یہ صرف ایک جملہ نہیں، بلکہ ہماری ماؤں، دادیوں، پھوپھیوں اور خالاؤں کی زندہ داستان ہے۔
وہ دور تھا جب گھروں کی چھتیں بارش میں ٹپکتی تھیں۔ پانی روکنے کے لیے تھالیاں رکھی جاتیں، لوگ بوندیں گنتے ہوئے راتیں گزار دیتے۔ دیواروں میں دراڑیں ہوتیں، بجلی گھنٹوں غائب رہتی، اور دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی آسان نہ ہوتا، مگر گھر ٹوٹتے نہیں تھے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ میاں بیوی مشکل حالات میں ایک دوسرے کا سہارا بنتے تھے۔
بہت سی خواتین نے تنگ دستی، فاقوں اور مشکلات میں اپنے شوہروں کا ساتھ نبھایا۔ وہ جانتی تھیں کہ غربت جرم نہیں، بے وفائی جرم ہے۔ وہ حالات کا مقابلہ اپنے شریکِ حیات کے ساتھ مل کر کرتی تھیں، اس کے خلاف نہیں۔ ان کی زندگی صبر، وفاداری اور استقامت کی روشن مثال تھی۔
آج وہی خواتین بڑھاپے کی دہلیز پر ہیں۔ بال سفید ہو چکے ہیں، چہروں پر جھریاں ہیں، ہاتھ کانپتے ہیں، مگر ان کے ضمیر پر اپنے رشتے سے بے وفائی کا بوجھ نہیں، کیونکہ انہوں نے رشتے دولت پر نہیں، وفا اور اعتماد پر استوار کیے۔
آج کا دور یقیناً بدل چکا ہے۔ زندگی کی رفتار تیز ہے، معاشی دباؤ زیادہ ہے اور سوشل میڈیا نے دوسروں کی زندگیوں کا صرف خوبصورت رخ ہمارے سامنے رکھ دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں بعض لوگ اپنی حقیقی زندگی کا موازنہ دوسروں کی منتخب اور سجی ہوئی تصاویر سے کرنے لگتے ہیں، جس سے بے چینی اور مایوسی جنم لیتی ہے۔
البتہ ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ ہر رشتہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ اگر کسی رشتے میں ظلم، تشدد، نشہ، یا جان و عزت کو خطرہ ہو تو وہاں خاموشی وفاداری نہیں بلکہ خود پر ظلم ہے۔ ایسے حالات میں تحفظ اور انصاف کو ترجیح دینا ضروری ہے۔
لیکن جہاں آزمائش صرف غربت، مہنگائی، بیماری یا وقت کی سختیوں کی صورت میں ہو، وہاں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے رکھنا ہی حقیقی محبت اور رفاقت کی علامت ہے۔ آج بھی راولپنڈی کی گلیوں، کچی آبادیوں اور چھوٹے گھروں میں بے شمار ایسے جوڑے موجود ہیں جو تمام مشکلات کے باوجود ایک دوسرے کا ساتھ نبھا رہے ہیں، اور یہی رشتے وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتے جاتے ہیں۔
یاد رکھیے!
گھر صرف اینٹوں اور سیمنٹ سے نہیں، بلکہ صبر، محبت اور ایثار سے بنتے ہیں۔ رشتے دولت سے نہیں، اعتماد، احترام اور وفاداری سے قائم رہتے ہیں۔ اور جو لوگ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ نہیں چھوڑتے، وقت بھی اکثر انہیں تنہا نہیں چھوڑتا۔