
آج کا معاشرہ ایک ایسے نازک دَور سے گزر رہا ہے جہاں آئے دن اخبارات اور ذرائع ابلاغ پر ایسی خبریں سامنے آتی ہیں جو انسان کے دل کو دہلا دیتی ہیں۔ کبھی کسی معصوم بچی کی عصمت دری، کبھی کسی بچے سے بدفعلی ، کبھی کسی طالبہ کی بے حرمتی یا کسی بے گناہ انسان پر تشدد کی خبر ہمارے سامنے آتی ہے۔ چوری، ڈاکہ زنی اور قتل کی خبریں اور ویڈیو۔ یہ واقعات اب محض حادثات نہیں رہے بلکہ ایک ایسا تلخ معمول بنتے جا رہے ہیں جس نے پوری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہی وہ معاشرہ ہے جس کا خواب دیکھا، جس کے لیےبے شمار جان و مال اور عصمت کی قربانی دی۔ملک پاکستان بنایا،جہاں اسلام کا قانون عدل، انسان کااحترامِ اور امن و امان ہو گا؟
عام طور پر ایسے سانحات کے بعد یہ جملہ سننے کو ملتا ہے کہ “معاشرہ خراب ہو گیا ہے”۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ معاشرہ کوئی الگ وجود نہیں، بلکہ ہم سب ہی اس کی تشکیل کرتے ہیں۔ ہمارے گھر، ہماری تربیت، ہمارے رویے اور ہماری اجتماعی سوچ ہی معاشرے کا چہرہ بناتے ہیں۔ اگر گھروں میں بچوں کو انسان کا ادب واحترامِ، شرم وحیا، کردار اور دوسروں کے حقوق کا شعور نہ دیا جائے، اگر طاقتور افراد دولت، سفارش یا اثر و رسوخ کے بل بوتے پر قانون سے بچ نکلیں، اور اگر مظلوم کو انصاف دینے کے بجائے اسی سے سوالات کیے جائیں تو پھر ایسے جرائم کو پنپنے کے لیے سازگار ماحول مل جاتا ہے۔
ان جرائم کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ مجرم کے دل سے قانون کا خوف ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ چند روز شور و غوغا ہوگا، ذرائع ابلاغ پر بحثیں ہوں گی، پھر وقت گزرنے کے ساتھ سب کچھ بھلا دیا جائے گا۔ یہی اجتماعی خاموشی دراصل ظالم کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ جب معاشرہ ظلم پر خاموش رہنے لگے تو جرم صرف ایک فرد کا نہیں رہتا بلکہ پوری قوم کی بے حسی کا آئینہ بن جاتا ہے۔
یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ چند درندہ صفت افراد کے جرائم کی بنیاد پر پوری مرد برادری کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ہمارے معاشرے میں بے شمار ایسے باپ، بھائی، بیٹے اور شوہر موجود ہیں جو اپنی جان پر کھیل کر اپنے خاندان کی عزت و عصمت کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہی لوگ معاشرے کا اصل سرمایہ ہیں۔ درندگی کا تعلق جنس سے نہیں بلکہ کردار کی پستی سے ہے۔ جو شخص کسی معصوم کی عزت پامال کرے یا کسی کمزور پر ظلم کرے، وہ مردانگی کے نام پر ایک بدنما داغ ہے اور انسان کہلانے کا بھی مستحق نہیں۔اسے درندہ کہنا چاہیے اور اس سے نفرت کرنا چاہیے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ اب یہ ظلم صرف بچیوں یا خواتین تک محدود نہیں رہا بلکہ معصوم بچے بھی اس درندگی کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مجرم نہ عمر دیکھتا ہے، نہ جنس، نہ رشتہ اور نہ ہی انسان۔ یہی وہ لمحہ ہے جب پوری قوم کو اپنے مستقبل پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیسا پاکستان دے رہے ہیں؟ کیا ہر ماں اپنے بچے کو خوف کے ساتھ اسکول بھیجے گی؟ کیا ہر باپ اپنی بیٹی کی واپسی تک بے چین رہے گا؟ اگر ایسا ہے تو یہ صرف ایک خاندان نہیں بلکہ پوری قوم کی ناکامی ہے۔
