا ہے۔
بقولِ ڈاکٹر ریاض مجید، ان کے تخلیقی عمل میں غزل کی کلاسیکی روایت کے ساتھ جدیدیت کے تازہ میلانات کی چاپ بھی سنائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی غزل میں جہاں روایت سے گہرا رشتہ قائم رہتا ہے، وہیں عصری حسیت اور بدلتے ہوئے زمانے کی تازہ آگہی بھی پوری آب و تاب سے جلوہ گر ہوتی ہے۔ وہ کلاسیکی غزل کے تہذیبی ورثے اور اسلوبیاتی نزاکتوں سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اپنے عہد کے مسائل اور بدلتے ہوئے انسانی رویّوں کو بھی شعر کا موضوع بناتے ہیں۔ روایت اور جدت کا یہی حسین امتزاج ان کے کلام کو منفرد شعری شناخت اور جداگانہ آہنگ عطا کرتا ہے۔
ان کے شعری مجموعوں میں ’’پہلی اڑان‘‘(غزلیں)، ’’ہر بوند سمندر‘‘(غزلیں) ، ’’دریچۂ شب‘‘(نظمیں) اور ’’روشندان میں چڑیا‘‘(ہائیکو) خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ یہ مجموعے ان کی شعری شخصیت کے رنگا رنگ پہلوؤں اور فکری و فنی جہات کو نمایاں کرتے ہیں اور اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ نسیم سحرؔ نے غزل کی نزاکتوں ، نظم کی فکری وسعت اور ہائیکو کی اختصار آفرینی تک مختلف شعری اصناف میں اپنے تخلیقی امکانات کو نہایت خوب صورتی سے بھرپور انداز میں بروئے کار لایا ہے۔
نسیم سحرؔ صرف ایک شاعر ہی نہیں، بل کہ صاحبِ اسلوب نثر نگار اور زیرک نقاد بھی ہیں۔ انہوں نے اپنے ہم عصر اہلِ قلم اور ماضی کی اہم ادبی شخصیات پر جاندار اور شخصیت شناس خاکے تحریر کیے ہیں، جن میں شخصیات کے ظاہری خد و خال کے ساتھ ان کے مزاج، فکری رویّوں اور ادبی خدمات کی جھلک بھی نمایاں ہوتی ہے۔ وہ انگریزی زبان و ادب پر بھی دسترس رکھتے ہیں اور عالمی ادب کے منتخب سرمائے کو اردو کے قالب میں منتقل کرنے کے لیے مشہورِ زمانہ مصنف ڈیل کارنیگی کی دو شہرۂ آفاق کتابوں کے اردو تراجم کے علاوہ متعدد انگریزی افسانوں کو بھی نہایت سلاست اور ادبی قرینے کے ساتھ اردو کا جامہ پہنایا ہے۔
جنابِ نسیم سحرؔ نے ازراہِ شفقت اپنی خوب صورت شعری کتاب ’’جادو بھری شام ‘‘بندۂ ناچیز کو ارسال فرمائی، جس کے لیے میں تہِ دل سے ان کا شکر گزار ہوں۔ ’’جادو بھری شام‘‘ بلاشبہ نسیم سحرؔ کے شعری سفر کا ایک خوب صورت اور دل آویز حوالہ ہے۔ یہ محض ایک شعری مجموعہ نہیں، بل کہ 2013ء سے 2015ء تک کے تین برسوں پر محیط ان کے تخلیقی سفر کی ایک دل نشیں دستاویز ہے، جو ان کے شعری مزاج، فکری رویّوں اور تخلیقی جہات کے کئی دل کش اور معنی خیز گوشوں سے آشنا کرتی ہے۔
قارئین کے ذوقِ سخن کی نذر اس خوب صورت مجموعے سے چند منتخب اشعار پیشِ خدمت ہیں۔ بالخصوص کتاب میں شامل حمد کا یہ مطلع پڑھ کر شاعر کے تخلیقی قرینے، فکری رفعت اور حمدیہ اظہار کی لطافت کو سراہنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے:
جونہی منظر میں حروفِ کن فکاں روشن ہوئے
ہر زمیں روشن ہوئی، سب آسماں روشن ہوئے
شاعر نے ’’حروفِ کن فکاں‘‘ کی نہایت بلیغ ترکیب کے ذریعے تخلیقِ کائنات کے عظیم قرآنی تصور کو لطافت اور شعری حسن کے ساتھ سمیٹ لیا ہے۔ ’’کن‘‘ کے ایک حکم سے ظہور پذیر ہونے والی کائنات کو شاعر نے ’’حروف‘‘ کے خوب صورت استعارے میں ڈھال کر اپنے تخیل کو ایک نہایت حسین اور معنی خیز جہت عطا کی ہے۔ گویا وہ لمحہ جب امرِ الٰہی نے عدم کے پردے چاک کیے اور ’’کن‘‘ کا حکم صادر ہوا، وہی وجود کے ظہور، کائنات کے جلوہ گر ہونے اور زمین و آسماں کے روشن ہونے کا نقطۂ آغاز بن گیا۔
