چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر اس کے دشمن ہی ناخوش ہوں گے، ہم بھی خوش مگر چاہتے ہیں اپنوں کو نہ جوڑ کے دوسروں کی صلح کراکے ملک ترقی نہیں کرسکتا۔
راولپنڈی اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ لاہور میں اسیران کی فیملیز سے ملاقات ہوئی نورین نیازی سے بھی ملاقات ہوئی ہم عمران خان اور بشریٰ بی بی کی رہائی کے لیے کوششیں کررہے ہیں، بشریٰ بی بی چونکہ بیمار ہیں اس لیے ہم چاہتے ہیں ان کی رہائی جلد ہو، ہم نے بشریٰ بی بی کی رہائی کے لیے کوششیں تیز کردی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مردان جلسے میں اچکزئی صاحب کیوں نہیں آئے اس بارے ان سے ابھی بات نہیں ہوئی، سہیل آفریدی سے میری ملاقات ہوئی ہے اس کی تفصیل نہیں بتاسکتا، اچکزئی صاحب کو بانی نے ذمہ داری دی ہے، بانی کی ہدایات ہیں اچکزئی صاحب جو فیصلہ کریں گے انہیں فالو کرنا ہے، اچکزئی صاحب کی اگر کوئی ناراضی ہے ہم دور کریں گے، سوشل میڈیا پر کسی کا کنٹرول نہیں پی ٹی آئی کا موقف لیڈر شپ پیش کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق ہر منگل کو ہم اڈیالہ جیل آتے ہیں، 16 اکتوبر 2025ء کے بعد ہماری ملاقاتیں نہیں ہورہیں، اتنی بڑی پارٹی کے لیڈر کی ملاقاتیں روکنا جمہوریت کے لیے نیک شگون نہیں، ہماری خواہش ہے پاکستان ترقی کرے اور اس ملک کو عزت ملے، ہمیں خوشی ہے دنیا کے بڑے چودھری صلح کے لیے پاکستان آرہے ہیں آپسی تناو ختم ہونا چاہیے ورنہ یہ تناؤ نفرت میں بدلے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری درخواست ہے فیملی اور وکلاء کی ملاقات کرائی جائے، خوشی ہے بشریٰ بی بی کی سرجری کے بعد ان کی فیملی کی ملاقات ہوئی، ہمارا مطالبہ ہے بشری بی کی مکمل صحتیابی تک انہیں اسپتال منتقل کیا جائے، پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر اس کے دشمن ہی ناخوش ہوں گے، ہم چاہتے ہیں پاکستان مضبوط ہو، اپنوں کو نہ جوڑ کے دوسروں کی صلح کراکے ملک ترقی نہیں کرسکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی پر ہماری واضح موقف ہے اسے ختم ہونا چاہیے، دہشت گردوں چھپنے کی کوئی جگہ نہیں ملنی چاہیے، بانی پی ٹی آئی کی فیملی ہمارے لیے قابل عزت ہے ہم سے جو کچھ بن پارہا ہے ہم کررہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نو اپریل کا جلسہ منسوخ کرنے سے متعلق خان صاحب کا پیغام آیا تھا، بانی کی فیملی کو سیاست کو شوق ہے نہ وہ کسی عہدے کے لیے یہ سب کررہے ہیں، بانی کی رہائی کیلئے جاری کوششوں پر فیملی کا کنسرن ضرور ہے، سب کو کہا ہے جو بھی بات ہو پارٹی کے اندر کریں باہر نہ کریں، بانی کی بہنوں کے حوالے سے کسی کو سخت لہجہ استعمال نہیں کرنا چاہیئے، میں جب سے چئیرمین ہوں علیمہ خان نے کبھی کوئی ہدایات مجھے نہیں دیں، علیمہ خان نے جب بھی مجھ سے بات کی بانی سے متعلق کی ہے۔