
تحصیل کہوٹہ اور اس سے ملحقہ کشمیر کے وسیع علاقوں کی لاکھوں آبادی کے لیے قائم تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کہوٹہ آج بھی بنیادی طبی سہولیات کے حوالے سے شدید مسائل کا شکار ہے۔ یہ ہسپتال اپنے علاقے کا مرکزی طبی ادارہ ہونے کے باوجود عملی طور پر وہ سہولیات نہیں رکھتا جو ایک بڑے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کے لیے ناگزیر ہوتی ہیں۔ وقت کے ساتھ آبادی بڑھی، مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، لیکن ہسپتال کی بنیادی ضروریات وہیں کی وہیں کھڑی ہیں۔
یہ وہ حلقہ ہے جہاں سے ایم پی اے راجہ صغیر احمد پہلے بھی منتخب ہوتے رہے ہیں اور اب بھی اسی حلقے کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ مگر عوامی حلقوں میں ایک سخت سوال مسلسل گردش کر رہا ہے کہ اتنے عرصے اور مسلسل نمائندگی کے باوجود ہسپتال کی اپ گریڈیشن کے لیے عملی اقدامات کیوں صفر ہیں؟ عوام کے مطابق یہ صرف ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ ترجیحات کا مسئلہ ہے، جہاں صحت جیسے بنیادی شعبے کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایم پی اے راجہ صغیر احمد کی جانب سے ہسپتال کے حوالے سے زیادہ تر سرگرمیاں افتتاحی تقاریب، فیتہ کاٹنے اور مختلف سرکاری پروگراموں میں شرکت تک محدود رہی ہیں۔ ہر نئے منصوبے کا افتتاح تو کیا جاتا ہے، مگر اس کے بعد اس منصوبے کی عملی تکمیل اور اس کے اثرات کہیں نظر نہیں آتے۔ عوام کے مطابق یہ ایک معمول بن چکا ہے کہ آنا، افتتاح کرنا، تصویر بنوانا اور پھر معاملہ وہیں چھوڑ دینا۔
اگر ہسپتال کی موجودہ صورتحال پر تفصیل سے نظر ڈالی جائے تو مسائل کی ایک لمبی فہرست سامنے آتی ہے۔ سب سے پہلے او ٹی (آپریشن تھیٹر) کا شعبہ شدید کمی کا شکار ہے۔ یہاں تین اہم اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ سرجن کی دو پوسٹوں کی ضرورت ہے مگر اس وقت صرف ایک سرجن موجود ہے جو پورے ہسپتال کا بوجھ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی طرح گائنی اور اینستھیزیا کے شعبے میں بھی ایک ایک اہم سیٹ خالی ہے، جس کی وجہ سے آپریشنز کا نظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
یہ ہسپتال ساٹھ بیڈز پر مشتمل ہے، جو کہ ایک بڑے علاقے کی ضروریات کے مقابلے میں پہلے ہی کم ہیں۔ اس پر مزید یہ کہ چالیس بیڈز کی توسیع کا کام بھی جاری ہے، لیکن وہ منصوبہ بھی عرصہ دراز سے سست روی اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ عمارت کی تعمیر جاری ہے مگر اسے چلانے کے لیے درکار عملہ اور سہولیات موجود نہیں، جس سے یہ منصوبہ بھی ادھورا محسوس ہوتا ہے۔
ڈیٹا انٹری آپریٹرز کی چار اہم اسامیاں بھی عرصہ دراز سے خالی پڑی ہیں۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں جب ہر نظام کمپیوٹرائزڈ ہو رہا ہے، اس ہسپتال میں انتظامی ریکارڈ، مریضوں کا ڈیٹا اور روزمرہ کے امور اب بھی مکمل طور پر فعال نہیں ہو پا رہے۔ یہ کمی پورے نظام کو سست اور غیر مؤثر بنا رہی ہے۔ریڈیالوجی اور دیگر تشخیصی سہولیات بھی محدود ہیں۔ ریڈیالوجسٹ اور ریڈیوگرافر کی کمی پہلے سے موجود ہے، جس کی وجہ سے مریضوں کو ایکسرے اور دیگر ٹیسٹ کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی بار ایمرجنسی کیسز بھی تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں، جو کہ ایک سنجیدہ صورتحال ہے۔
ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ جب بھی ہسپتال کی طرف سے نئی اسامیوں یا سہولیات کے لیے ریکوزیشن اوپر جاتی ہے تو اکثر اسے منظور کرنے کے بجائے کاغذی کارروائی میں ہی روک دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات سیٹیں فراہم کرنے کے بجائے انہیں فائلوں سے ہی ختم کر دیا جاتا ہے، جو کہ اس پورے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ یہ رویہ ہسپتال کی ترقی کو مزید روک دیتا ہے اور ادارہ مسلسل کمزور ہوتا جا رہا ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ منتخب نمائندوں کی توجہ اکثر بڑے اعلانات اور تقریبات تک محدود نظر آتی ہے۔ عوام کے مطابق اصل کام وہ ہوتا ہے جو نظر نہیں آتا، یعنی اسٹاف کی فراہمی، مشینری کی اپ گریڈیشن اور اداروں کو فعال بنانا۔ مگر یہاں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔دیگر حلقوں کا جائزہ لیا جائے تو کلر سیداں، کوٹلی ستیاں اور قریبی علاقوں میں ہسپتالوں کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے گئے ہیں۔ وہاں کے نمائندوں نے نہ صرف نئی سہولیات فراہم کیں بلکہ اداروں کو فعال بھی بنایا، جس سے عوام کو براہ راست فائدہ ہوا۔ اس کے مقابلے میں کہوٹہ کا ہسپتال اب بھی بنیادی مسائل میں گھرا ہوا ہے۔
عملے کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ زیادہ تر اسٹاف راولپنڈی اور دیگر دور دراز علاقوں سے آتا ہے، مگر ان کے لیے مناسب ٹرانسپورٹ کا کوئی بندوبست نہیں۔ اس سے نہ صرف حاضری متاثر ہوتی ہے بلکہ مریضوں کی دیکھ بھال بھی متاثر ہوتی ہے۔ایسی صورتحال میں عوامی سطح پر یہ سوال شدت اختیار کر رہا ہے کہ آخر منتخب نمائندوں کی ترجیحات کیا ہیں؟ کیا صحت جیسے بنیادی ادارے واقعی ان کی ترجیحات میں شامل ہیں یا نہیں؟تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کہوٹہ کی موجودہ حالت ایک واضح پیغام دے رہی ہے کہ صرف اعلانات اور افتتاح کافی نہیں ہوتے، اصل کام وہ ہے جو زمین پر نظر آئے۔ جب تک خالی آسامیوں کو پر نہیں کیا جاتا، جدید مشینری فراہم نہیں کی جاتی اور منصوبوں کو مکمل نہیں کیا جاتا، تب تک یہ ہسپتال صرف ایک عمارت ہی رہے گا، ایک فعال ادارہ نہیں بن سکے گا۔
یہ وقت ہے کہ ایم پی اے راجہ صغیر احمد سمیت تمام متعلقہ نمائندے محض رسمی کارروائیوں سے آگے بڑھیں اور عملی اقدامات کریں۔ کیونکہ صحت کا شعبہ صرف سیاست نہیں بلکہ انسانی زندگیوں کا معاملہ ہے۔ اور اس معاملے میں تاخیر ہر دن ایک نئی محرومی اور نئی اذیت کو جنم دیتی ہے۔