غزہ آج صرف ایک محصور خطہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کا امتحان بن چکا ہے۔ بھوک، بمباری، تباہی اور مسلسل محاصرے کے درمیان جب دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے انسان دوست کارکن“گلوبل صمود فلوٹیلا”کے ذریعے امداد لے کر غزہ کی طرف روانہ ہوئے تو یہ دراصل انسانیت، ہمدردی اور عالمی ضمیر کی ایک علامت تھی۔ مگر اسرائیل نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ نہ صرف فلسطینیوں کے خلاف طاقت استعمال کرتا ہے بلکہ انسانی ہمدردی کی ہر آواز کو بھی دبانا چاہتا ہے۔
حالیہ دنوں اسرائیلی بحریہ نے غزہ جانے والے“گلوبل صمود فلوٹیلا”کے متعدد جہازوں کو بین الاقوامی سمندری حدود میں روک کر ان پر حملہ کیا، کارکنوں کو حراست میں لیا اور امدادی مشن کو طاقت کے ذریعے ناکام بنانے کی کوشش کی۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی افواج نے کشتیوں کا محاصرہ کیا، فائرنگ کی اطلاعات سامنے آئیں، مواصلاتی نظام جام کیا گیا اور امدادی کارکنوں کو تشدد اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بین الاقوامی پانیوں میں موجود غیر مسلح شہریوں پر حملہ کسی بھی صورت جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور کئی ممالک نے بھی اس کارروائی پر شدید ردعمل دیا ہے۔
سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ فلوٹیلا کوئی جنگی مشن نہیں تھا۔ اس میں شامل افراد مختلف مذاہب، قومیتوں اور ممالک سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ تھے جو صرف غزہ کے مظلوم عوام تک خوراک، ادویات اور انسانی ہمدردی کا پیغام پہنچانا چاہتے تھے۔ مگر اسرائیل نے انہیں بھی“خطرہ”قرار دے دیا۔ یہ رویہ دراصل اس خوف کی علامت ہے جو اسرائیل کو دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی فلسطین نواز رائے عامہ سے لاحق ہو چکا ہے۔
غزہ اس وقت انسانی تاریخ کے بدترین بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ اور امدادی ادارے مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ وہاں بھوک، ادویات کی قلت اور بنیادی سہولیات کی تباہی لاکھوں انسانوں کی جان کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ ایسے حالات میں امدادی قافلوں کو روکنا اور انسانی ہمدردی کی کوششوں پر حملہ کرنا صرف سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ اخلاقی اور انسانی جرم بھی ہے۔
اسرائیل کا مؤقف یہ ہوتا ہے کہ غزہ کی ناکہ بندی اس کی سیکیورٹی کے لیے ضروری ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا بھوکے بچوں، زخمی عورتوں اور امدادی سامان سے بھرے جہازوں سے بھی اسرائیل کو خطرہ محسوس ہوتا ہے؟ اگر ایک ریاست انسانی امداد سے خوفزدہ ہو جائے تو یہ اس کی طاقت نہیں بلکہ اخلاقی شکست کی علامت ہوتی ہے۔
گلوبل صمود فلوٹیلاپر حملے نے ایک بار پھر دنیا کی خاموشی کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ جب عالمی قوانین کمزور ممالک کے لیے سخت اور طاقتور ممالک کے لیے نرم ہو جائیں تو انصاف کا تصور بھی مجروح ہو جاتا ہے۔ اگر یہی کارروائی کسی اور ملک نے کی ہوتی تو شاید فوری پابندیاں، اقوامِ متحدہ کے ہنگامی اجلاس اور سخت بیانات سامنے آ جاتے، مگر اسرائیل کے معاملے میں عالمی طاقتوں کی خاموشی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔
پاکستان سمیت پوری مسلم دنیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس واقعے کی بھرپور مذمت کرے اور فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر آواز بلند کرے۔ صرف بیانات کافی نہیں، بلکہ سفارتی، سیاسی اور انسانی سطح پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور اقوامِ متحدہ کو اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کروانی چاہئیں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرنا چاہیے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر جن ممالک نے اس کی مذمت کی ہے انہیں فوری طور پر ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ کر کے کسی بھی ملک میں اہم اجلاس طلب کرنا چاہیے اور اس میں اسرائیل کے ان اقدامات پر اس کے خلاف سخت کاروائی اور اسے مل کر سبق سکھانے کے لیے کوئی لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے تاکہ آئندہ وہ اس قسم کی حرکات سے باز رہے۔
پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی کاز کی حمایت کی ہے اور آج بھی پاکستانی عوام کے دل غزہ کے مظلوموں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ حمایت صرف جذباتی نعروں تک محدود نہ رہے بلکہ عالمی سطح پر ایک مضبوط سفارتی مہم کی صورت اختیار کرے۔تاریخ گواہ ہے کہ طاقت ہمیشہ مستقل نہیں رہتی، مگر ظلم کے خلاف اٹھنے والی آوازیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔“گلوبل صمود فلوٹیلا”کے کارکن شاید اپنے مشن میں فوری طور پر کامیاب نہ ہو سکے ہوں، مگر انہوں نے دنیا کو یہ ضرور دکھا دیا کہ غزہ تنہا نہیں ہے اور انسانیت ابھی مکمل طور پر مردہ نہیں ہوئی۔اسرائیل شاید کشتیوں کو روک سکتا ہے، مگر انسانیت کے ضمیر کو خاموش نہیں کر سکتا۔
ضیاءالرحمن ضیاءؔ