پاکستان ہاکی کا زوال کیسے ختم ہوا؟

پاکستان ہاکی کی کہانی عجیب بھی ہے اور افسوس ناک بھی۔ ایک وقت تھا جب دنیا پاکستان سے ہاکی سیکھتی تھی، آج پاکستان عالمی ہاکی میں اپنی جگہ واپس حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہا ہے۔2026 کے عالمی کپ میں پاکستان نے گیارہویں پوزیشن حاصل کی ہے۔ بظاہر یہ کوئی بڑی کامیابی نہیں، لیکن ایک ایسے کھیل کے لیے جو 2014 اور 2023 میں عالمی کپ تک رسائی بھی حاصل نہ کرسکا، یہ نتیجہ مکمل مایوسی بھی نہیں۔اصل سوال مگر پوزیشن کا نہیں، سفر کا ہے۔

پاکستان نے 1971 میں پہلا ورلڈ کپ جیتا اور پھر 1978، 1982 اور 1994 میں بھی عالمی تاج اپنے نام کیا۔ چھ مرتبہ ورلڈ کپ فائنل کھیلنے والی پاکستانی ٹیم کے پاس چار طلائی اور دو چاندی کے تمغے ہیں۔ اولمپکس میں بھی تین بار پاکستان نے ہاکی کا طلائی تمغہ حاصل کیا، جبکہ 1956 سے 1984 تک مسلسل سات اولمپکس میں پاکستانی ٹیم تمغہ جیتتی رہی۔

پھر وہی ٹیم عالمی ہاکی کے نقشے پر پیچھے ہوتی چلی گئی۔1994 کے عالمی اعزاز کے بعد پاکستان 1998 اور 2002 میں پانچویں، 2006 میں چھٹی، 2010 میں بارہویں اور 2018 میں پھر بارہویں پوزیشن پر رہا۔ درمیان میں دو عالمی کپ ایسے بھی آئے جن میں پاکستان کھیل ہی نہ سکا۔یہ زوال کسی ایک کھلاڑی، کوچ یا ایک دور کی انتظامیہ کو موردِ الزام ٹھہرا کر نہیں سمجھا جاسکتا۔

اس کے پیچھے کئی برسوں میں کمزور ہونے والا پورا نظام ہے۔کبھی پاکستانی ہاکی کا راستہ اسکول سے شروع ہو کر کالج، کلب، محکمہ، ضلعی اور قومی سطح تک پہنچتا تھا۔ ہر درجے پر مقابلہ موجود تھا اور ہر میدان اگلے درجے کے کھلاڑی تیار کرتا تھا۔ جب یہ سلسلہ کمزور ہوا تو قومی ٹیم کے لیے نئے کھلاڑیوں کی مسلسل فراہمی بھی رک گئی۔ہم نے ستاروں کو یاد رکھا، ستارے بنانے والی فیکٹری بھلا دی۔ادھر دنیا کی ہاکی بدل گئی۔

کھیل تیز ہوا، آسٹرو ٹرف نے تکنیک اور فٹنس کے تقاضے تبدیل کردیے، ویڈیو اور ڈیٹا اینالیسس کوچنگ کا لازمی حصہ بن گئے۔ پنالٹی کارنر سے لے کر دفاعی حکمتِ عملی تک ہر شعبہ تخصص مانگنے لگا۔ کھلاڑی اب صرف اچھا ہاکی پلیئر نہیں، بلکہ ایک مکمل ایتھلیٹ ہوتا ہے جس کے ساتھ کوچ، فٹنس ٹرینر، فزیو، اینالسٹ، نیوٹریشن ایکسپرٹ اور اسپورٹس سائیکالوجسٹ بھی کام کرتے ہیں۔پاکستان کے پاس ہنر تو رہا، مگر جدید کھیل کے مطابق وہ ماحول اور نظام مسلسل کمزور ہوتا گیا۔ہم اکثر اس کا ملبہ کرکٹ پر ڈال دیتے ہیں۔ یقیناً کرکٹ نے پاکستان میں مقبولیت اور وسائل کے اعتبار سے ہاکی کو بہت پیچھے چھوڑ دیا، لیکن صرف کرکٹ کو ذمہ دار قرار دینا اصل مسئلے سے فرار ہے۔