دوسرے مصرعے میں ’’ہر زمیں‘‘ اور ’’سب آسماں‘‘ کی وسعتِ بیان پہلے مصرعے کے مفہوم کو ایک وسیع کائناتی پھیلاؤ عطا کرتی ہے۔ یہاں روشنی محض ظاہری نور نہیں، بل کہ وجود، زندگی، شعور، امکان اور جلوۂ قدرت کی علامت بن جاتی ہے۔ شاعر کے نزدیک تخلیق کا ہر منظر دراصل قدرتِ الٰہی کے اسی ایک حکمِ ’’کن‘‘ کا مظہر ہے۔ ’’روشن ہوئے‘‘ کی خوب صورت تکرار شعر میں نہ صرف موسیقیت پیدا کرتی ہے، بل کہ مفہوم کی تاثیر اور احساس کی شدت میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ یوں نسیم سحرؔ نے چند مختصر الفاظ میں تخلیقِ کائنات کی ایک بلیغ اور نورانی معنویت سمیٹ دی ہے، جسے پڑھتے ہوئے قاری کے تصور میں تخلیقِ عالم کا ایک دل آویز اور نورانی منظر ابھر آتا ہے۔
اسی خوب صورت مجموعے میں شامل ایک نعتِ رسولِ مقبول ﷺ کے مقطع میں وہ اپنی عقیدت و محبت کو نہایت لطیف اور فکر انگیز پیرائے میں یوں بیان کرتے ہیں:
فقط شعور پہ تکیہ نہ کر نسیمؔ سحر
تجلیوں کو ورائے شعور روشن رکھ
اس نعتیہ مقطع میں نسیم سحرؔ نے عقل و شعور کی محدودیت اور عشق و وجدان کی وسعت کو نہایت خوب صورت اور معنی خیز پیرائے میں سمو دیا ہے۔ شاعر اپنے باطن کو مخاطب کرتے ہوئے متنبہ کرتا ہے کہ محض عقل و شعور کی حدود پر اکتفا نہ کر، کیونکہ عشقِ رسول ﷺ کی دنیا ان محدود دائروں سے کہیں وسیع تر اور بلند تر ہے۔ ’’تجلیوں کو ورائے شعور روشن رکھ‘‘ میں شاعر اس روحانی کیفیت کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں عقلی ادراک اپنی حدوں کو چھونے لگتا ہے اور عشق، وجدان و قلبی عرفان کے نئے دریچے وا ہوتے ہیں۔
’’جادو بھری شام‘‘میں غزل کی بات ہو تو نسیم سحرؔ کی غزل کے اس خوب صورت شعر سے ان کے شعری ذوق،ندرتِ خیال اور اسلوب کی دل آویزی کا اندازہ بخوبی کیا جا سکتا ہے:
اب بھی کئی زنجیریں مقدر میں لکھی ہیں
انسان فضاؤں سے رہا ہو تو گیا ہے
یہ شعر انسانی آزادی کے ظاہری اور باطنی تضاد کو نہایت مؤثر اور فکر انگیز انداز میں سامنے لاتا ہے۔ شاعر کی نگاہ میں اگرچہ انسان نے فضاؤں کو تسخیر کرکے پرواز کی نئی منزلیں دریافت کرلی ہیں اور سائنسی ترقی کے ذریعے ناممکنات کو ممکن بنا لیا ہے، لیکن اس کے باوجود اس کے مقدر میں بے شمار زنجیریں اور پابندیاں اب بھی باقی ہیں۔
’’فضاؤں سے رہا‘‘ کی ترکیب ایک طرف انسانی ترقی، سائنسی فتوحات اور تسخیرِ فطرت کی علامت ہے تو دوسری طرف ’’زنجیریں‘‘ ان سماجی، فکری، معاشی اور نفسیاتی پابندیوں کا بلیغ استعارہ بن جاتی ہیں جن سے انسان آج بھی پوری طرح آزاد نہیں ہو سکا۔ شعر کی اصل معنوی قوت اور فکری گہرائی اسی تضادِ خیال میں پنہاں ہے کہ انسان نے فضا کی وسعتوں کو تو مسخر کرلیا، مگر اپنے باطن اور معاشرے کی بہت سی پابندیوں سے مکمل رہائی حاصل نہ کرسکا۔ گویا شاعر خارجی آزادی کے جشن کے ساتھ ساتھ انسان کی داخلی غلامی، فکری اسیری اور نامکمل آزادی کا ایک گہرا سوال بھی اٹھاتا ہے۔
نسیم سحرؔ بلاشبہ راولپنڈی کی ادبی روایت کے ایک اہم، فعال اور معتبر ترجمان ہیں۔ ان کا نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط ادبی سفر اس امر کا گواہ ہے کہ انہوں نے ادب کو محض اظہارِ ذات کا وسیلہ نہیں سمجھا، بل کہ اسے انسانی شعور کی تفہیم، ترجمانی اور تعبیر کا مؤثر ذریعہ بنایا۔ ان کی حمد و نعت میں عقیدت و وارفتگی، غزل میں زندگی کا شعور، نظم میں فکری آگہی، خاکوں میں انسان شناسی اور تنقید میں ادبی بصیرت و ژرف نگاہی یکجا ہو کر ایک ایسی ہمہ جہت اور ہمہ رنگ ادبی شخصیت کی تشکیل کرتی ہیں جو اپنے عہد کے فکری و تہذیبی منظرنامے کی بھرپور عکاس ہے۔
نسیم سحرؔ کے فکر و فن کا مطالعہ نہ صرف ان کی ادبی شخصیت اور تخلیقی جہات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے، بل کہ معاصر اردو ادب کے متعدد اہم رجحانات اور فکری و فنی میلانات کے فہم کے لیے بھی ایک بامعنی اور قابلِ توجہ حوالہ فراہم کرتا ہے۔