ایسے حالات میں ریاست کی ذمہ داری سب سے زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ قانون کا وجود اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب اس پر بلاامتیاز عمل درآمد ہو۔ ایسا نظامِ انصاف ناگزیر ہے جہاں کسی مجرم کو اس کی دولت، سیاسی اثر و رسوخ یا سماجی حیثیت سزا سے نہ بچا سکے۔ انصاف میں تاخیر درحقیقت ظلم کی ایک صورت ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف مظلوم کا اعتماد ٹوٹتا ہے بلکہ مجرم کے حوصلے بھی بلند ہوتے ہیں۔
تاہم صرف ریاست ہی نہیں بلکہ ہر گھر، ہر تعلیمی ادارے اور ہر فرد پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ہمیں اپنی بیٹیوں کو صرف احتیاط کا درس دینے کے بجائے اپنے بیٹوں کو احترامِ خواتین، حیا، اخلاق، ضبطِ نفس اور ذمہ داری کا شعور دینا ہوگا۔اپنی حفاظت آپ کرنے،آتے جاتے اتحاد و اتفاق سے رہنا،اگر کوٸی برا وقت اٸے تو مل کر ظالموں کا مقابلہ کرنا فرض ہے۔
ایک مہذب معاشرہ صرف سخت قوانین سے نہیں بلکہ اعلیٰ کردار، مضبوط تربیت اور زندہ ضمیر سے تشکیل پاتا ہے۔
اسلام نے انسان کو سب سے بڑی عزت عطا کی ہے۔ عورت کو وقار، بچے کو تحفظ اور ہر انسان کی جان، مال اور عزت کو مقدس قرار دیا ہے۔ جو شخص کسی معصوم کی عزت پامال کرتا ہے، وہ نہ صرف ملکی قانون بلکہ اللہ تعالیٰ کے واضح احکام کا بھی مجرم ہے۔ ایسے جرائم کی مذمت کافی نہیں بلکہ ان کے خلاف مؤثر اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خاموشی توڑیں، مظلوم کا ساتھ دیں، انصاف کے قیام کا مطالبہ کریں اور ہر اس قوت کے سامنے ڈٹ جائیں جو ظلم کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ جب معاشرہ مجرم سے زیادہ مظلوم سے سوال کرنے لگے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کا اجتماعی ضمیر کمزور ہو چکا ہے۔ اس ضمیر کو بیدار کرنا ہی ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔
آئیے عہد کریں کہ ہم ایک ایسا پاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے جہاں ہر بچہ محفوظ ہو، ہر بیٹی باوقار ہو، ہر عورت خود کو باامن محسوس کرے اور ہر شہری کو انصاف میسر آئے۔ کیونکہ قومیں صرف جرائم سے نہیں ٹوٹتیں بلکہ اس وقت ٹوٹتی ہیں جب ظلم کے خلاف آوازیں خاموش ہو جائیں۔ اگر ہم انصاف، قانون کی بالادستی، اعلیٰ کردار اور اجتماعی ذمہ داری کو اپنا شعار بنا لیں تو یقیناً ایک ایسا معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے جہاں جنگل کا قانون نہیں بلکہ عدل و انصاف اور امن کا راج ہو۔
حکومت وقت کا یہ فریضہ ہے کہ عوام کی جان و مال اور عزت و آبرو،عفت و عصمت کو تحفظ دے اور مجرموں کو عبرت ناک سزا سر عام دے،مجرموں کے لیے کسی بھی قسم کی معافی نہیں دی جائے۔ اس کے ساتھ ملک کے شہریوں کو بھی اپنا فرض نبھانا ہو گا۔ہر گلی، محلہ، گاؤں شہر کی سطح پر کمیٹیاں بنائی جائیں،جن میں علم، تقویٰ اور پرہیز گاری کے معیار پر پورے اترنے والے افراد کو کمیٹی کے رکن منتخب کیے جائیں،جو صرف اللّٰہ سے ڈرنے والے ہوں۔وہ حق سچ کے فیصلے کریں ۔مجرم مفلس ہو یا امیر اور بااثر،عہدے دار،ان پر حد جاری کی جائے،عوام بھی کمیٹی کے اراکین کا ساتھ دیں۔مجبور اور مفلس لوگ بلیک میل نہ ہو ں،ظالموں درندوں کے دست و بازو نہ بنیں ۔برے لوگوں سے نفرت کریں،برے لوگوں سے کسی بھی قسم کی جانی مالی مدد نہ لین، صرف اللّٰہ پر بھروسہ کرتے ہوئے، آپس میں اتحاد قائم کریں،اتفاق و بھائی چارے کی فضا قائم کریں ۔ان شا اللّٰہ امن و سکون ملے گا،جنگل کا قانون اور درندوں کا راج ختم ہو کر رہے گا۔