جعلی تعلیمی اسناد پرCPOآفس میں تعینات کانسٹیبل جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل منتقل

راولپنڈی سینئر سول جج (کرمنل ڈویژن) راولپنڈی و مجسٹریٹ اینٹی کرپشن وقار حسین گوندل نے جعلی تعلیمی اسناد پر دھوکہ دہی کے ذریعے پولیس میں ملازمت اختیار کرنے اور سی پی او آفس میں تعینات کانسٹیبل کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھجوا دیا ہے گزشتہ روز اینٹی کرپشن پولیس نے کانسٹیبل عابد حسین کو عدالت میں پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ مذکورہ کانسٹیبل کا سکول سرٹیفکیٹ 17 جولائی 2012 کو پڑتال کے لئے گورنمنٹ ہائی سکول کامرہ کلاں اٹک بھجوایا گیا جہاں کے ہیڈماسٹر چراغ

حسین نے اپنی رپورٹ میں سرٹیفکیٹ کو جعلی اور بوگس قرار دیا اس طرح ملزم نے دھوکہ دہی اور فراڈ کے ذریعے نہ صرف محکمہ پولیس میں ملازمت اختیار کی بلکہ ناجائز طریقے سے تنخواہیں اور مراعات وصول کرتا رہا اور محکمہ کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا عدالت نے ملزم کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر ملزم کو اڈیالہ جیل بھجوا دیا جبکہ اینٹی کرپشن پولیس نے تحقیقات مکمل

ہونے پر یکم جنوری 2014 کو سی پی او آفس میں تعینات SRC.IV کی مدعیت میں اینٹی کرپشن ایکٹ کی دفعہ 5/2/47 کے علاوہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 420، 468 اور 471 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جس میں ملزم پر الزام تھا کہ وہ جعلی و بوگس ڈومیسائل، جعلی شناختی کارڈ اور دستاویزات پر پولیس میں بھرتی ہوا اور سی پی او ہاؤس میں بطور گارد ڈیوٹی کر رہا تھا جبکہ مذکورہ کانسٹیبل 23 اکتوبر 2018 سے اشتہاری تھا جسے اینٹی کرپشن پولیس نے گرفتار کر کے 11 اپریل کو عدالت سے 2 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر گزشتہ روز عدالت نے ملزم کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھجوا دیا