پاکستان کے شاہی خاندان

رکن قومی اسمبلی انتقا ل کر گیا ‘پارٹی لیڈر نے حکم صادر فرمایا کہ اس کے بعد اس کے بیٹے کو رکن قومی اسمبلی بنا دیا جا ئے‘ عرض کیا گیا کہ حضور وہ پہلے ہی ایک اعلیٰ منصب پر فائزہے اور حکومت سے تنخواہ وصول کر رہا ہے قانون اس با ت کی اجازت نہیں دیتا کہ اسے رکن قومی اسمبلی بنا دیا جا ئے تو پھر پارٹی لیڈر نے حکم دیا کہ اُسے مشیر کے عہدے پر بٹھا دیا جا ئے ‘ہماری سیا سی جماعتیں شخصی ملکیت میں ہیں یہ جماعتیں مالکوں کی خاندانی پراپرٹی، خاندانی جائیداد ، خاندانی کارخانوں اور خاندانی بنک بیلنس کی طرح مالکوں کی خاندانی ایمپائیر کا حصہ ہو تی ہیں۔ سیا سی جماعت کا مالک وفات پا جائے تو اُس کی بیٹی تخت نشین ہو تی ہے اگر وہ بھی انتقال کر جا ئے تو اس کا خاوند تاجدار ہو جا تا ہے۔

اس اثنا میں بیٹے کو تیا ر کیا جا رہا ہو تا ہے اور بیٹی کو بھی پا رلیمنٹ میں اُتار دیا جا تا ہے۔ دوسری سیا سی جما عت بھی تین عشروں سے ایک ہی خانوادے کی تجودی میں بند ہو تی ہے وزیر اعظم لگانا ہو یا وریر اعلیٰ لازم ہے کہ خاندان کے اندر سے ہی ہو تخت وتاج پر صرف اور صرف خاندان ہی کا حق ہے۔ وزیر ،وزراءقائد ین جتنے بھی لائق ہوں جتنے بھی اہل ہو ں ہمیشہ درباری ہی رہتے ہیں یہ لیا قت یا اہلیت کا مسئلہ نہیں یہ صر ف خون کا مسئلہ ہے۔ شاہی خاندان کے خون کا مسئلہ جس کی وریدوں میں شاہی خون ہو گا وہی حکمران بنے گا ۔
ہمارے ان شاہی خاندانوں کی ایک بڑی صفت ان کی فیا ضی ہے یہ اپنے وفاداروں کی قدر کر تے ہیں ان پر کو ئی احسان کر ے تو احسان ہمیشہ یا د رکھتے ہیں اور یہ احسان کا بدلہ ضرور دیتے ہیں

مگر اس احسان مندی میں سیا سی جما عتوں کے یہ مالکان ایک احتیا ط ضرور کر تے ہیں۔ وہ یہ کہ یہ فیا ضیاں یہ انعام واکرام ہمیشہ سرکا ری خزانے سے عنایت فرماتے ہیں۔ وفادار تو ذاتی ہو تے ہیں مگر بدلے کا بوجھ بیت المال پر پڑتا ہے قید کے دوران کسی ڈاکٹر نے خصوصی دیکھ بھال کی تو اُسے ذاتی احسان کا بدلہ سرکاری وزارت کے قلمدان کی صورت میں عطا کیا جا تا ہے اور پھر اسے کھلی چھٹی بھی دے دی جا تی ہے کہ چاہے تو سفید کو سیا ہ کر ئے چاہے تو سیا ہ کو سفید کر ے اور اگر چاہے تو سفید اور سیا ہ دونوں کو کسی نئے رنگ میں رنگ دے کسی پو لیس افسر نے ذاتی وفاداری نبھائی تو اُسے سینٹ کی نشست پلیٹ میں رکھ کر دی جا تی ہے

یہ اور بات ہے سینیٹ کی تما م مدت میں اس کا کو ئی مثبت اور تعمیری حصہ نہ ہو کسی اور نے وفاداری اور مکمل اطاعت کا ثبوت دیا ہو تو اُسے سفیر لگا دیا جا تا ہے یہ اور با ت ہے کہ اس کا تجربہ اس میدان میں صفر ہو ایک مدت ملازمت پوری ہو تی ہے تو ایک اور مدت کے لئے کسی اور پو سٹ پر دوسری با ر پھر با ہر بھیج دیا جا تا ہے کسی بیوروکر یٹ بے وفاداری نبھا ئی ہو اور احکا م کی بجا آوری میں قانوں اور ضابطے کی پر وانہ کی ہو تو اُسے سینیٹ کی سیٹ دے کر کا بینہ کا ممبر بنا دیا جا تا ہے حالانکہ سیا سی جماعتوں کے ان ما لکوں کے پا س بڑی بڑی ذاتی جا گیریں ہیں‘ کا رخانے ہیں ان وفادار ملازموں کو بہت آسانی سے اپنی ذاتی ایمپائر میں تعینا ت کر سکتے ہیں

