عبدالخطیب چودھری کا صحافت سے سیاست کا سفر

میں نے جب عملی صحافت کے میدان میں قدم رکھا تو جس شخص سے میری پہلی ملاقات صحافتی حوالے سے ہوئی وہ عبدالخطیب چوہدری تھے جن کی سچی لگن محنت اور اس پیشے سے لگن نہیں مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع دیا کم و بیش دو دہائیوں سے میرا ان سے تعلق رہا اس دوران کبھی بھی کوئی ایسا موقع نہیں آیا کہ جب ہمارے درمیان کسی معاملے پر تلخی آئی ہو مجھے کالم نگاری کی طرف انھوں نے ہی راغب کیا تھا۔عبدالخطیب چوہدری صحافتی حلقوں میں ایک انتہائی پر اثر شخصیت ہے

جنہوں نے ہمیشہ اسے نوجوانوں کی رہنمائی کرتے ہوئے انہیں قلم کی حرمت کا سبق دیا ہے کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو وقت کے ہجوم میں بھی اپنی پہچان خود تخلیق کرتی ہیں۔ وہ صرف نام نہیں بنتیں بلکہ ایک سوچ، ایک نظریہ اور ایک احساس میں ڈھل جاتی ہیں۔ عبدالخطیب چوہدری بھی انہی شخصیات میں شامل دکھائی دیتے ہیں جنہوں نے صحافت کو محض پیشہ نہیں بلکہ عوامی خدمت کا ایک مقدس فریضہ سمجھ کر نبھایا۔ آج جب ان کا نام آزاد کشمیر کے حلقہ ایل اے 39 جموں 6 کی سیاست میں سنائی دیتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ شاید قلم کا یہ مسافر اب عملی سیاست کے میدان میں بھی ایک نئی تاریخ رقم کرنے جا رہا ہے۔ یہ دور شور کا دور ہے۔

یہاں سچ اکثر دب جاتا ہے، نظریات مفادات کے بوجھ تلے سانس لینے لگتے ہیں اور صحافت کبھی کبھی کاروبار بنتی دکھائی دیتی ہے، مگر ایسے حالات میں اگر کوئی شخص محدود وسائل کے باوجود سچائی، دیانتداری اور عوامی مسائل کی ترجمانی کا علم بلند رکھے تو یقیناً وہ عام انسان نہیں رہتا۔ عبدالخطیب چوہدری نے پنڈی پوسٹ کے پلیٹ فارم سے یہی کام کیا۔ انہوں نے صرف خبریں نہیں لکھیں بلکہ محروم طبقات کی آواز کو طاقت دی، نوجوانوں کو اظہار کا حوصلہ دیا اور علاقائی صحافت کو نئی روح بخشی۔پنڈی پوسٹ آج جس مقام پر کھڑی ہے، اس کے پیچھے ایک شخص کی شبانہ روز محنت، قربانی اور وژن پوشیدہ ہے۔ پوٹھوہار کے دیہات، راولپنڈی کے مسائل، آزاد کشمیر کے عوامی معاملات اور عام آدمی کی آواز کو جس تسلسل کے ساتھ پنڈی پوسٹ نے اجاگر کیا، وہ محض صحافت نہیں بلکہ خدمت کا سفر محسوس ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عبدالخطیب چوہدری کا نام اب صرف ایک ایڈیٹر کے طور پر نہیں لیا جاتا بلکہ انہیں ایک سماجی سوچ رکھنے والی باوقار شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ان کی شخصیت کا سب سے خوبصورت پہلو شاید یہی ہے کہ انہوں نے ہمیشہ نوجوان نسل پر یقین رکھا۔ وہ جانتے تھے کہ قلم جب نوجوان ہاتھوں میں آتا ہے تو معاشرہ بدلنے لگتا ہے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے بے شمار نئے لکھاریوں اور نوجوان صحافیوں کو موقع دیا۔ ایک ایسے وقت میں جب بڑے ادارے صرف بڑے نام تلاش کرتے ہیں،

عبدالخطیب چوہدری نے نئے چہروں کو اعتماد دیا۔ یہ عمل صرف صحافت نہیں بلکہ کردار سازی بھی ہے۔ سیاست میں آنے والے اکثر لوگ نعروں کے سہارے عوام تک پہنچتے ہیں، مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے ماضی کی خدمات خود ان کا تعارف بن جاتی ہیں۔عبدالخطیب چوہدری کی سیاست میں آمد کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ حلقہ ایل اے 39 جموں 6 کے عوام شاید اس لیے بھی ان سے امیدیں وابستہ کر رہے ہیں کیونکہ وہ انہیں ایک ایسے شخص کے طور پر جانتے ہیں جو برسوں سے لوگوں کے مسائل سن رہا ہے، ان کے دکھ محسوس کر رہا ہے اور ان کی آواز ایوانوں تک پہنچانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عبدالخطیب چوہدری کی شخصیت میں صحافت کی جرات، سماجی خدمت کا جذبہ اور قیادت کی بصیرت ایک ساتھ دکھائی دیتی ہے۔

ان کے قریب رہنے والے لوگ اکثر کہتے ہیں کہ وہ تعلق نبھانے والے انسان ہیں۔ وہ صرف کیمرے اور خبروں تک محدود نہیں رہتے بلکہ مشکل وقت میں لوگوں کے ساتھ کھڑے بھی نظر آتے ہیں۔ یہی وہ اوصاف ہوتے ہیں جو کسی انسان کو محض مقبول نہیں بلکہ قابلِ احترام بنا دیتے ہیں۔آزاد کشمیر کی سیاست ایک حساس اور نظریاتی سیاست سمجھی جاتی ہے۔ یہاں لوگ صرف وعدے نہیں بلکہ کردار بھی دیکھتے ہیں۔ ایسے ماحول میں عبدالخطیب چوہدری کی انٹری یقیناً ایک نئی بحث کو جنم دے رہی ہے۔

لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا واقعی ایک صحافی عوامی سیاست میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے؟ اگر تاریخ دیکھی جائے تو جواب ہاں میں ملتا ہے، کیونکہ جو شخص برسوں عوام کے مسائل کو قریب سے دیکھتا اور محسوس کرتا ہو، وہ اقتدار میں آ کر شاید ان مسائل کا حقیقی حل بھی بہتر انداز میں دے سکتا ہے۔وقت شاید عبدالخطیب چوہدری کے لیے ایک نئے باب کا آغاز لکھ رہا ہے۔ قلم سے عوامی شعور بیدار کرنے والا یہ شخص اب عملی سیاست کے ذریعے خدمت کا دائرہ وسیع کرنا چاہتا ہے۔

آنے والے دنوں میں سیاسی منظرنامہ کیا رخ اختیار کرتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا، مگر ایک حقیقت واضح ہے کہ عبدالخطیب چوہدری نے اپنی محنت، دیانت اور خلوص سے جو مقام حاصل کیا ہے، وہ انہیں عام سیاسی شخصیات سے مختلف بناتا ہے۔بعض لوگ اقتدار کے ذریعے پہچانے جاتے ہیں اور بعض لوگ اپنے کردار سے۔ عبدالخطیب چوہدری بلاشبہ دوسری صف میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