صوبہ ہزارہ کے قیام کے مطالبات میں شدت، عوامی و سیاسی حلقوں کا بھرپور تحریک چلانے کا عزم

ہزارہ قومی تحریک (HQT) پاکستان کے قیام کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا ہے۔

اسلام آباد (سردار آفتاب اقبال)
ہزارہ قومی تحریک (HQT) پاکستان کے قیام کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں کراچی میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں 16 رکنی سپریم کونسل نے کثرتِ رائے سے معروف قانون دان سردارشاہد اختر ایڈووکیٹ کو ہزارہ قومی تحریک پاکستان کا متفقہ چیئرمین منتخب کر لیا۔
​اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں بتایا گیا کہ تحریک کی مرکزی کابینہ کا قیام جلد عمل میں لایا جائے گا جو تنظیم کو ملک گیر سطح پر فعال بنانے کے لیے اپنے فرائض سرانجام دے گی۔​ہزارہ قومی تحریک کی نومنتخب 16 رکنی سپریم کونسل میں سیداشرف علی ایڈووکیٹ، سمیع اللہ عباسی ایڈووکیٹ، سردارمشتاق احمد کڑلال، جمشید عباسی، سردارشاہد صدیقی، دلنواز تنولی، سردارطارق محمود کڑلال، سردارمحمد یونس کڑلال، رستم اعوان، ابرار تنولی، سردارمنصف کڑلال، مہران عباسی، سردارواجد کڑلال، سردارابوبکر وزیر اور سردارشہباز کڑلال شامل ہیں۔
​اجلاس میں شرکاء نے نو منتخب چیئرمین سردارشاہد اختر ایڈووکیٹ پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی قیادت میں تحریک اپنے مقاصد اور ہزارہ قوم کے حقوق کے لیے مؤثر کردار ادا کرے گی۔
ہزارہ ڈویژن کے عوامی و سیاسی حلقوں کی جانب سے الگ صوبہ ہزارہ کے قیام کا مطالبہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ مقامی قیادت اور شہریوں کا کہنا ہے کہ صوبہ ہزارہ کا قیام خطے کے عوام کا آئینی و بنیادی حق ہے، جسے مزید مؤخر نہیں کیا جانا چاہیے۔
ہزارہ کے شہریوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ الگ صوبے کی تشکیل سے نہ صرف علاقے میں انتظامی امور کی بہتری ممکن ہوگی بلکہ ترقیاتی فنڈز کی منصفانہ تقسیم بھی یقینی بنائی جا سکے گی۔ پشاور دور ہونے کی وجہ سے ہزارہ ڈویژن کے دور دراز اضلاع کو درپیش مسائل کے فوری حل میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