چک بیلی خان کی بارشیں

یہ ان دنوں کی بات ہے جب چک بیلی خان میں زیادہ ترمکان کچے تھے اور ان کی دیواریں پتھروں کو جوڑ کر بنائی جاتی تھیں جن کے اوپر چکنی مٹی کا لیپ کر دیا جاتا تھا، جن گھروں میں ایک دو کمروں کی دیواریں بھٹے کی پکی اینٹوں سے بنائی جاتی تھیں ان کے چھت پر مضبوط لکڑی کے شہتیر ڈال کر اس پر لکڑی کے چھے سات گزلمبے گول یا چپٹے ٹکڑے جنہیں مقامی زبان میں بالے کہا جاتا تھا تقریباً ایک ہاتھ چوڑائی میں ڈال کر ان کے درمیان لکڑی کی ایک دو انچ سوکھی ہوئی موٹی ٹہنیاں جوڑ کر ترتیب سے رکھی جاتی تھیں ان ٹہنیوں کو میریں کہا جاتا تھا .ان میروں پر سرکنڈے ڈال کر اوپر عام مٹی ڈالی جاتی تھی اور سب سے اوپر چکنی مٹی کا لیپ کیا جاتا تھا، چھت پر میریں، سرکنڈے اور مٹی ڈالنے کا کام راج مزدور سے نہیں کروایا جاتا تھا بلکہ گھر کے افراد خود سر انجام دیتے تھے جس کے لیے اہل محلہ کے نوجوانوں کی مدد حاصل کی جاتی تھی، یہ مل جل کر کام کرنے کا ان دنوں رواج تھا اور پورے گاؤں کے لوگ بخوشی ایسا کرتے تھے .

متعلقہ گھر والوں کے بلاوے پر نوجوان زمینوں سے عام مٹی اور چکنی مٹی گدھیوں پر لے کر آ تے تھے،یہ کام ایک دن میں مکمل نہ ہو سکے تو اگلے دن کرتے تھے، اسی طرح چھت پر مٹی ڈالنے کا کام بھی اہل محلہ کے تعاون سے مکمل کیا جاتا تھا، چکنی مٹی کا لیپ کرنے کا کام عموماً گھر کے افراد خود ہی کرتے تھے ، یہ کام نئے مکان کی تعمیر کے علاوہ ہر سال ساون برسنے سے پہلے سر انجام دیا جاتا تھا، چکنی مٹی صحن میں ایک جگہ اکٹھی کر کے اس میں پانی رکنے کی جگہ بنائی جاتی جس میں پانی ڈال کر مٹی کو نرم کیا جاتا، پھر اس مٹی میں جانوروں کی خوراک کے طور پر ناقابل استعمال بھوسا شامل کیا جاتا اور اس مٹی کو چھت پر لیپ کرنے کے قابل بنا کر چھت پر پہنچایا جاتا جہاں گھر کی خواتین اس مقصد کے لیے بنائے گئے مخصوص اوزار جسے مقامی زبان میں گرمالا کہتے ہیں،سے اس چکنی مٹی کو چھت پر اس طرح لیپ کرتیں کہ بارش کا پانی چھت پر رکنے کی بجائے پرنالے کی جانب چلا جائے اور پرنالے سے صحن یا گلی میں گر جائے .


عام طور پر ہر گھر میں کچھ کمرے اور چار دیواری پتھر جوڑ کر بنائے جاتے تھے، اس کے علاوہ صحن میں ایک جانب چولہا بنایا جاتا اور کمروں کے سامنے برآمدہ اور برآمدے کے باہر چارپائیاں بچھانے اور دیگر امور کیلئے مخصوص احاطہ رکھا جاتا جسے تھلہ کہا جاتا ، بارشوں کے موسم سے پہلے ان سب جگہوں پر گھر کی خواتین چکنی مٹی کا لیپ کر دیتیں، بارش کے دوران جب کسی کمرے میں پانی ٹپکتا تو فوراً اس کے تدارک کے لیے چھت پر جا کر دیکھا جاتا کہ پانی کہاں سے اندر گیا ہے تو اس جگہ مٹی ڈال کر چکنی مٹی کا لیپ لگا دیا جاتا .


