خالد عمران خالد
ملک اس وقت تاریخ کے بدترین تعلیمی بحرانوں میں سے ایک سے گزر رہا ہے۔ یونیورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں کے ایڈمشن ڈیسک ویران ہوتے جا رہے ہیں۔ وہ مضامین جن کی کبھی معاشرے میں توقیر تھی، آج ان کے نام بھی جیسے زنگ آلود بورڈز پر اداس لٹک رہے ہیں۔
اردو، فارسی، ریاضی، اسلامیات، فزکس، فلسفہ، تاریخ، سوشیالوجی، شماریات، معاشیات، نفسیات، کیمسٹری، باٹنی، زوالوجی اور مختلف زبانیں—یہ سب گویا خاموشی سے اپنے زوال کی داستان سنا رہے ہیں۔
جب ایک ٹک ٹاک ویڈیو کی آمدنی، ایک ایم فل یا پی ایچ ڈی کی برسوں کی محنت سے زیادہ ہو جائے، تو پھر کون اپنی جوانی کا سرمایہ کلاس روم کی چاک اور دھول میں جھونکنے پر آمادہ ہوگا؟
یہ صرف روزگار کا مسئلہ نہیں؛ یہ ہمارے پورے تعلیمی تصور کے بحران کی علامت ہے۔
تعلیم عام آدمی کی پہنچ سے دور
والدین کے پاس فیسیں ادا کرنے کے وسائل نہیں اور جامعات کے پاس مناسب فنڈز نہیں۔ دوسری طرف نجی تعلیمی اداروں میں تعلیم ایک صنعت بنتی جا رہی ہے۔ مہنگی فیسوں کے ساتھ کاپیاں، مخصوص ٹائیاں، مونوگرام والی شرٹس اور مخصوص دکانوں سے یونیفارم خریدنے کی پابندیاں والدین کے لیے الگ بوجھ بن چکی ہیں۔
اس کے علاوہ سائنس فنڈ، لائبریری فنڈ، گراؤنڈ فنڈ، سالانہ فنڈ، بلڈنگ فنڈ، فن گالا فنڈ، مینا بازار فنڈ اور نہ جانے کون کون سے اضافی اخراجات!
غریب ماں باپ اپنے بچوں کو پڑھانے کے لیے پریشان ہیں، جبکہ تعلیم کا نظام اخراجات کی ایک طویل فہرست بنتا جا رہا ہے۔
رٹا، نمبرز اور امتحان کی دوڑ
ہمارا تعلیمی نظام بچے کے ذہن میں سوال پیدا کرنے کے بجائے اسے جوابات رٹنے پر مجبور کرتا ہے۔ نمبرز حاصل کرنے کی دوڑ نے فہم، تحقیق، تخلیق اور جستجو کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔
بچہ یہ نہیں سیکھ رہا کہ سوال کیسے پوچھنا ہے؛ اسے صرف یہ سکھایا جا رہا ہے کہ امتحان میں زیادہ نمبر کیسے حاصل کرنے ہیں۔
یہ تعلیم نہیں، تعلیم کے نام پر ایک مسلسل امتحان ہے۔
سرکاری اسکول اور گھوسٹ اسکول
سرکاری اسکولوں کا بحران بھی کم سنگین نہیں۔ بعض جگہ اساتذہ کی سیاست، بیوروکریسی، ناقص نگرانی اور جواب دہی کے فقدان نے نظام کو کمزور کر دیا ہے۔
گھوسٹ اسکولوں اور غیر مؤثر نگرانی کا مسئلہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ بعض علاقوں میں سرکاری اساتذہ شہروں میں موجود ہوتے ہیں جبکہ ان کی جگہ کم تعلیم یافتہ افراد معمولی معاوضے پر بچوں کو پڑھاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر نگرانی کا نظام ہی مؤثر نہ ہو تو تعلیم کا معیار کیسے بلند ہوگا؟
کیا نجکاری مسئلے کا حل ہے؟
اب پنجاب میں بعض سرکاری اسکولوں کو نجی اداروں یا این جی اوز کے ذریعے چلانے کی کوششیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا سرکاری تعلیمی نظام کی کمزوری کا حل صرف نجکاری ہے؟
اگر حکومت بنیادی تعلیم کی ذمہ داری سے پیچھے ہٹتی چلی جائے اور تعلیم بتدریج ایک کاروباری شعبہ بنتی جائے تو سب سے زیادہ نقصان غریب خاندانوں کے بچوں کو ہوگا۔
حکومت کو اپنی تعلیمی پالیسی کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا۔
چھٹیوں سے تعلیم تک
سردی کی چھٹیاں، گرمیوں کی طویل چھٹیاں، بارش کے باعث تعطیلات، ہڑتالیں اور مختلف انتظامی وجوہات سے تعلیمی سرگرمیوں میں تعطل—یہ سب مل کر طالب علم کے تعلیمی وقت کو محدود کرتے ہیں۔
ایک طرف نئی نسل کے کندھوں پر بھاری بستہ ہے، دوسری طرف اسے معیاری تعلیم کے لیے مطلوبہ وقت اور ماحول میسر نہیں۔
یہ تضاد ختم کرنا ہوگا۔
اشرافیہ کا الگ، عوام کا الگ نظام
پاکستان میں بیک وقت کئی تعلیمی نظام چل رہے ہیں:
سرکاری اسکول، نجی اسکول، ایلیٹ اسکول، مدارس کا نظام، گلی محلے کے اسکول، مہنگے شہری اسکول اور مختلف معیار کے نجی تعلیمی ادارے۔
یہ صورتِ حال ایک قومی سوال بن چکی ہے: کیا ایک ہی ملک کے بچوں کے لیے تعلیم کے اتنے مختلف معیار قابلِ قبول ہیں؟
اشرافیہ کے بچے بہترین تعلیمی اداروں اور بیرونِ ملک تعلیم کے مواقع حاصل کرتے ہیں، جبکہ غریب کے بچے بنیادی سہولتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔
ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ پاکستان کا مستقبل صرف چند طبقات کے بچوں کا مستقبل ہے یا پورے پاکستان کے بچوں کا؟
تعلیم: مسلمان کا زیور
اسلامی تہذیب میں تعلیم محض روزگار حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں؛ یہ انسان کی تعمیر کا وسیلہ ہے۔ مسلمان کی علمی روایت تحقیق، جستجو، غوروفکر اور کائنات کو سمجھنے کی روایت ہے۔
فارابی، رازی، ابن خلدون، ابن الہیثم اور دیگر مسلم اہلِ علم نے دنیا کو یہ بتایا کہ علم کی کوئی سرحد نہیں۔
اقبال نے کہا:
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی
یہ شعر صرف شاعرانہ تخیل نہیں، بلکہ ایک ایسے ذہن کی علامت ہے جو مسلسل آگے بڑھنے، تحقیق کرنے اور نئی دنیا دریافت کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔
لیکن افسوس کہ ہماری تعلیمی پالیسی نئی نسل کو شاہین بنانے کے بجائے اسے صرف نمبروں، ڈگریوں اور ملازمتوں کی دوڑ میں لگا رہی ہے۔
نظریاتی تربیت بھی ضروری ہے
تعلیم کا مقصد صرف کتاب پڑھانا نہیں، بلکہ کردار بنانا بھی ہے۔ نجی اور ایلیٹ تعلیمی اداروں سمیت ہر تعلیمی ادارے میں بچوں کو اپنی تہذیبی، اخلاقی اور قومی اقدار سے جوڑنا ضروری ہے۔
آزادی کے نام پر ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہیے جو بچوں کی اخلاقی تربیت اور معاشرتی اقدار کو نقصان پہنچائیں۔
سالانہ تقریبات اور تفریحی پروگرام اپنی جگہ، لیکن ان کا مقصد تعلیم، تہذیب، کردار اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہونا چاہیے، نہ کہ محض نمود و نمائش۔
معصوم ذہنوں کو ایسی ثقافتی یلغار سے محفوظ رکھنا ضروری ہے جو ان کی فکری اور اخلاقی تربیت کو متاثر کرے۔
یہ تعلیم کا مسئلہ ہے، صرف تفریح کا نہیں۔
اب کیا کرنا ہوگا؟
ہمیں ایک ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جو:
غریب اور امیر کے لیے یکساں بنیادی معیارِ تعلیم فراہم کرے۔
تعلیم کو کم خرچ اور عام آدمی کی پہنچ میں رکھے۔
گھوسٹ اسکولوں کا مکمل خاتمہ کرے۔
اساتذہ کی حاضری اور کارکردگی کا مؤثر نظام قائم کرے۔
سیاسی مداخلت اور غیر ضروری بیوروکریسی کو کم کرے۔
رٹا سسٹم کے بجائے فہم، تحقیق، تخلیق اور جستجو کو فروغ دے۔
اساتذہ کی تربیت اور معیار کو بہتر بنائے۔
نصاب میں دینی، اخلاقی، سائنسی اور قومی شعور میں توازن پیدا کرے۔
تعلیمی اداروں میں غیر ضروری فنڈز اور اضافی اخراجات کا بوجھ کم کرے۔
تعلیمی سال کے قیمتی وقت کا تحفظ کرے۔
ایک طویل المدت، مستحکم اور قومی تعلیمی پالیسی تشکیل دے۔
طبقاتی نظامِ تعلیم کے خاتمے کی طرف عملی قدم اٹھائے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قومیں صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے نہیں بنتیں؛ قومیں اپنے اسکولوں، جامعات، کتابوں، اساتذہ اور تحقیق گاہوں سے بنتی ہیں۔
اگر ہم نے آج اپنی نئی نسل کی تعلیم پر توجہ نہ دی تو آنے والا کل ہم سے سوال کرے گا کہ جب تعلیم کا سورج غروب ہو رہا تھا، اس وقت ہم کہاں تھے؟
تعلیم کا سورج غروب نہیں ہونا چاہیے۔
اسے دوبارہ طلوع کرنا ہوگا—علم، تحقیق، کردار، ایمان اور قومی شعور کے افق پر۔