پاکستان کی معیشت شدید بحران کا شکار ۔ روپے کی قدر میں کمی، مہنگائی اور بیروزگاری نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی

انجینئر بخت سید یوسفزئی
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)

یہ حقیقت ہے کہ پاکستان آج ایک نازک اور پیچیدہ دوراہے پر کھڑا ہے۔ آزادی کو کئی دہائیاں گزر چکی ہیں مگر ابھی بھی ہم ان مسائل میں الجھے ہوئے ہیں جو قیامِ پاکستان کے ابتدائی دنوں میں سامنے آئے تھے۔ قوم کو آج اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ یہ وقت خوابوں سے نکل کر عملی اقدامات کرنے کا ہے۔

پاکستان کی معیشت اس وقت شدید بحران کا شکار ہے۔ روپے کی قدر میں کمی، مہنگائی اور بیروزگاری نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ روز مرہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ اور توانائی کے مسائل نے معیشت کو جمود کا شکار کر دیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ حقیقت بھی ہے کہ اگر ایماندار قیادت اور درست سمت میں پالیسی سازی کی جائے تو معیشت کو سنبھالا جا سکتا ہے۔

زراعت پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے مگر بدقسمتی سے یہ شعبہ جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق سے محروم ہے۔ پانی کی کمی، زمین کی غیر مؤثر تقسیم اور کسانوں کو سہولتیں نہ ملنے کی وجہ سے ہم اپنی صلاحیت کے مطابق پیداوار نہیں دے پا رہے۔ حالانکہ پاکستان کی زمین اتنی زرخیز ہے کہ یہ دنیا کے بڑے زرعی ممالک میں شامل ہو سکتا ہے۔

صنعتی شعبہ بھی کئی چیلنجز سے دوچار ہے۔ توانائی بحران، پالیسیوں میں عدم تسلسل اور سرمایہ کاروں کے لیے غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے صنعتوں کی ترقی رک گئی ہے۔ اگر حکومت صنعتکاروں کو سہولتیں فراہم کرے، ٹیکس نظام بہتر بنائے اور جدید ٹیکنالوجی متعارف کروائے تو پاکستان کی برآمدات میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔

سیاسی میدان میں عدم استحکام ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہر حکومت پچھلی حکومت کو ناکام ثابت کرنے میں لگی رہتی ہے۔ عوامی مسائل پسِ پشت ڈال کر ذاتی اور جماعتی مفاد کو ترجیح دی جاتی ہے۔ قوم کو ایسے سیاسی رہنماؤں کی ضرورت ہے جو سچائی، ایمانداری اور عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوں۔

دہشت گردی کے خلاف پاکستان نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں جانیں اس ملک کے امن کے لیے نچھاور ہوئیں۔ آج دہشت گردی کی شدت میں کمی ضرور آئی ہے لیکن اس کا مکمل خاتمہ ابھی باقی ہے۔ اصل ضرورت ہے کہ تعلیم، روزگار اور انصاف کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ انتہا پسندی کی جڑیں ہمیشہ کے لیے اکھاڑ پھینکی جائیں۔

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہے لیکن پاکستان اس میدان میں پیچھے ہے۔ شرح خواندگی میں اضافہ ضرور ہوا ہے مگر معیار تعلیم اب بھی کمزور ہے۔ جدید دنیا میں کامیابی کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی اور تحقیق ناگزیر ہیں۔ اگر ہم اپنی نوجوان نسل کو تعلیم اور ہنر سے آراستہ کریں تو ترقی ہمارے قدم چوم سکتی ہے۔

پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی نوجوان نسل ہے۔ آبادی کا زیادہ حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان اگر مثبت سمت میں رہنمائی حاصل کریں تو ملک کے لیے سرمایہ بن سکتے ہیں، لیکن اگر انہیں نظر انداز کیا گیا تو یہی توانائی منفی راستے اختیار کر سکتی ہے۔

صحت کا شعبہ بھی مسائل سے بھرا ہوا ہے۔ ہسپتالوں میں سہولتوں کی کمی، دیہی علاقوں میں ڈاکٹروں کی عدم موجودگی اور مہنگی ادویات نے عوام کو مشکلات میں ڈال رکھا ہے۔ ایک صحت مند معاشرہ ہی ترقی کی بنیاد رکھ سکتا ہے، اس لیے صحت کے نظام کو فوری طور پر بہتر بنانا ہوگا۔

پاکستان کے وسائل دنیا بھر میں منفرد ہیں۔ معدنیات، دریاؤں کا جال، چاروں موسم اور زرخیز زمین ایسی نعمتیں ہیں جو کسی بھی ملک کو ترقی کی بلندیوں پر پہنچا سکتی ہیں۔ مگر ان وسائل کو منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال نہ کرنا ہماری سب سے بڑی کمزوری رہی ہے۔

عالمی سطح پر پاکستان کی جغرافیائی حیثیت بے حد اہم ہے۔ یہ ملک مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کو جوڑنے والا پل ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) جیسے منصوبے پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ ان منصوبوں کو شفافیت اور منصوبہ بندی کے ساتھ مکمل کیا جائے۔

معاشرتی طور پر پاکستانی قوم ایک زندہ دل اور محنتی قوم ہے۔ قدرتی آفات ہوں یا قومی بحران، پاکستانی عوام نے ہمیشہ اتحاد اور قربانی کی مثال قائم کی ہے۔ یہی جذبہ ہمیں بتاتا ہے کہ مشکلات کے باوجود ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔

پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج اتحاد کی کمی ہے۔ ہم زبان، صوبہ، مسلک اور برادری کی بنیاد پر تقسیم ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب خود کو سب سے پہلے پاکستانی سمجھیں۔ قومی یکجہتی کے بغیر ترقی محض خواب ہی رہے گی۔

دنیا تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور عالمی تجارت کے نئے رجحانات ہمیں پیچھے چھوڑ رہے ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ ان نئی تبدیلیوں کو اپنائے، اپنی نوجوان نسل کو اس قابل بنائے کہ وہ دنیا کے مقابلے میں کھڑے ہو سکیں۔

آج کا پاکستان مشکلات میں گھرا ہوا ہے لیکن امکانات کی دنیا بھی اس کے سامنے کھلی ہے۔ اگر ہم ایمان، اتحاد اور قربانی کے جذبے کو اپنا لیں تو پاکستان دنیا کی ترقی یافتہ اقوام میں ضرور شامل ہو سکتا ہے۔ ہمیں صرف صحیح سمت اور مخلص قیادت کی ضرورت ہے۔