کلر سیداں (یاسر ملک)
ناقص تعمیراتی میٹریل کا استعمال ۔کلرسیداں،روات اور جوڑ تا کہوٹہ سڑک پہلی ہی بارش میں جواب دے گئی۔ حال ہی میں مرمت کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کیے گے مگر پہلی بارش نے ناقص کام کا پول کھول دیا ۔جگہ جگہ گڑھے پڑ گئے ۔تفصیلات کے مطابق کلر سیداں تا روات اور جوڑ تا کہوٹہ روڈز کی جاری مرمت کا ناقص معیار مون سون کی پہلی بارش میں ہی بے نقاب ہو گیا۔ بارش کے بعد نہ صرف سڑک کی سطح اکھڑنے لگی بلکہ کئی مقامات پر کھڈے بن گئے اور دونوں اطراف پانی کھڑا ہو گیا، جس سے ٹریفک کی روانی متاثر اور شہری شدید مشکلات کا شکار ہو گئے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مرمت کے دوران غیر معیاری تعمیراتی مواد استعمال کیا گیا، جب کہ تارکول میں مبینہ کالا تیل ملا کر سڑک کی مضبوطی کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا گیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سڑکوں کی خستہ حالی اس بات کا ثبوت ہے کہ منصوبہ بندی میں جلد بازی اور مفاد پرستی کو ترجیح دی گئی، نہ کہ معیار کو۔عوامی حلقوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرمت کے نام پر سرکاری خزانے کو بے دردی سے لوٹا گیا، اورسڑک کے حوالے سے اصل مسائل جوں کے توں برقرار ہیں۔مقامی شہریوں نے اعلیٰ حکام، خصوصاً وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور چیف سیکرٹری پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری انکوائری کر کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، اور سڑکوں کی معیاری مرمت کے احکامات صادر کئے جائیں تاکہ مزید مالی نقصانات سے بچا جا سکے۔