ان دنوں دیگر دیہی گھروں کی طرح چک بیلی خان کے گھروں کے صحن بھی کچے ہوتے تھے، جب ساون برستا تو صحن پانی سے بھر جاتے،کچی گلیوں میں بھی ہر طرف پانی ہی پانی نظر آتا، ہر گھر کا پرنالہ گلی کے درمیان پانی گرا رہا ہوتا، محلہ کے بچے بارش کے پانی سے محظوظ ہوتے رہتے اور ہر جانب شور شرابہ کرتے بھاگ رہے ہوتے، کبھی بھاگ کر گاؤں کے وسطی تالاب میں چھلانگ لگا دیتے، کبھی غربی بنوڑے میں تیراکی کا مظاہرہ کرتے اور کبھی شمالی یا جنوبی ندی میں نہاتے، گھر آ کر والدین سے مار بھی کھاتے مگر باز نہ آتے .بارش کے مسلسل برسنے کی وجہ سے پیڑوں میں گھونسلہ بنا کر رہنے والی ننھی چڑیا اور اس کے بچوں کے پر گیلے ہو جاتے اور وہ اڑنے کی کوشش میں زمین پر گر پڑتے اور پناہ کی تلاش میں ہوتے، چک بیلی خان کے ننھے بچے انہیں اٹھا کر برآمدے میں ایک جانب چھوڑ دیتے تاکہ ان کے پر خشک ہو جائیں اور وہ اڑ کر اپنے گھونسلے میں پہنچ جائیں، تھوڑی دیر میں ان کے پر خشک ہو جاتے اور وہ اڑ نے کے قابل ہو جاتے.


جب بارش تھم جاتی تو آسمان پر خوب صورت رنگوں سے مزین قوس قزح دکھائی دیتے تو بچے شور مچاتے کہ دیکھو بڑھیا نے جھولا ڈالا ہے،اسے مقامی زبان میں اس طرح کہتے کہ او بڈھی پینگ پائی،او بڈھی پینگ پائی،اس کے بعد بچے کاغذ کی کشتی بنا کر بارش کے پانی میں رکھتے اور کہتے کہ میری کشتی دریا میں چل رہی ہے .


چک بیلی خان میں ساون کے سہانے موسم میں جب آسمان پر کالی گھٹا چھائی ہوتی اور بادل کے کڑکنے اور بجلی کی چمک دمک سے بچے ڈر جاتے تو فوراً گھروں کا رخ کرتے، ہر کھیت میں سرسبز و شاداب فصلیں لہلہا رہی ہوتیں، ان میں بارش کا پانی کھڑا ہو جاتا، زمین دار اپنی اپنی زمینوں کا برستی بارش میں جا کر معائنہ کرتے اور ان میں کھڑے پانی کے لیے کدال سے راستہ بناتے تاکہ فصل کو نقصان نہ پہنچ سکے .


چک بیلی خان میں ساون کی بارش سے صرف انسان ہی نہیں بلکہ چرند و پرند بھی محفوظ ہوتے، کیڑے مکوڑے زمین سے باہر نکل آتے، ہر جگہ سانپ نما کینچوے رینگتے ہوئے نظر آتے، جگہ جگہ مینڈک کے ٹرانے کی آوازوں کا شور سنائی دیتا،چک بیلی خان میں ساون کے موسم میں صرف عام مینڈک ہی دکھائی نہیں دیتے تھے بلکہ کافی بڑے بڑے مینڈک بھی نظر آتے تھے جن کے اوپر رنگ برنگے نقش و نگار بنے ہوتے تھے، ان مینڈکوں کو مقامی زبان میں ڈھنڈور کہا جاتا تھا، جب رات کا اندھیرا چھا جاتا تو اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت سے لاکھوں کی تعداد میں پتنگے زمین سے نکل آتے اور جس جگہ روشنی نظر آتی وہاں پہنچ جاتے .


اب چک بیلی خان میں ہر گھر پکی اینٹوں سے تعمیر کیا گیا ہے جس کے چھت پر سیمنٹ کا لینٹر ڈال کر اس کے اندر بارش کے پانی کا راستہ روک دیا گیا ہے، گھروں کے صحن، چار دیواری، اور کھانا پکانے کے لیے مخصوص کمرے پکی اینٹوں سے بنائے جاتے ہیں . گلیاں پختہ ہو گئی ہیں جن میں بارش کا پانی کھڑا نہیں ہو سکتا، تالاب کی صورت میں پانی کے ذخائر ختم کر کے ان کی جگہ عمارات کھڑی کر دی گئی ہیں، ندی میں شفاف پانی کی جگہ خود رو پودوں کی کثرت ہے، بچے قدرتی ماحول سے مل جل کر محفوظ ہونے کی بجائے گھروں میں محصور ہو کر اور زیادہ تر وقت موبائل فون پر مصروف رہتے ہیں، اہلِ محلہ صرف آتے جاتے ایک دوسرے کا احوال دریافت کر لیتے ہیں، مدد کا رواج ختم ہو گیا ہے، جب ساون برستا ہے تو بند کمروں میں آرام کرنا پسند کرتے ہیں، کب بارش شروع ہوئی اور کب ختم ہو گئی، انہیں بہت کم معلوم ہو پاتا ہے، بارشیں تو اب بھی برستی ہیں مگر بارش کی وجہ سے بنے ہوئے رشتے قائم نہیں رہے،ایسے رشتے جومحبت کے اصول پر قائم تھے جن کی وجہ سے بھائی چارے کی فضا قائم تھی وہ کہیں کھو گئے ہیں، ایسے رشتے جو بے لوث تھے انہیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے .