مکتبہ حقانیہ اور خوشبو محل، ہری پور شیرانوالہ گیٹ جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ محض ایک اتفاق نہیں بلکہ ایک خوشگوار علمی سفر تھا جس نے دل و دماغ کو تازگی بخشی۔ مکتبہ کے مالک جناب نصیر احمد حقانی صاحب سے پرانی شناسائی اس ملاقات کو مزید یادگار بنا گئی۔ ان کی شفقت، خلوص اور علم دوستی نے اس نشست کو ایک روحانی تجربہ بنا دیا۔
کتب خانے میں داخل ہوتے ہی جو پہلی چیز محسوس ہوئی وہ ایک خاص طرح کی مہک تھی—یہ مہک کاغذ اور روشنائی کی نہیں بلکہ علم، فکر اور شعور کی خوشبو تھی۔ الماریوں میں سجی ہوئی کتابیں یوں محسوس ہو رہی تھیں جیسے ہر ایک اپنے اندر ایک نئی دنیا سمیٹے ہوئے ہو، جو قاری کو اپنے اندر کھینچنے کے لیے بے تاب ہو۔
نصیر احمد حقانی صاحب نے نہایت محبت کے ساتھ مختلف موضوعات پر مشتمل کتب کا تعارف کروایا۔ دینی، ادبی، تاریخی اور سائنسی موضوعات پر مشتمل یہ ذخیرہ علم کا ایک وسیع سمندر معلوم ہو رہا تھا۔ خاص طور پر اسلامی کتب کا ذخیرہ دل کو ایک عجیب سکون اور طمانیت عطا کر رہا تھا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے اس پُرہنگام دور میں جہاں ذہنی انتشار عام ہے، وہاں یہ کتب انسان کے لیے سکون کا ایک محفوظ جزیرہ ہیں۔
راقم کے نزدیک کتابیں انسان کی بہترین دوست ہوتی ہیں۔ یہ نہ صرف انسان کے علم میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ اس کی سوچ کو وسعت اور کردار کو پختگی عطا کرتی ہیں۔ آج کے جدید دور میں جہاں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل مصروفیات نے مطالعہ کی عادت کو کمزور کر دیا ہے، وہاں ایسے کتب خانے امید کی ایک روشن کرن ہیں جو علم کی شمع کو بجھنے نہیں دیتے۔
مکتبہ حقانیہ واقعی ایک ایسا علمی مرکز ہے جہاں آنے والا خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔ یہاں ہر عمر اور ہر ذوق کے لیے کچھ نہ کچھ موجود ہے۔ طلبہ کے لیے نصابی کتب، محققین کے لیے تحقیقی مواد، اور عام قارئین کے لیے دلچسپ اور معلوماتی کتابیں—یہ سب کچھ ایک ہی جگہ دستیاب ہے۔
یہاں گزرا ہوا وقت محض چند لمحوں کا نہیں بلکہ ایک مکمل تجربہ تھا۔ کتابوں کے درمیان بیٹھ کر یوں محسوس ہوا جیسے وقت تھم گیا ہو اور انسان اپنے اندر کی دنیا سے ہم کلام ہو رہا ہو۔ یہ وہ لمحے تھے جو نہ صرف یادگار بلکہ قابلِ تقلید بھی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو کتابوں سے جوڑیں اور مطالعہ کی عادت کو فروغ دیں۔ کیونکہ ایک باشعور اور مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں کتاب کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نسلیں علم و آگہی کے زیور سے آراستہ ہوں تو ہمیں کتب خانوں کا رخ کرنا ہوگا اور کتابوں سے اپنا رشتہ مضبوط بنانا ہوگا۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ نصیر احمد حقانی صاحب کے اس علمی مشن کو کامیاب فرمائے اور مکتبہ حقانیہ کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا کرے۔ یہ علمی چراغ ہمیشہ روشن رہے اور علم کے متلاشی اس سے فیض یاب ہوتے رہیں۔ واقعی، یہ جگہ کتابوں کی خوشبو سے معطر ایک ایسا محل ہے جہاں ہر آنے والا اپنے دل میں علم کی روشنی لے کر جاتا.