اگر ہاکی کا اپنا ڈھانچہ مضبوط ہوتا تو ایک دوسرے کھیل کی مقبولیت اسے اس حد تک کمزور نہ کرسکتی۔مسئلہ کرکٹ کا عروج نہیں، ہاکی کے نظام کا زوال تھا۔2026 میں کچھ امید ضرور دکھائی دی ہے۔پاکستان نے مصر میں ورلڈ کپ کوالیفائر کے فائنل تک پہنچ کر عالمی کپ کا ٹکٹ حاصل کیا۔ عالمی کپ میں انگلینڈ سے شکست، جاپان کے خلاف فتح، ویلز سے ڈرا اور بھارت و نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد ٹیم گیارہویں پوزیشن کے مقابلے تک پہنچی۔

جنوبی افریقا کے خلاف آخری میچ شاید اس ٹیم کی موجودہ کیفیت کی بہترین تصویر تھا۔ پاکستان نے 2-0 کے خسارے سے واپسی کی، پھر 3-2 کی برتری حاصل کی، دوبارہ پیچھے ہوا، آخری لمحات میں 4-4 کی برابری کی اور پنالٹی شوٹ آؤٹ میں کامیابی حاصل کرلی۔یہ فتح عالمی چیمپیئن کی فتح نہیں تھی، مگر واپسی کی خواہش ضرور تھی۔اب ہمیں اسی خواہش کو منصوبہ بنانا ہے۔

گیارہویں پوزیشن پر تالیاں بجا کر مطمئن ہوجانا خطرناک ہوگا۔ اسے ایک انتباہ اور ایک موقع، دونوں سمجھنا چاہیے۔
پاکستان کو مختصر مدتی اعلانات نہیں، کم از کم ایک دہائی پر مشتمل مستقل ہاکی پالیسی چاہیے۔ اسکول ہاکی کو دوبارہ بنیاد بنانا ہوگا، کلبوں اور محکموں کو فعال کرنا ہوگا، ضلعی مقابلوں کا مستقل کیلنڈر بنانا ہوگا اور نوجوان کھلاڑیوں کو جدید کوچنگ، فٹنس اور اسپورٹس سائنس سے جوڑنا ہوگا۔سب سے اہم بات یہ کہ ہاکی کو افراد نہیں، ادارے بچائیں گے۔حکومتیں بدلیں، عہدیدار بدلیں، کوچز بدلیں، مگر نوجوانوں کے لیے راستہ نہیں بدلنا چاہیے۔

پاکستان ہاکی کا مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس اگلا حسن سردار یا شہباز احمد پیدا ہونے کی صلاحیت نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ شاید آج کسی گمنام بچے کو وہ میدان، کوچ اور مواقع ہی میسر نہیں جن سے کل کا عالمی ستارہ نکل سکے۔ممکن ہے پاکستان کی اگلی ہاکی کہانی بھی کسی بڑے اسٹیڈیم سے نہیں، کسی چھوٹے شہر کے خاموش میدان سے شروع ہو۔ ایک بچہ اسٹک پکڑے کھڑا ہو اور اسے ابھی یہ معلوم بھی نہ ہو کہ اس کے ہاتھ میں صرف ہاکی اسٹک نہیں، پاکستان کی اگلی امید ہے۔

1994 کے بعد 32 برس گزر چکے ہیں۔ عالمی تاج ابھی دور ہے۔ لیکن 2026 نے ایک چھوٹی سی کھڑکی ضرور کھولی ہے۔اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ اس کھڑکی سے روشنی اندر آنے دینی ہے یا اسے بھی بند کردینا ہے۔پاکستان ہاکی ختم نہیں ہوئی؛ اسے دوبارہ منظم کرنے کی ضرورت ہے۔اور شاید واپسی کا پہلا قدم یہی مان لینا ہے کہ ہمیں ماضی کے ستاروں کو تلاش نہیں کرنا، نئے ستاروں کے لیے راستہ بنانا ہے۔