مگر اس صورت میں انہیں تنخواہ اور مراعات ذاتی جیب سے دینا ہو نگی لہذاہ ذاتی جیب پر بوجھ ڈالنا ان کو ہر گز پسند نہیں ۔ ان حضرات کی یہ عادت سلاطین دہلی اور مغل بادشاہوں کی عادت سے ملتی جلتی ہے ، ہرم خان پہلے شہنشاہ ہمایوںکا اور پھر جلال الدین اکبر کا وفادار رہا ، اکر تخت نشین ہو ا تو اس کی عمر سولہ بر س تھی اس کی سلطنت کے استحکام کے لئے ہرم خان دن رات ایک کر دیا پا نی پت کی دوسری لڑائی میں ہمایوں دقال کو شکست دی اور اس سے دہلی اور آگرہ واپس لئے یرم خان قتل ہو ا کو اکبر نے اُس کے بیٹے عبدالرحیم خان خانا ں کو دربار میں اعلیٰ منصب سے نواز ا وہ اکبری عہد کے متمول ترین نوابوں میں شمار
کیا جا تا ہے

پا کستا ن میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے گزارش ہے کر سرکا ری خزانے کو اپنے ذاتی مقاصد واغراض کے لئے استعمال مت کیجئے اس خزانے کو مفلوک الحال عوام اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ کا ٹ کا ٹ کر بھر تے ہیں اس کے استعمال میں جا فراخد اور فیا ضی نہ کیجئے کو ئی دنوں کی با ت ہے کہ پیسے پیسے کا حساب ہو گا مو جودہ زما نے میں جن ممالک میں سرکا ری خزانے حکمرانوں کی غارتگری سے محفوظ ہیں ۔ وہ ممالک غیر مسلموں کے ہیں جس بے دردی سے مسلم حکمرانوں کی بھاری اکثریت سرکا ری خزانے کو جا ئز استعمال کر تی ہے

ترقی یا فتہ جمہوری ممالک میں اس کا تصور بھی نا ممکن ہے۔ ہمارے ملک میں جا گیردار دوطرح کے ہیں ایک تو وہ ہیں جو جا گیر کے مالک ہیں دوسرے وہ جن کے پاس جا گیر قسم کی کو ئی چیز نہیں ہو تی مگر اُن کی ذہنیت جا گیر داروں جیسی ہو تی ہے۔ پست خا ندانی پس منظر سے کو یکدم بڑے منصب پر پہنچ جا ئے تو اسی ذہنیت کا مظاہرہ کر تا ہے۔ پست خاندانی پس منظر سے مرادمفلسی نہیں بلکہ تر بیت کی کمی اور شرافت ونجابت کا فقدان ہے بسا اوقات امیر زادوں کا خاندانی پس منظر پست ہو تا ہے کیونکہ ادب آداب تمیز خوش اخلاقی اور انکسار سے عاری ہو تے ہیں۔ رویے سے فر عونیت ٹپکتی ہے

بہت سی مثالیں ایسے افراد کی ہیں جو متوسط بلکہ زیریں طبقے سے ہیں مگر خاندانی پس منظر اتنا بڑا اور اونچا ہے کہ کمزوروں کے ساتھ انکسارسے پیش آتے ہیں اور طاقتوروں سے مر عوب نہیں ہو تے اسی طرح کچھ افراد شاہی خاندانوں سے ہو تے ہیں مگر کچھ ایسے بھی ہو تے ہیں جن کا کسی شاہی خاندان سے کو ئی تعلق نہیں ہوتا لیکن احساس کمتری اتنا شدید ہو تا ہے کہ رویہ اور طرز زندگی شاہی خاندانوں جیسا اختیار کر لیتے ہیں ویسے جو با دشاہ تھے وہ بھی کہا ں بادشاہ تھے قطب الدین ایبک بازار میں بکا ہو ا غلام تھا احمد شاہ ابدالی جو افغانستان کا پہلا بادشاہ بنا اصلاََ نادرشاہ کا سیکر ٹری اور بعد میں کمانڈر تھا رضا شاہ پہلوی جو 1925میں ایران کا با دشاہ بن بیٹھا قا چاریون کے زمانے میں محض ایک کر نل تھا

محمود غزنوی اصلاََ غلام زادہ تھا وہ تو اس کے باپ سبکتگین کی لاٹری نکل آئی کہ اس کے مالک اپتگین نے اپنی بیٹی کی شادی سبتگین سے کر دی پاکستا ن میں ایسے شاہی خاندانوں کی کمی نہیں مگر شاہی خاندان میں ہم آپ اور ہماری نسلیں ان شاہی خاندانوں کی رعیت میں مستقبل میں ہمارے سٹیٹس کے بدلنے کا امکا ن صفر ہے ہم ہمیشہ رعیت ہی رہیں گے اسی لئے عقلمند کہتے ہیں کہ ملک سے نہیں خاندانوں کے ساتھ وفاداری کر و کا میا بی آپ کے قدم چومے گی لیکن یا د رکھیے کہ زندگی کی ضمانت ایک پل کی نہیں ۔ شاہی خاندانون والے سمجھتے ہیں کہ گو ر میں تو عوام جا ئیں گے اور یوں لگتا ہے کہ وہ شاہی خاندانوں والے ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