
کبھی کبھی دل یہ سوال کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا واقعی ہم ایک اسلامی معاشرے میں رہتے ہیں؟ ایک ایسا معاشرہ جہاں اسلام نے عورت، مرد اور بچے، ہر انسان کی عزت و حرمت کو مقدس قرار دیا۔ مگر آج جب ہر صبح اخبار کھولتے ہیں یا موبائل فون پر خبریں دیکھتے ہیں تو روح کانپ اٹھتی ہے۔ کہیں ایک معصوم بچی درندگی کا شکار ہے، کہیں ایک کمسن بچہ اپنی معصومیت کھو بیٹھا، کہیں ایک طالبہ ہراسانی کا شکار ہے، تو کہیں ایک خاتون انصاف کی دہلیز پر برسوں سے سسک رہی ہے۔یہ خبریں اب حادثے نہیں رہیں، بلکہ معمول بنتی جا رہی ہیں، اور یہی سب سے بڑا المیہ ہے۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ معاشرہ خراب ہو گیا ہے، لیکن معاشرہ آخر بنتا کس سے ہے؟ ہم سے، آپ سے، ہمارے گھروں سے، ہماری تربیت سے، ہمارے اداروں سے اور ہماری خاموشی سے۔ جب ایک بچہ عورت کی عزت کرنا نہیں سیکھتا، جب طاقتور اپنے اثر و رسوخ کے بل پر قانون سے بچ نکلتا ہے، جب مظلوم کو انصاف کے بجائے سوالوں کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے، تو پھر ایسے جرائم جنم لیتے ہیں۔
سب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب مجرم جرم کرنے سے پہلے قانون سے نہیں ڈرتا۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ چند دن شور مچے گا، میڈیا پر بحث ہوگی، پھر سب خاموش ہو جائیں گے۔ یہی خاموشی درندوں کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ہر مرد مجرم نہیں۔ ایک باپ، ایک بھائی، ایک بیٹا اور ایک شوہر بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے جو اپنی جان تک قربان کرکے اپنے خاندان کی حفاظت کرتا ہے۔ لیکن چند درندہ صفت افراد نے مردانگی کو بدنام کر دیا ہے۔ ایسے مجرم نہ مرد کہلانے کے لائق ہیں، نہ انسان۔ ان کی پہچان صرف ایک ہے: درندہ۔
آج المیہ صرف یہ نہیں کہ بیٹیاں غیر محفوظ ہیں، بلکہ بیٹے بھی محفوظ نہیں رہے۔ درندگی نے نہ عمر دیکھی، نہ جنس، نہ رشتہ اور نہ ہی انسانیت۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں پوری قوم کو خود سے سوال کرنا چاہیے کہ آخر ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیسا پاکستان دے رہے ہیں؟
کیا ہر ماں اپنے بچے کو خوف کے ساتھ اسکول بھیجے؟ کیا ہر باپ اپنی بیٹی کے گھر واپس آنے تک بےچینی میں زندہ رہے؟ کیا ہر عورت اپنی عزت کی حفاظت کے لیے روز ایک نئی جنگ لڑے؟اگر یہی مستقبل ہے تو یہ صرف ایک خاندان کی نہیں، پوری قوم کی شکست ہے۔
ریاست کی ذمہ داری صرف قانون بنانا نہیں بلکہ اس پر سختی سے عمل درآمد بھی ہے۔ ایسا نظام ہونا چاہیے جہاں مجرم کی حیثیت، دولت، تعلقات یا طاقت اسے سزا سے نہ بچا سکے۔ انصاف اگر تاخیر کا شکار ہو جائے تو وہ انصاف نہیں رہتا، بلکہ ظلم بن جاتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے گھروں میں بھی انقلاب لانا ہوگا۔ بیٹیوں کو صرف احتیاط نہیں، بلکہ بیٹوں کو احترام، کردار، حیا اور ذمہ داری بھی سکھانی ہوگی۔ کیونکہ ایک مہذب معاشرہ صرف مضبوط قوانین سے نہیں بلکہ مضبوط کردار سے بنتا ہے۔اسلام نے عورت کو عزت، بچے کو تحفظ اور انسان کو حرمت دی ہے۔ جو شخص کسی معصوم کی عزت پامال کرتا ہے، وہ صرف قانون کا نہیں بلکہ اللہ کے احکامات کا بھی مجرم ہے۔
آج ضرورت صرف مذمت کی نہیں، بلکہ عملی اقدام کی ہے۔ خاموشی توڑنے کی ہے۔ مظلوم کا ساتھ دینے کی ہے۔ مجرم کو انجام تک پہنچانے کی ہے۔ کیونکہ جب معاشرہ مجرم سے زیادہ مظلوم سے سوال کرنے لگے، تو سمجھ لیجیے کہ زوال صرف اخلاق کا نہیں، ضمیر کا بھی ہو چکا ہے۔
آئیے عہد کریں کہ ہم ایسا پاکستان بنائیں گے جہاں کسی ماں کو اپنے بچے، کسی باپ کو اپنی بیٹی، اور کسی انسان کو اپنی عزت کے لیے خوفزدہ نہ ہونا پڑے۔کیونکہ قومیں اس وقت تباہ نہیں ہوتیں جب جرائم بڑھتے ہیں، بلکہ اس وقت تباہ ہوتی ہیں جب ان جرائم پر معاشرہ خاموش ہو جاتا ہے۔