سوشل میڈیا: شور یا شعور؟

ایک وقت تھا جب معاشروں کی سمت کتابیں طے کرتی تھیں، استاد کردار تراشتے تھے، اور گھر پہلی درسگاہ ہوا کرتے تھے۔ آج بھی یہ سب موجود ہے، مگر ان سب کے درمیان ایک نئی طاقت نے اپنی جگہ بنا لی ہے—سوشل میڈیا۔ ایک ایسی دنیا جہاں ایک انگلی کی جنبش پر خیالات جنم لیتے ہیں، رائے بنتی ہے، فیصلے صادر ہوتے ہیں، اور کبھی کبھی کردار بھی دفن کر دیے جاتے ہیں۔

یہ طاقت حیران کن بھی ہے اور خوفناک بھی۔ سوال یہ نہیں کہ سوشل میڈیا اچھا ہے یا برا؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اس کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ کیا ہم شعور حاصل کر رہے ہیں یا صرف شور پیدا کر رہے ہیں؟

آج ہمارے پاس معلومات کی کمی نہیں، مگر شعور کی پیاس پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ ہر لمحہ ہزاروں خبریں، ویڈیوز اور تبصرے ہماری اسکرین پر نمودار ہوتے ہیں۔ ہم پڑھتے کم ہیں، ردِعمل زیادہ دیتے ہیں۔ سوچتے کم ہیں، فیصلہ پہلے سنا دیتے ہیں۔ تحقیق کے لیے وقت نہیں، لیکن تنقید کے لیے ہر شخص تیار بیٹھا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں شور، شعور پر غالب آ جاتا ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ آج سچ کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے میں وقت لگتا ہے، جبکہ جھوٹ چند لمحوں میں لاکھوں دلوں میں جگہ بنا لیتا ہے۔ ایک بے بنیاد خبر، ایک تراشیدہ ویڈیو یا ایک گمراہ کن تصویر نہ صرف کسی فرد کی عزت خاک میں ملا سکتی ہے بلکہ پورے معاشرے میں نفرت کی آگ بھی بھڑکا سکتی ہے۔

ہم نے اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھ لیا ہے۔ اگر کوئی ہماری سوچ سے مختلف بات کرے تو دلیل دینے کے بجائے ہم اسے خاموش کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ گالم گلوچ، طنز، کردار کشی اور نفرت انگیز زبان اب معمول بنتی جا رہی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے الفاظ نے اپنی شائستگی کھو دی ہو۔

سب سے زیادہ فکر نوجوان نسل کی ہے۔ وہ نسل جو خواب دیکھنے، تحقیق کرنے اور مستقبل تعمیر کرنے کی عمر میں ہے، اس کا ایک بڑا حصہ لائکس، ویوز اور فالوورز کی دوڑ میں اپنی اصل پہچان بھولتا جا رہا ہے۔ کامیابی اب محنت سے کم اور مقبولیت سے زیادہ ناپی جانے لگی ہے۔ حالانکہ دنیا کی ہر بڑی کامیابی خاموش جدوجہد، مسلسل سیکھنے اور صبر کا نتیجہ ہوتی ہے، نہ کہ چند لمحوں کی وائرل شہرت۔

سوشل میڈیا نے ہمیں اظہارِ رائے کا حق ضرور دیا، مگر اس کے ساتھ ذمہ داری کا احساس پیدا نہیں کیا۔ آزادیٔ اظہار کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم کسی کی عزت، نجی زندگی یا وقار کو پامال کر دیں۔ ایک مہذب معاشرہ صرف قانون سے نہیں، بلکہ اخلاق سے زندہ رہتا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ یہی سوشل میڈیا بے شمار مثبت کہانیوں کا ذریعہ بھی بنا ہے۔ کسی مریض کے علاج کے لیے چند گھنٹوں میں لاکھوں روپے جمع ہو جاتے ہیں۔ گمشدہ بچے اپنے خاندان تک پہنچ جاتے ہیں۔ نوجوان علم بانٹتے ہیں، کتابوں کا تعارف کرواتے ہیں، کاروبار شروع کرتے ہیں اور دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت چہرہ بھی پیش کرتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ نیت، سوچ اور استعمال کا ہے۔

ہمیں خود سے چند سوال ضرور پوچھنے چاہییں۔ کیا میں وہی چیز آگے بڑھاتا ہوں جس کی سچائی کی تصدیق کر چکا ہوں؟ کیا میری پوسٹ معاشرے میں امید پیدا کرے گی یا نفرت؟ کیا میرے الفاظ کسی دل کو جوڑیں گے یا توڑ دیں گے؟

اگر ان سوالوں کے جواب ہمارے ضمیر کو مطمئن نہیں کرتے تو شاید ہمیں پوسٹ کرنے سے پہلے چند لمحے خاموش رہنا چاہیے۔ کیونکہ بعض اوقات خاموشی، شور سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔

ہر دور کی اپنی آزمائش ہوتی ہے۔ ہماری آزمائش تلوار نہیں، زبان نہیں، بلکہ انگلیاں ہیں جو موبائل کی اسکرین پر چلتی ہیں۔ انہی انگلیوں سے علم بھی پھیل سکتا ہے اور زہر بھی۔ انہی سے امید بھی لکھی جا سکتی ہے اور نفرت بھی۔ انتخاب صرف ہمارا ہے۔

آنے والی نسلیں ہمیں ہماری عمارتوں، سڑکوں یا بلند عمارتوں سے زیادہ ہمارے اخلاق، رویوں اور ڈیجیٹل ورثے سے یاد رکھیں گی۔ اگر ہم نے سوشل میڈیا کو کردار سازی، علم، برداشت اور مثبت مکالمے کا ذریعہ بنا لیا تو یہ آنے والے کل کی سب سے بڑی نعمت ثابت ہوگا۔ لیکن اگر ہم نے اسے صرف شور، تضحیک، جھوٹ اور تقسیم کے لیے استعمال کیا تو تاریخ ہمیں ترقی یافتہ نہیں، بلکہ شور زدہ معاشرہ لکھے گی۔

آخر میں سوال پھر وہی ہے، مگر اس بار مخاطب صرف معاشرہ نہیں، ہم خود ہیں۔

جب بھی ہم موبائل کی اسکرین کھولیں تو ایک لمحے کے لیے خود سے پوچھیں:

میں آج سوشل میڈیا پر شور بڑھانے آیا ہوں یا شعور بانٹنے؟

کیونکہ قوموں کی تقدیر صرف پارلیمانوں میں نہیں لکھی جاتی، وہ لوگوں کے کردار، سوچ اور الفاظ سے بھی لکھی جاتی ہے۔ اور آج کے دور میں ہمارے الفاظ کی سب سے بڑی آزمائش سوشل میڈیا ہے۔