ہر سال جون اور جولائی کے آغاز سے ہی محکمہ موسمیات شدید بارشوں، سیلابوں اور شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کے خطرات سے آگاہ کرنا شروع کر دیتا ہے۔ میڈیا پر رپورٹس نشر ہوتی ہیں، ماہرین انتباہ دیتے ہیں اور متعلقہ اداروں کو الرٹ جاری کیے جاتے ہیں۔ مگر جب بارشیں شروع ہوتی ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے حکومت اور انتظامیہ کے لیے یہ سب کچھ اچانک اور غیر متوقع ہو۔ سڑکیں تالاب بن جاتی ہیں، نالے ابل پڑتے ہیں، بجلی کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے اور شہری زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔
پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ دنیا کے ان ممالک میں شامل ہونے کے باوجود جو عالمی آلودگی میں کم حصہ ڈالتے ہیں، پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ 2022 اور 2025کے تباہ کن سیلابوں نے اس حقیقت کو پوری دنیا کے سامنے آشکار کر دیا تھا۔ ملک کا ایک بڑا حصہ زیر آب آ گیا، لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، فصلیں تباہ ہوئیں اور اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ اس سانحے کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ حکومتیں مستقبل کے لیے جامع منصوبہ بندی کریں گی، مگر زمینی حقائق آج بھی زیادہ مختلف نظر نہیں آتے۔
بڑے شہروں کی صورتحال اس حوالے سے خاص طور پر تشویش ناک ہے۔ کئی علاقوں میں نکاسی آب کا نظام یا تو ناکافی ہے یا پھر برسوں سے اس کی صفائی نہیں کی گئی۔ نالوں پر تجاوزات قائم ہیں، سیوریج لائنیں بند ہیں اور کچرے کے ڈھیر بارش کے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ نتیجتاً چند گھنٹوں کی بارش بھی شہریوں کے لیے عذاب بن جاتی ہے۔حکومتوں کی جانب سے ہر سال دعوے تو کیے جاتے ہیں کہ تمام انتظامات مکمل ہیں، نالوں کی صفائی کر دی گئی ہے اور متعلقہ ادارے الرٹ ہیں، مگر پہلی ہی بارش اکثر ان دعوؤں کی حقیقت آشکار کر دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر مون سون کا موسم ہر سال آتا ہے اور اس کے خطرات پہلے سے معلوم ہوتے ہیں تو پھر بروقت تیاری کیوں نہیں کی جاتی؟ کیوں نالوں کی صفائی بارشوں سے چند دن پہلے شروع کی جاتی ہے؟ کیوں تجاوزات کے خلاف کارروائیاں صرف کاغذوں تک محدود رہتی ہیں؟ اور کیوں اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود بنیادی انفراسٹرکچر بہتر نہیں ہو پاتا؟
اصل مسئلہ ہنگامی ردعمل کی بجائے مستقل منصوبہ بندی کے فقدان کا ہے۔ ہمارے ادارے اکثر آفت آنے کے بعد متحرک ہوتے ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک آفت آنے سے پہلے حفاظتی اقدامات مکمل کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں شدید بارشوں کے باوجود نقصانات نسبتاً کم ہوتے ہیں جبکہ پاکستان میں معمولی بارش بھی بحران کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔مون سون سے قبل سب سے اہم ضرورت نکاسی آب کے نظام کی مکمل صفائی ہے۔ تمام بڑے اور چھوٹے نالوں، سیوریج لائنوں اور ڈرینج چینلز کی صفائی موسم شروع ہونے سے کئی ماہ پہلے مکمل ہونی چاہیے۔ اس عمل کی نگرانی آزاد اداروں کے ذریعے کی جائے تاکہ صرف کاغذی کارروائی نہ ہو بلکہ عملی نتائج سامنے آئیں۔
اسی طرح تجاوزات کا مسئلہ بھی فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ برسوں سے ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں پر غیر قانونی تعمیرات ہوتی رہی ہیں۔ جب بارش کا پانی اپنے قدرتی راستے سے گزرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ رکاوٹیں سیلاب اور اربن فلڈنگ کا سبب بنتی ہیں۔ حکومت کو سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر ایسی تجاوزات کے خلاف مستقل اور مؤثر کارروائی کرنی چاہیے۔شہری منصوبہ بندی میں بھی بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ نئی ہاؤسنگ سوسائٹیز اور تعمیراتی منصوبوں کی منظوری دیتے وقت بارش کے پانی کے اخراج کے نظام کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ بدقسمتی سے کئی رہائشی منصوبے ایسے علاقوں میں تعمیر کر دیے جاتے ہیں جو قدرتی آبی گزرگاہوں کا حصہ ہوتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شدید بارشوں کے دوران یہی علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
اسی طرح نئے ڈیموں کی تعمیر بھی ہمارے لیے نہایت ضروری ہے تاکہ سیلاب اور بارشوں کے پانی کو ان میں ذخیرہ کیا جا سکے۔ ہمارے ہاں پانی کا بہت بڑا مسئلہ ہے بارشیں کم ہوں تو ہم پیاس سے مرنے لگتے ہیں اور زیادہ ہو جائیں تو سیلاب سے۔اگر چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کیے جائیں تو بارشوں کا پانی یا بھارت کی طرف سے چھوڑا گیا پانی ان میں جمع کیا جا سکتا ہے جو پانی کی قلت کے وقت ضرورت کے مطابق استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مون سون کی بارشوں کو روکا نہیں جا سکتا، لیکن ان سے ہونے والے نقصانات کو بڑی حد تک کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے سنجیدہ منصوبہ بندی، سیاسی عزم، شفاف نگرانی اور بروقت اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہر سال بارشوں کے بعد نقصانات کا جائزہ لینے اور افسوس کا اظہار کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اصل کامیابی تب ہوگی جب بارشوں سے پہلے تیاری مکمل ہو اور شہری خود کو محفوظ محسوس کریں۔
پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ اگر ہم نے آج بھی روایتی غفلت اور تاخیر کا راستہ اختیار کیے رکھا تو مستقبل میں نقصانات کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ مون سون کو ایک موسمی معمول نہیں بلکہ قومی چیلنج کے طور پر لے اور پیشگی اقدامات کو اپنی ترجیح بنائے۔وقت کا تقاضا یہی ہے کہ بارشوں کے بعد صفائیاں کرنے اور نقصانات گننے کی روایت ترک کی جائے اور بارشوں سے پہلے مؤثر تیاری کی ثقافت کو فروغ دیا جائے۔ بصورت دیگر ہر سال کی طرح اس سال بھی بارشیں آئیں گی، سڑکیں ڈوبیں گی، گھروں میں پانی داخل ہوگا، قیمتی جانیں ضائع ہوں گی اور ہم ایک بار پھر یہی سوال پوچھتے رہ جائیں گے کہ آخر سبق کب سیکھا جائے گا؟
ضیاء الرحمن ضیاءؔ